تازہ ترین

ڈومیسائل:حقوں نہیں ، صرف اصول

اقامتی حقوق ریزرویشن کے قواعد و ضوابط سے تبدیل

تاریخ    29 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


حسیب درابو
جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں وکشمیر سول سروسز غیر مرکوزیت و بھرتی ایکٹ 2010 میں 31 مارچ 2020 کو ترمیم کرنے کے بعد جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (طریقہ کار) قواعد 2020 کونوٹیفائی کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایکٹ میں ’’جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں‘‘کے الفاظ ’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل‘‘سے تبدیل کیے گئے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر مضمرات ہیں۔

اول

آئینی طور پر’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے کا ڈومیسائل‘‘ جیسا کچھ نہیں ہے۔ دستور ِہند ہندوستان میں صرف ایک ڈومیسائل ، یعنی ڈومیسائل آف انڈیا کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 5 اس نکتے پربالکل واضح ہے۔ اس میں صرف’’ہندوستان کی سرزمین میں رہائش پذیر‘‘کا ذکر ہے۔ آئین ہند میں’’کسی ریاست کے ڈومیسائل‘‘کے بارے میں کوئی تذکرہ یاشق نہیں ہے۔
 سٹیٹ سبجیکٹ،جس کو تبدیل کیاگیا ہے، جموں و کشمیر میں آئین میں ایک استثنیٰ کے طور پر موجود تھی۔ اب جب خصوصی حیثیت ختم کردی گئی ہے تو ڈومیسائل کے تصور کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ یہ محض ایک چھلاوا ہے۔
 اگر ’’مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر کے ڈومیسائل‘‘کی اصطلاح کی آئینی بے اعتباریت کے بارے میں کوئی شبہات ہیں تووہ سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد دفعہ صادر کئے گئے حکم ناموں سے رفع کئے جاسکتے ہیں۔
 چیف جسٹس پی این بھگوتی ڈاکٹر پردیپ جین بمقابلہ وفاقِ ہند، 1985 کے کیس میں تین ججوں کے بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’لہٰذا ، ہماری رائے میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہندوستان کا شہری ایک ریاست کا اقامت گزار ہے یا دوسری کا،جو وفاق ہند کا حصہ بناتے ہیں۔اُس کے پاس جو ڈومیسائل ہے، وہ صرف ایک ڈومیسائل ہے ، یعنی ہندوستانی حدود میں ڈومیسائل‘‘۔
 ایک اور فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہاہے کہ’’ایک شخص اس کے باوجود پورے ملک کا ڈومیسائل ہے کہ اس کا گھر اس ملک کے کسی خاص مقام پرواقع ہے‘‘۔لہٰذا ، ایکٹ اور قواعد دونوں ہی ہندوستان کے آئین کے خلاف ہیں ،نہ کہ اس کے مطابق۔

دوم

’’ڈومیسائل‘‘ کا لفظ قواعد وضوابط میں صرف سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن اور جموں و کشمیر کے اندر واقع تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے اقامتی ضرورت کو شرط رکھنے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔اس ایکٹ کی دفعہ 3 اے کے مرکز کے زیر انتظام جموںوکشمیر میںکسی بھی نوکری کی تقرری کے مقاصد کے لئے صرف "ڈومیسائل" کے اظہار کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس سے ڈومیسائل کا درجہ نہیں ملتا ہے ، جو جموں و کشمیر کے پشتینی باشندگی قانون کے تحت موجود تھا۔
 حتی کہ علامتی طور یا اخلاقی اعتبار سے بھی ’’سٹیٹ سبجیکٹ ‘‘،’’ڈومیسائل ‘‘سے بہت مختلف ہے۔ پہلا یعنی سٹیٹ سبجیکٹ ایک جاگیردارانہ تصورہے،جو اینگلو سیکسن قانون سے تیار کیا گیا ہے ، جو باشندے اور ریاست کے مابین علاقائی طور پر طے شدہ رشتہ ہے۔ اس کے برعکس ڈومیسائل کا مقصداُس ذاتی قانون کی نشاندہی کرنا ہے جس  کے تابع ایک فرد ہے۔ دونوں کا موازنہ کرکے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ کسی شخص کی سیاسی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ ڈومیسائل اس کی شہری حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
 دراصل قواعدوضوابط یا رولز میں مستعمل رہائشی لفظ’’ڈومیسائل‘‘مستقل رہائش کے ڈھیلے احساس میں ہے نہ کہ تکنیکی معنوں میں،جس طرح یہ قانون میں استعمال ہوتا ہے۔جو چیز نوٹیفائی کی گئی ہے،وہ محض سرکاری نوکری کے حصول کیلئے ’’رہائش کی ضرورت ‘‘ہے۔ لہٰذا اقامت کے حقوق کو ریزرویشن کے قواعد سے تبدیل کیاگیا ہے۔ آئینی حقوں سے کوسوں دور، جس طرح سے ان قواعد و ضوابط کو وضع اورنوٹیفائی کیا گیا ہے ، ان کا عدالت میں بھی دفاع نہیں کیا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے پاس ایسا اقامتی قانون تھا جو دو آئینوں میں محفوظ تھا۔ ترمیم شدہ ایکٹ میں جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 6 میںوضع کی گئی اور آئین ہند کی دفعہ 35۔ اے کے تحت دی گئی اصطلاح کو خارج کر دیاگیا۔ اس کی جگہ ایک ایسی اصطلاح دی گئی جس کی کوئی آئینی اساس یا حتی کہ ہندوستان میں قانونی بنیاد بھی نہیں ہے۔ اس طرح جو کہا جارہا ہے، اس کے برخلاف جموں و کشمیر کے پاس اب "ڈومیسائل قانون" نہیں ہے۔

