لداخ ایک نئی سلامتی فکر مندی کا باعث

بیجنگ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا،دلّی ہوشمندی سے کام لے

تاریخ    30 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


بینو جوشی
آج تک بھی کشمیر مستحکم نہیں ہوپایا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں صورتحال کی نزاکت کی اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ کشمیرپر قریبی نگاہ رکھنے والے مبصرین نے اپنی ڈائریاں لکھی ہیں اور وہ لب کھولنے کے منتظر ہیں۔ یہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی کہانی کا ایک حصہ ہے ۔ دوسری طرف دوسرے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ غیر واضح عنوانات کے ساتھ قومی میڈیامیں شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ سینہ ٹھونکنے والا میڈیا ،جسکے پاس نہ ختم ہونے والاذخیرہ الفاظ اور اکسانے والے محاوروں کی بہتات ہے ،آج یا توخاموش یا صرف بڑ بڑا رہا ہے ۔
اس تبدیلی کی وجوہات ٹی وی اینکروں اور اخبار نویسوں کو زیادہ معلوم ہیں۔ وہ نیپالی اور ہندوستانی فوجوں کی تعداد کے مابین مضحکہ خیز موازنہ کی سطح پر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یہ مضحکہ خیزی سے کم نہیں ہے اور اُس وقت زیادہ ہی مضحکہ خیز بن جاتا ہے جب بھارت کے ایک اٹوٹ انگ سابق ریاست جموںوکشمیر کے ایک حصہ یعنی لداخ کے علاقے میں کافی اندرچینی دراندازی کے پس منظرمیںاس کا مطالعہ جائے۔  
چین اور وسطی ایشیاء کے معاملات پر عقابی نگاہ رکھنے والے ایک معروف سکالر پی سٹوبڈن نے 26مئی2020کے انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون میںنے 1980 کی دہائی سے چینی جارحیت کی خطرناک حد تک روشنی ڈالی جوکئی سو میل تک پھیل گئی اور تب سے مستقل شکل اختیار کر گئی۔ لداخ جانتا ہے کہ وہ کیا،کیسے اور کیوں کھورہا ہے۔ سٹوبڈن نے ’’لداخ انتباہ‘‘کے عنوان سے اپنے بصیرت انگیز مضمون میں اس کی مکمل وضاحت کی ہے۔ اس انتباہ پر دھیان دینے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
میرا اپنانکتہ نظر ہے کہ ہندوستان کو چینی جارحیتوں کا جواب دینا چاہئے تاہم اس جوابی ردعمل کوٹھوس شکل دینے سے قبل بھارت کوپہلے اس مسئلہ کو ایڈرس کرکے مختلف زمروں میں تقسیم کرنا ہوگا۔ 1962 کی ہند۔چین جنگ اور اس کے نتائج ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن ملک میں بہت سے لوگ اس کو صرف ِ نظر کرکے ایسا تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ تاریخوں کو وسوسوں اور خواہشات نیز اپنی پسند و ناپسند کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
نئے حقائق یہ ہیں کہ 58 سال بعد ہندوستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ چین اسے تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہندوستانی طاقت کے اس اعتراف کے باوجود ، چین یہ سب کر رہا ہے تو اس کی کوئی وجہ ضرور ہونی چاہئے۔ اور یہ کیا ہوسکتا ہے۔ اس سوال کے معروضی جواب کی ضرورت ہے۔
میرے مطابق وہ تمام ماہرین جو یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ چینی جارحیت کی وجہ یہ ہے کہ چین دنیا سے ناول کورونا وائرس کی وبا کو چھپانے کے اپنے کردار سے اپنی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور اس کیلئے وہ لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب یا ہندوستانی علاقے کے اندر جارحیت کر رہا ہے،دراصل خود ساختہ وہم اور فریب ہے ۔ حقیقت پسندی سے کام لیںتووہ امریکہ اور چین کے مابین لڑائی ہے۔ امریکہ نے وائرس پر قابو پانے میں بہت خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے ایک لاکھ سے زیادہ جانیں اس وائرس کی گنوائیں۔ یہ نیو یارک ٹائمز کے صفحات پرتفصیلات کے ساتھ موجود تھیں۔ چین کو جائز یا ناجائز طور اس وائرس کو دنیا پر حملہ آور کرنے کے الزام لگانے کی بجائے واشنگٹن کو اپنی اموات کے گراف سے کہیں زیادہ شرمندگی ہونی چاہئے۔ اس نظریہ کامشرقی لداخ میں چینی دراندازیوں کے ساتھ کیا لینا دیناہے؟ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
