افغانستان میں طالبان کا حملہ، 14 فوجی ہلاک

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
کابل//مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی سیز فائر کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔طالبان نے پکتیا صوبے میں کیے گئے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور اسے ایک دفاعی حملہ قرار دیا البتہ انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں ۔افغان حکام نے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن ضلع داندے پتن کے گورنر عید محمد احمدزئی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار اور 20 طالبان مارے گئے ۔افغانستان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر آفس کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا کہ بے ترتیب جھڑپوں کے علاوہ عید کے تین دن سیز فائر کا احترام کیا گیا جہاں اس سیز فائر کا خاتمہ منگل کو ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سیز فائر ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لئے بہترین تعاون درکار ہوتا ہے اور ہم نے یہ کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔طالبان نے بدھ کو حکومت پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا تھا جس میں کئی شہری ہلاک ہو گئے تھے البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف طالبان جنگجو تھے ۔دونوں فریقین ہی مکمل طور پر جنگ پر آمادہ نظر نہیں آتے اور چند اکا دکا جھڑپوں کے باوجود عیدالفطر پر شروع ہونے والا سیز فائر اب بھی جاری ہے ۔ادھر طالبان اور افغان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے گفتگو کے لئے طالبان کا 5 رکنی وفد کابل میں موجود ہے ۔یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کابل انتظامیہ اب تک 2 ہزار طالبان قیدی رہا کر چکی ہے جبکہ طالبان نے 347 قیدیوں کو رہا کیا ہے ۔
 

تازہ ترین