سوئم

ایسی کوئی انوکھی،منفرد یا خصوصی بات نہیں ہے جو جموں و کشمیر کے لئے کی گئی ہو۔ تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں رہائشی تحفظات کے لئے دفعات ہیں۔ ہندوستان کی متعدد ریاستوں نے تعلیمی اداروں میں ڈومیسائل ریزرویشن میں توسیع کی ہے۔
 ڈومیسائل ریزرویشن پچھلے کافی عرصے سے اب میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا ایک حصہ رہی ہے۔ میڈیکل کالجوں کے علاوہ حال ہی میںگجرات ، کرناٹک ، اڈیشہ اور راجستھان کے علاوہ مرکز کے انتظام دہلی نے اپنی حدود میں نیشنل لا ء سکولوں میں رہائشی ریزرویشن میں توسیع کردی ہے۔ قومی اہلیت وداخلہ ٹیسٹ  یعنی NEETمیںبھی رہائشی ریزرویشن موجود ہے جس کی روسے ریاستی حکومتوں کومخصوص ریاست میں اقامت پذیر طلباء کے لئے 85 فیصد نشستیں محفوظ رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔
اقامتی ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے کے لئے 15 سال کی کوالیفائنگ مدت پورا کرنے پر بھی یہ طریقہ کار صادق آتا ہے۔ تقریباً تمام ریاستیں اور یونین ٹریٹریاں ان امیدواروں کو ترجیح دیتی ہیں جو اُس ریاست میں3سے20سال کی مخصوص مدت تک اقامت پذیر رہے ہوں اور ان لوگوں کے لئے یہ فوائد ہیں جواُن ریاستوںکے تعلیمی اداروں میں مستقل طور پر 4 سے 10 سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے ہوں۔ اس کیلئے تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں کی حکومتیںصرف اقامتی کوٹے کا فائدہ اٹھانے کے لئے رہائشی ثبوت کے طور پر مطلوب ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہیں۔
آدھارآ نے کے بعد ،منفرد شناختی نمبر یا UIDجاری کئے جانے بعد،جموںوکشمیر میں اب جاری کی جانے والی اقامتی سندکی چنداں ضرورت نہیں ہے اور یہ ایک طرح سے مشق ِ فضول ہے!۔ یہ صرف ریاستی بیوروکریسیوں کے لئے موجود ہے کہ وہ اپنے گھاٹے اور سہولیات کیلئے اس کی حفاظت کریں! ۔اصل میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے کوئی حقیقی معنی نہیں ہیں اوراس کا کسی بھی طرح پشتینی باشندگی سند کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے۔
 جموںوکشمیر کیلئے اب ایک واحد منفرد شق یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور اس کے ذیلی اداروں کے لئے کام کر رہے ملازمین (ان کے بچوں سمیت) کے لئے ڈومیسائل ریزرویشن دی جارہی ہے۔

