تازہ ترین

دستکاری کشمیر کی گھریلو صنعت

بیروزگاری سے نمٹنے کیلئے اس کا فروغ ناگزیر

تاریخ    29 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


امتیاز خان
جموں کشمیر میں بے روزگاری اور معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔بے روزگاروں کی شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ایک طرف لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان بے روزگار ہیں تو دوسری جانب مہنگائی عروج پر ہے۔بے روز گاری فی الوقت دنیا میں ایک بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو غریب اور ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں بھی روزگار کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے تخریب کاری نے جنم لیا ہے۔ اگر ترقی یافتہ معاشروں کی حالت بگڑسکتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کہاں کھڑے ہیں کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں بے روزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے ۔ 
 وادی کشمیر ان دنوں گونا گوں مسائل سے دو چار ہے ،سماجی اور معاشی تانا بانا الجھاہوا ہے۔ سماج کا ہر طبقہ بھلے ہی اس کا اظہار نہ کرے لیکن اندر ہی اندر ایک بے یقینی، ایک خلش اورایک الجھن کا شکار ہے۔اگرچہ سرکاری ملازمین لاک ڈائون کے باوجود دیر یا سویر اپنی تنخواہیںحاصل کرلیتے ہیں لیکن نجی شعبوں میں کام کررہے نوجوانوں کی اکثریت نہ صرف تنخواہوں سے محروم ہیں بلکہ آئے روز روزگار سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ معاشی ترقی اور کشکول توڑ دینے کے روایتی نعرے حقیقی سماجی حالات سے کسی طور میل نہیں کھاتے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ دور میں بھی بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے وادی میںدستکاری شعبے جیسے وسائل کی فراوانی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نوجوان طبقہ نے ان وسائل کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
برسرروزگار، تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان ہی کسی ملک اور قوم کی داخلی معیشت اوروقار کے استحکام کا باعث ہوتے ہیں۔بے روزگاری کسی بھی سطح پر ہو، یہ اولاد آدم کا استحصال ہوتی ہے۔ استحصال اسی شکل میں تولد پذیر ہوتاہے جب ذرائع پیداوار مخصوص طبقات کی مٹھی میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ وسائل، تعلیم، ذرائع اور ٹیکنالوجی کی بے تحاشا ترقی کے باوجود دنیا بھرمیںنوجوانوں  کی اکثریت بے روزگاری کا شکارہے۔ ان وسائل کو پشت بہ دیوار کرنے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوااور نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ پرائیویٹ اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔ 
کشمیرمیں روزگار کے وسائل کی طرف اگر نظردوڑائیں تو ماضی قریب تک کشمیر میںسرکاری ملازمتیں روزگار کا بنیادی وسیلہ نہیں تھا بلکہ عوام کی غالب اکثریت زراعت،باغبانی یادستکاری صنعت سے وابستہ تھی۔تاریخ کے ارتقاء نے کشمیر میں روزگار کانقشہ ہی بدل دیا ۔ لوگوں نے اچانک سرکاری نوکریوں کو نہ صرف اپنے اور اپنی اولاد کیلئے منزل قراردینا شروع کردیا بلکہ اپنی صدیوں پرانی روایات بالخصوص دستکاری شعبے کو یکسر نظرانداز کیا جانے لگا۔ دستکاریوںکو کشمیرکی معیشت کا ایک بڑا سیکٹرتصور کیا جاتا تھا ۔حالانکہ اس شعبہ کی بدولت آج بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ روزگار حاصل کررہا ہے ۔ قالین بافی ، نمدے یا گبہ سازی، پیپر ماشی، اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگاری کا کام، شال بافی وغیرہ قدیم صنعتوں میں شامل ہیں ۔یہ دستکاریاںہماری تہذیب اور ثقافت کا ایک حصہ ہیں اور ان سے کشمیر کی الگ ایک پہچان ہے لیکن افسوس کہ ان دستکاریوں کی سرکاری طوربھی سرپرستی نہیںکی گئی ۔اس پر طرہ یہ کہ خود صدیوں سے اس صنعت سے وابستہ عوام نے بھی اس کو نہ صرف پس پشت ڈالا بلکہ اس کے ساتھ وابستگی کو اپنی توہین سمجھا جس کی بنا پر آج یہ صنعت اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ موجودہ وقت میں جو کاریگر اِن دستکاریوں سے وابستہ ہیں، اْن میں سے بیشتراسلئے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ اِن دستکاریوں سے وابستگی انہیں اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر آج بھی اس صنعت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے گی تو نہ صرف روزگارپر آئے روز بادل منڈلانے کے خطرات کم ہوسکتے ہیں بلکہ بے روزگار لوگوںکی ایک کثیر تعدادکیلئے آمدنی کا بہترذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گھریلو دستکاریوںکو بڑھاوا دینا اورترقی دینا وقت کی اشد ضرورت ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں روایتی پیشوں اور مجموعی طور محنت مزدوری کے تئیں ایک منفی سماجی رویہ بن چکا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق جموں کشمیر میں محنت سے جڑے شعبوں میں تقریباً45لاکھ ہنرمند یا غیرہنرمند مزدور ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے کام جیسے باغبانی، کھیتی باڑی اور تعمیراتی کاموں میں غیرمقامی مزدوروں کا غلبہ ہے۔عمومی طور پر غیر ہنرمند اور ناخواندہ بیروزگار افراد کی بیروزگاری کا ذمہ دار ان کے ان پڑھ ہونے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر کشمیرمیں پڑھے لکھے بالخصوص گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ بیروزگاروں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔
 کشمیر کی صوبائی انتظامیہ نے گذشتہ سال دستکاری صنعت کو ترقی بخشنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے یقین دلایاتھا کہ ریاستی حکومت دستکاریوں کی بڑے پیمانے پر فروخت کو یقینی بنانے کیلئے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، فلپ کارٹ، ایموزون اور دیگر ایسی ہی خدمات سے جڑنے کیلئے اقدامات کررہی ہے تاکہ صدیوں پرانی کشمیری مصنوعات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جاسکے۔سرکارکا یہ دعویٰ اپنی جگہ بجا صحیح کہ قالین بافی، پیپر ماشی، ووڈ کارونگ، کریول، چین سٹچ ایمبرائڈری، ختم بند، نمدہ سازی اوردیگر صدیوں پرانی دستکاریوں کو تحفظ اور ترقی دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدیوںسے وادی کی دستکاری صنعت کو یہاں کے مرد، عورت، بچے اور بوڑھے اپنی انگلیوں میں بھرے جادوئی ہنر سے زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ کہیں آنے والے وقت میں یہ صنعت دم نہ توڑ جائے اور کشمیر اپنی ایک شاندار شناخت سے محروم ہوجائے۔
سرکاری منصوبے،بنکوں کے قرضے اور سکیمیں اپنی جگہ لیکن کشمیریوں نے محنت اور مزدوری کا وقار بحال نہ کیا تو یہ صورتحال ایک قومی بحران کی صورت اختیار کرلے گی۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتا ہے۔ہمیں اپنے نوجوان طبقے کیلئے ایک ایسا پیداواری ماحول پیدا کرنا ہو گا اور روزگار کے ایسے ذرائع فراہم کرنے ہوں گے کہ ہر تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان روزگار کے سلسلے میں اپنے ہی ماحول یا اپنے ہی گھرمیں رہنے کو ترجیح دے۔محنت کا وقار بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس شعبے سے وابستہ افراد کو عزت بخشنے کی ضرورت ہے ۔
 

تازہ ترین