تازہ ترین

ایک دہائی بعد امریکی سر زمین سے خلاء نورد خلا میں روانہ

تاریخ    1 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نیویارک//تاریخ میں پہلی بار نجی کمپنی کی خلائی گاڑی کے لیے تقریبا ایک دہائی بعد امریکا سے 2 خلانوردوں کو عالمی خلائی اسٹیشن بھیج دیا گیا اور وہ اس وقت کامیابی سے زمین کی کشش ثقل سے بھی نکل چکے ہیں اور وہ کچھ ہی گھنٹوں بعد اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔امریکی سر زمین سے آخری بار 2011 میں خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن بھیجا گیا تھا جس کے بعد امریکی تحقیقی ادارے (ناسا) کی خلانوردوں کو خلا میں لے جانے والی گاڑی کو ریٹارئرڈ کردیا گیا تھا۔گزشتہ 9 سال سے امریکا اپنے خلانوردوں کو روس کی گاڑیوں کے ذریعے قزاقستان میں بنے اسپیس اسٹیشن سے بھیج رہا تھا اور اس ضمن میں امریکا سالانہ اربوں ڈالر کی رقم روس کو فراہم کر رہا تھا۔لیکن اب تقریبا ایک دہائی بعد امریکا نے خلا میں خلانوردوں کو بھیجنے کے لیے ایک بار پھر اپنی سر زمین کا استعمال کرتے ہوئے نجی خلائی تحقیقاتی کمپنی اسپیس ایکس کی خلائی گاڑی کریو ڈریگن نامی راکیٹ یا جہاز کے ذریعے خلانوردوں کو خلا میں بھیج دیا۔ناسا اور اسیپس ایکس کے اس تاریخی مشترکہ منصوبے کا افتتاح 30 اور 31 مئی کی درمیان شب تقریبا ڈیڑھ بجے کیا گیا اور خلانوردوں کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلا میں روانہ کیا گیا۔کینیڈی اسپیس سینر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں تاریخی مشن کے آغاز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ناسا اور اسپیس ایکس نے بھی کریو ڈریگن کے کامیاب سفر پر خوشی کا اظہار کیا اور ناسا نے اس بات کی تصدیق بھی کردی کہ ڈریگن خلائی گاڑی کی لانچ سے تقریبا 30 منٹ بعد اور زمین سے 300 کلومیٹر کی اونچائی سے راکٹ خلائی گاڑی سے خود الگ ہوکر سمندر میں موجود اسپیس ایکس کی کشتی پر آ گیا اور اسی راکیٹ کو دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکے گا۔خلائی گاڑی 19 گھنٹوں میں اپنا مدار بتدریج بڑا کرتے کرتے پاکستانی ٹائم کے مطابق 31 مئی کی شام 7 بجے تک عالمی خلائی سٹیشن سے جڑ جائے گی، اس کے بعد مشن کنٹرول ٹیم کی اجازت کے بعد خلائی گاڑی اور عالمی خلائی اسٹیشن کا درمیانی دروازہ کھولا جائے گا اور اس طرح امریکی خلاباز اپنی سرزمین سے لانچ ہونے کے بعد اپنا سفر مکمل کریں گے۔ابتدائی طور پر یہ تاریخی مشن 3 دن قبل 27 مئی کو شروع ہونا تھا مگر موسم کی خرابی کے باعث مشن کو تین دن کی تاخیر کے بعد روانہ کیا گیا۔خلا میں بھیجی گئی گاڑی میں یوں تو مجموعی طور پر 7 افراد کے سفر کرنے کی گنجائش ہے مگر اس میں محض 2 خلانوردوں باب بہنکن اور ڈو ہرلے کو بھیجا گیا اور ان کے ساتھ گاڑی میں خلائی اسٹیشن کے لیے سامان کو بھی بھجوایا گیا۔
 

تازہ ترین