تازہ ترین

دھونی کی وجہ سے ملی کپتانی: وراٹ

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی/ہندستان کے تینوں فارمیٹ کے کپتان وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ ان کے پیشرو مہندر سنگھ دھونی کے بھروسے کی وجہ سے ہی انہیں ٹیم انڈیا کی کپتانی ملی۔وراٹ نے اپنے ٹیم کے ساتھی اور آف اسپنر روی چندرن اشون کے ساتھ یو ٹیوب پر بات چیت میں کہا کہ دھونی ان کی میچ حالات کو پڑھنے کی صلاحیت سے بہت متاثر تھے اور کپتانی حاصل کرنے میں دھونی کا یہی اعتماد ان کے حق میں گیا۔31 سالہ وراٹ 2014-15 میں دھونی کے آسٹریلوی دورے میں ٹیسٹ سیریز کے درمیان میں کپتانی چھوڑنے کے بعد کپتان بنے تھے۔انہوں نے 2017 کے شروع میں محدود اوورز کی کپتانی بھی سنبھالی تھی۔وہ ہندستان کے تینوں فارمیٹ کے کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیم کے سرفہرست بلے باز بھی ہیں۔وراٹ دھونی کو پیچھے چھوڑ کر ہندستان کے سب سے زیادہ کامیاب ٹیسٹ کپتان بھی بن چکے ہیں۔اپنی کپتانی میں ہندستان کے لئے 55 میچوں میں 33 میچ جیت چکے وراٹ نے کہا کہ وکٹ کیپر دھونی کے ساتھ سلپ میں فیلڈنگ کرتے ہوئے گیندوں کے درمیان میں وہ دھونی سے برابر بات کرتے رہتے تھے جس سے انہیں کپتان کا اعتماد جیتنے میں مدد ملی۔وراٹ نے کہا کہ جب آپ اپنے کپتان سے مسلسل بات کرتے ہیں، ان کے ساتھ میچ کے حالات پر بحث کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں مشورہ دیتے ہیں اس سے آپ کو اپنے کپتان کا بھروسہ جیتنے میں مدد ملتی ہے۔میں ہمیشہ ایم ایس کے پاس رہتا تھا اور ان کے پاس کھڑے ہو کر کہتا تھا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں، ہمیں یہ کرنا چاہئے، آپ کا کیا خیال ہے۔وراٹ نے کہا کہ دھونی کئی باتوں سے انکار بھی کر دیتے تھے لیکن وہ کافی باتوں پر بحث بھی کرتے تھے۔مجھے لگتا ہے کہ انہیں اس بات کا بھروسہ ملا ہو گا کہ ان کے بعد میں کپتانی سنبھال سکتا ہوں۔انہوں نے مجھے طویل عرصے تک دیکھا کہ میں حالات کو کس طرح سمجھتا ہوں اور مجھے کپتان بنانے میں ان کا یہی بھروسہ میرے حق میں گیا۔کرکٹ کے لئے جنون والے ملک ہندستان میں ٹیم انڈیا کی کپتانی سنبھالنا کافی پرخطر کام سمجھا جاتا ہے لیکن وراٹ نے کانٹوں بھرے اس تاج کو بخوبی سنبھالا ہے اور خود کو ملک کا بہترین ٹیسٹ کپتان ثابت کیا ہے۔ہندستان کو اپنی کپتانی میں 2008 میں انڈر -19 ورلڈ کپ کا خطاب دلا چکے وراٹ نے کہا کہ میں اسے اس طرح دیکھتا ہوں کہ اگر مجھے یہ موقع ملتا ہے تو مجھے بہت محنت کرنی پڑے گی کیونکہ سب کو یہ موقع نہیں ملتا ہے۔میں ہمیشہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار رہتا ہوں لیکن ایمانداری سے کہوں تو ہندستان کا کپتان بننا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔وراٹ کی کپتانی میں بھارت اکتوبر 2016 سے حال تک ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ایک رہا تھا اور اس مہینے ہی آسٹریلیا نے ہندستان کو سرفہرست جگہ سے معزول کیا تھا۔یو این آئی۔