امریکہ میں پرتشدداحتجاج اور اور فسادات میں شدت | مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
واشنگٹن// امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج و مظاہرہ کو روکنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد احتجا ج و مظاہرہ اور فسادات میں مزید شدت آگئی۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو چرچ جانے کے لیے راستہ صاف کیا۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے فوج بھیجنے کے بیان کے بعد احتجاج میں شدت آگئی اور وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ساتویں روز بھی فسادات پھوٹ پڑے ۔مظاہرین نے لاس اینجلس میں ایک شاپنگ مال کو نذر آتش کیا اور نیویارک سٹی میں اسٹورز میں لوٹ مار کی۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘‘کشیدگی کے خاتمہ تک میئرز اور گورنر قانون کی سخت عمل داری قائم کریں’’۔ان کا کہنا تھا کہ‘‘اگر کوئی شہر یا ریاست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے انکار کرے تو امریکہ کی فوج تعینات کردوں گا اور ان کے مسائل فوراً حل ہوں گے ’’۔ڈونلڈ ٹرمپ بیان جاری کرنے کے بعد اسی راستے سے سینٹ جانز چرچ پہنچے جس کو پولیس نے مظاہرین سے صاف کروایا تھا۔خیال رہے تاریخی چرچ کو گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران معمولی نقصان بھی پہنچا تھا۔وائٹ ہاؤس میں مظاہرین کے خلاف تعینات کی گئیں فورسز میں ملیٹری پولیس نیشنل گارڈ، سیکرٹ سروس، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی پولیس اور کولمبیا کی ضلعی پولیس شامل ہے ۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ علاقے کو کرفیو کے نفاذ کے بعد خالی کروالیا گیا ہے ۔واشنگٹن میں فسادات کے گد ہزاروں مظاہرین نے بروکلین کی گلیوں میں مارچ کیا اور ‘اب انصاف’ کے نعرے لگائے جبکہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے کئی شہریوں نے بھی ان کی حمایت کی۔ٹیلی ویژن میں دکھائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رات کے کرفیو کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی مین ہٹن کے ففتھ ایونیو میں کھڑکیاں توڑی گئی ہیں اور مہنگی اشیا کو لوٹا جارہا ہے ۔ہالی ووڈ سے موصول ہونے والی فوٹیجز میں بھی ایک میڈیکل اسٹور میں شہریوں کو لوٹ مار کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے جہاں اسٹور کا دروازہ، کھڑکیاں توڑی جا چکی ہیں۔مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر دو ریستوانوں کو نقصان پہنچانے سے قبل ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو ناکام بنادیا۔خیال رہے کہ امریکی ریاست مینی سوٹا میں گزشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں 46 سالہ سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاج شروع ہوا تھا اور رات کو فسادات میں تیزی آتی ہے جو مسلسل جاری ہے ۔یواین آئی
 

تازہ ترین