چہارم

 غالب امکان یہ ہے کہ عدلیہ آج نہیں تو کل ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی توثیق ریزرویشن کے لئے بھی کالعدم قرار دے ۔در حقیقت سپریم کورٹ نے بارہا وفاق ِ ہند کے اندر ریاست کے تعلق سے 'ڈومیسائل' لفظ کے استعمال کے خلاف متنبہ کر چکا ہے۔ نہ صرف یہ ، بلکہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں سے پرزور زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں اور خاص طور پر میڈیکل کالجوں میں داخلوںکی تشریح کرنے والے ضوابط میں'ڈومیسائل' کو شامل نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں سے کہا ہے کہ ’’اس طرح کے داخلے کے لئے اہلیت کی شرط کے طور پر اقامتی ضرورت کو متعارف کروانے اور برقرار رکھنے سے باز رہاجائے‘‘۔
 زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جن قواعد وضوابط کو جموں و کشمیر انتظامیہ نے نوٹیفائی کیا ہے، وہ زیادہ ہدف تنقید کے زد میں آنے کے خطرات سے دوچار ہیں کیونکہ ان کے تحت مکمل ریزرویشن کو منظوری دی گئی ہے۔ اگرچہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اب تک صرف ڈومیسائل ریزرویشن کے قانونی جواز کو برقرار رکھا ہے لیکن 100 فیصد ریزرویشن سپریم کورٹ کے ذریعہ ختم کئے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔فی الحال اسی طرح کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ چل رہا ہے۔ ڈاکٹر تنوی بہل بمقابلہ شری گوئل و دیگران ،سال 2019 کیس میں جسٹس دنیش جے مہیشوری نے ’’ آیا رہائشی / رہائش پر مبنی ریزرویشن کی فراہمی آئینی طور پر بھی جائز ہے ، جس میں اس کے طرز اور طریق کار بھی شامل ہیں‘‘کوسپریم کورٹ کے لارجر بینچ کو حتمی فیصلہ کیلئے ریفر کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت ہند کو اس کی خبرنہیں ہے۔ نقطہ یہ ہے کہ ایک بہانہ بنایا جارہا ہے اور فرار کا راستہ تعمیر یا تشکیل دیا گیا ہے۔

پنجم

 انتظامی طور پریہ قواعد اناڑی پن کی انتہا ہیں یا بدترین شرارت ۔ نہ صرف اصطلاح ’’ڈومیسائل‘‘کے تبدیل شدہ استعمال سے جموںوکشمیر میں اس سے منسلک حقوق کم ہوجاتے ہیںبلکہ نئی اصطلاح سے ’’بیرونی لوگوں‘‘کیلئے بھی جموںوکشمیر میں اقامت حاصل کرنے کیلئے قواعد کھولنے سے بہت آگے جارہی ہے۔ اصطلاح کے استعمال سے جموں و کشمیر میں اس سے وابستہ حقوق کم ہوجاتے ہیں ، بلکہ نئی تعریف جموں و کشمیر میں رہائش پذیر "بیرونی افراد" کے قواعد کو کھولنے سے بھی آگے ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ اب ایک "پشتینی باشندہ" ،جو کئی نسلوں سے یہاں مقیم ہے ،کو اپنا " اقامت" دوبارہ حاصل کرنی ہے، زخموں پر نمک چھڑکنے کا نام کررہی ہے۔ وہ لوگ جو وہاں5000سال سے مقیم ہیں، اب اُسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں وہ لوگ کھڑے ہیں جو اب یہاں اقامت کا حصول چاہتے ہیں۔دونوں کو یہ ثابت کرنا ہے ۔سابق پشتینی باشندوں کویہ پشتینی باشندگی سند جمع کرکے ثابت کرنا ہے اور باہری لوگوںکو راشن کارڈ جمع کرکے ثابت کرنا ہے۔مزید یہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کیلئے کوئی مخصوس شق ہی موجود نہیں ہے۔
اس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی ہے کہ پشتینی باشندگی سند رکھنے والوںکے حق میں ڈومیسائل سند جاری کرنے کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہزاروں منتظمین تعینات کئے جائیں۔لوگوں کی تضحیک نہ کرنے اور بیروکریسی پر حد سے زیادہ بوجھ سے بچنے کا آسان طریقہ یہ تھا کہ ’’پشتینی باشندگی سند کو ڈومیسائل سند تصور کیاجاتا‘‘۔

اختتامہ

ایک معروف بااثر کشمیری پنڈت ، جس کا معاشرتی لحاظ سے احترام اور سیاسی طور پرخاصا نیٹ ورک ہے ، نے تحصیلدار سے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ طلب کی۔ اُسے منہ پر ہی فوری طور اور تلخ لہجے میں کہا گیا کہ وہ اقامت کے ثبوت کے طور پر اپنا راشن کارڈ جمع کروائے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مذکورہ معزز شہری کے پاس اپنی پشتینی باشندگی سند ہے ۔اتفاقیہ طور اُس نے اپنا راشن کارڈاناتودھیہ سکیم آنے کے بعد ترک کردیا ہے۔قابل ذکر امر ہے کہ اُ س نے کبھی ہجرت نہیں کی ہے اور وہ ہمیشہ وادی میں ہی مقیم رہے ہیںلیکن میرے اس دوست کے لئے نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔’’ ایک قوم ۔ ایک راشن کارڈ ‘‘بس آیا ہی چاہتا ہئے!۔
 

تازہ ترین