غزلیات

تاریخ    31 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا
یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا
 
رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا
پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا
 
سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا
بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا
 
پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے
میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا
 
چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے
ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا
 
ہم ملیں یا نہ ملیں اب کے مقّدر جاویدؔ
ایک اْمید کی لو دل میں جگائے رکھنا
 
سردارجاویدخان
پتہ، مہنڈر، پونچھ
موبائل نمبر؛ 9697440404
 
 
 
یہ خنجر بھی اے میری جاں جگر کے پار ہو جائے
جو روٹھا ہے کسی باعث وہ پھر بیزار ہوجائے
محبت کا ستم بھی آپ میں اک آشنائی ہے
کرم یہ اب کے میرے دل قرابت دار ہوجائے
یہ صہبائے خودی مٹی میں مل کے چُور ہوجائے
وہ ساقی کاش آئے ، ریگِ راہ گلزار ہوجائے 
زباں کا تیر ترکش میں ہی اٹکا ہے تو دیوانے 
قلم کی نوک سے جذبات کا اظہار ہوجائے
نہ آئیں اب کے تیرے جال میں لذت کے پروانے
تیرا بھی ذائقہ اے شمع دعویدار ہو جائے
مسیحائی تیری دم پھونک کے احساں جتاتی ہے 
یہ تھوڑی جان بھی اے یار اب ناچار ہو جائے
کفِ آفاقؔ پرْ افشاں ہے اے ساقیٔ میخانہ
سُبو تیرا بھی اس آزار سے بیمار ہوجائے
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،موبائل نمبر؛ 7006087267
 
 
بے گناہوں کو سزائیں دے رہی سرکار ہے
ملک کا ہر شخص دیکھو ہوگیا بیزار ہے
ڈوبنے والے مسافر کچھ اکیلے تو نہیں
غرق کورونا کے سمندر میں میرا سنسار ہے
ساتھ دینا چاہئے مظلوم کا ہر موڑ پر
یہ نہ سوچو دوستو اب راستہ دشوار ہے
دیکھ کے چلنا ذرا بازی گروں کے شہر میں
سازشوں کا گرم یاں پر ہر طرف بازار ہے
بے سہاروں کو کچلتا جارہا لشکر کوئی
بے خبر انجام سے مغرور یہ سردار ہے
راکھشس انساں دکھے، ہوشیار رہنا تو سعیدؔ
کررہا ہے وہ ادا شیطان کا کردار ہے
 
سعید احمد سعید
احمد نگر سرینگر،
موبائل نمبر؛9906355293
 
بےخودی میں تمہیں گنگناتے رہے
 
مسکراہٹ میں آنسو چھپاتے رہے
تم نے بخشے ہیں جو آنسوئوں کی طرح
 
وہ دئے ہم جلاتے بجھاتے رہے
ان پہ نظریں ہماری جمی ہی رہیں
 
جو ہمیشہ نظر کو چراُتے رہے
اس کو دیوانگی ہی ہماری کہو
 
جان دشمن پہ اپنی لُٹاتے رہے
خود تڑپ کر ستمگر کی باہوں میں ہم
 
اپنے زخموں کو گہرا بناتے رہے
موت گلیوں میں آزاد پھرنے لگی
 
گھر کو ہم قید خانہ بناتے رہے
راستے میں پڑے پتھروں کو ثمرؔ
 
جانے کیوں حال ِدل ہم سناتے رہے
 
سحرش ثمر فردوس نگر ۔ علی گڑھ
 

تازہ ترین