فوجی لحاظ سے امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ چین کی طرف سے واشنگٹن کو انتہائی واضح الفاظ میں بتایا گیا جب اس نے ہانگ کانگ کے لئے نئے سکیورٹی قانون پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ، کہ بیجنگ کو کسی بھی طرف سے مداخلت پسند نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کچھ بھی کہہ رہے ہوں یا کوئی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہوں ،تلخ حقیقت یہ ہے کہ چین پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے
تائیوان کے ساتھ بھی اس کی لفاظی جنگ کا ہماری فکرمندی اور معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اگر چین ان تمام امور سے توجہ ہٹاناچاہتا ہے تو لداخ بھارت کا ہی انتخاب کیوں کرے اور وہ بھی لداخ میں۔
چلو اگر مان بھی لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے ، تو پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ چین بھارت کے ساتھ یہ سب کچھ خود بھارت کو چھوڑ کربغیر کسی چیلنج کے کرسکتا ہے؟۔ بھارت اتنا مضبوط ہے کہ وہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں کے ذریعہ درپیش چیلنج کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ ہندوستان کو ایک حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ قومی سلامتی اور سالمیت کامعاملہ بھی ہے۔
اور ایک بات واضح ہے کہ ہندوستان کو اُس فوجی آپشن کو منتخب کرنے کے فتنہ ،خواہش یافریب سے بچنا چاہئے جو شایدزیر بحث ہو۔وائرس کی وجہ سے پیداشدہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ۔حکمت عملی کے لحاظ سے موزوں حد سے آگے کوئی بھی فوجی ردعمل لا حاصل ہوگا۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے لیکن سرحدوں پر لڑنے کیلئے کچھ اور بھی ہے۔ اب جنگ مارکیٹوں ، اسٹاک ایکسچینج اورباقی محاذوں پرلڑی جاتی ہے۔چین کی اپنی معاشی حالت بھی پہلے جیسی نہیں ہے۔ اس کوبھی بھاری اور سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔چین عالمی ادارہ صحت کے پلیٹ فارم پر 100 سے زیادہ ممالک کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو روکنے سے قاصر ہے لیکن اس نے ایک مقصد کے تحت جارحانہ انداز کا انتخاب کیا ہے۔ اس کا پہلے تجزیہ کرنا ہوگا۔
اس سارے مسئلے کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ہوشیاریا سمارٹ سفارت کاری۔ اس کو ہندوستانی سیاق و سباق میں سرنو ایجاد کرناہوگا۔ ہندوستان اپنی طاقت اور قابلیت کے بغیر نہیں ہے اور اس کے پاس تذویراتی اہداف کے حصول کے لئے عقل کے استعمال کیلئے بے بدل عقلمندی اور دانش مندی موجود ہے ۔ اس کو اُس سب سے تھوڑا آگے بڑھنا ہوگا جس سے سمارٹ ڈپلومیسی تشکیل پاتی ہے۔ فوری کام چین کے ساتھ بات چیت شروع کرنا ہے ، کمزوری کی سطح پرنہیں بلکہ مساوی طاقت کی سطح پر۔ چین یا حتیٰ کہ نیپال جیسے چھوٹے ملک کے خلاف ہمالیائی انا استعمال کر نے کا مطلب تعلقات خراب کرنا ہے۔ہندوستان کو اپنے سٹرٹیجک کارڈ ہاتھ میں لے کر بات کرنی چاہئے۔چین کی محض فوجی طاقت کے ذریعہ بھارت کو ڈرا یا دھمکایا نہیںجاسکتااور نہ ہی جنگ کی جانب دھکیلا جاسکتا ہے۔ بھارت چینی سامان کی ایک عظیم منڈی ہے۔ چین کو اس کا بخوبی ادراک ہے اور امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو دیکھتے ہوئے بھارت کو ناراض کرنے سے بیجنگ کیلئے صرف جنوبی ایشیاء میں ہی نہیں بلکہ باقی جگہوںپر سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ چین اس حقیقت سے غافل نہیں ہے۔بیجنگ کو پیچھے ہٹنے کو کہنے کے لئے اس کا فائدہ اٹھانے اورہوشمندی کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ بیجنگ بہت زیادہ محاذ کھولنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ عالمی طاقت بننے کا اس کا خواب اس سے پورا نہیں ہوسکتا ہے جو کچھ یہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر لداخ میں کررہا ہے۔بھارت کو اپنے اہداف کے حصول کیلئے چبنے سے پیدا ہونے والے درد پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے ایک تذویراتی موقف اپناناچاہئے۔
��������
(بشکریہ گریٹر کشمیر،29مئی2020،مترجم ریاض ملک)
 رابطہ :  binoojoshi61@gmail.com
 

تازہ ترین