تازہ ترین

ماں تجھے سلام

جگر تھام کے

تاریخ    28 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


آصف اقبال شاہ
 اس ملک کی ایسی دو مائیں ہیں جو دو لخت جگروں سے محروم ہوئیں۔پالا تھا دونوںنے نازوں سے ،اپنے جگر پاروں کو۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آیا موت کا فرشتہ ۔خوابوں کے چمن اجاڑ گیا،دنیا ان کی ویران کرگیا۔یہ دونوں مائیں اسی ملک میں رہتی ہیں۔ ہر پل وہ ظلم جو سہتی ہیں۔ نہ کھاتی ہیں نہ پیتی ہیں لیکن وہ دونوں روتی ہیں۔ پُر نم آ نکھیں ہیں دو نوں کی۔ اور دونوں ہی محروم ہوئیں۔ اک نعمت سے اک رحمت سے ۔جو لختِ جگر اور نورِ نظر، ان دونوں نے اب تک پالے تھے۔ وہ لختِ جگر اور نورِ نظراب دنیا سے ہمیشہ بھاگ گئے۔
 جب بھاگ گئے وہ سب بچے، ماوں نے بُلا یا بچوں کو۔ تب بولا زور سے ان کلیوں نے۔ اُس دنیا سے بہتر یہ دنیا، جہاں ظلم نہیں جہاں جبر نہیں، جہاں خوف نہیں بارودوں کا، جہاں ڈر نہیں ہے غُربت کا۔ جہاں ہر سو قائم امن و امان، جہاں بھوک نہیں جہاں پیاس نہیں، جہاں شور نہیں بندوقوں کا، غربت کی ماری مائوں کی یہاں عزت ہے ، یہاں رفعت ہے ۔ پر دُکھ ہے دِل میں بس اتنا، ہم بچے تھے، ہم سچے تھے، کس جرم میں ہم کو مارا گیا، کس لغزش کی یہ سزا پائی، اب پیاری مائوںچلتے ہیں، اُس دنیا میں جہاں سُکھ ہی سکھ ، جہاں بھوک سے لوگ نہیں مرتے، جہاں خوف سے لوگ نہیں ڈرتے۔ جہاں لاشوں کے ڈھیر نہیں ہوتے۔
 مائوں نے سن کر چلّایا، اے جگر کے ٹکڑو واپس آئو۔ اک بار تمہیں ہم بوسہ دیں، اک بار تمہیں ہم با ہوں میں لیں۔ طاری ہوئی اب خاموشی،ان ما ئوں نے اب لب کھو ل لئے، اک ماں اب کہہ کر بو ل اُٹھی۔ وہ کس نے تم سے چھین لیا جس پر تم اب مرتی ہو، اب بولی اُٹھی اک بچّے کی ماں۔کل صبح ہم گھر میں بیٹھے تھے۔ یہ ننھامیرا گھر میں تھا۔ بس شروع ہوئی اک جنگ بھاری،اس جنگ میں ہم سب سہم گئے،ڈر کے مارے اندر بیٹھ گئے۔ اب تیز ہوئی گولہ باری، اب شور ہوا ہرسُوبرپا، گولوں نے ہم پر وار کیا، پھر خوب یہاں پر مار ہوا، کیا مسجد، مقبر گھر سارے، اِ ن گولوں سے اک دم دہل اُٹھے، میرا یہ ننھا پیارا سا تھوڑا سا با ہر جو نکلا  ۔ کیا بات بتائوں کیا تھا وہ۔ اک تحفہ تھا اک نعمت تھی۔ معصوم بھی تھا محسن بھی تھا ، اب دھیر ہوئی نہ منٹوں کی، بس گولی آئی سینے میں، میرے اِس دِل کے ٹکڑے کو۔ یوں موت ہی واقع فوراً ہوئی، رویا اور پیٹا سینے کو اور جگر کو میں نے تھام لیا، اب بچے کی جو لاش تھی ،سینے سے اسکو تھام لیا۔ لے کر اُسکو باہوں میں، پھر دیر ہوئی دفنانے میں، بیٹھی اُسکے سر ہانے پر۔ جب کفن بھی پہنا دفن ہوئے، بیٹھی میں اُسکی تر بت پر، پھر لے کر مجھ کوگھر سارے، کہاں ہوئے میرے پیارے۔ نڈھال ہوئی اس غم سے میں۔ تب سے ہوئی ہوں دِل حزین، ماتم کدہ ہوں جگر کے ٹکڑے پر، آنکھوں سے ہو گئی اب کم نظر،اب تُو بتا اپنا ما جرا؟۔ 
تب بول اُٹھی اک مجبور ماں، مظلوم ماں، مایوس ماں، غربت سے ماری مقہور ماں۔ وائرس سے جو ہم محصور ہوئے، گھر میں ہم مجبور ہوئے، یوں بھوک نے دستک دی ہمیں، کوئی نہ آ یا سامنے۔ بچوں نے اُٹھا یا شور بہت،بھوک سے ہوئے جوخشک لب، بچوں نے پوچھا زور سے،  اے ماں ہماری یہ بتا، کیونکر ہمیں تو بھوک سے دیتی ہو تم ہم کویہ سزا۔ اب جو بہت مجبور ہوئی، سوچا ذرا میں کیا کروں، تھوڑا سی با ہرمیں گئی، پر جلدی واپس آگئی، دیکھا جو میں نے جیب میں، نکلا نہ کوئی آسرا۔ رورو کر میں خاموش ہوئی، اک دم بچوں نے دی سدا، چپ چاپ بیٹھی دانستہ ، تب کاٹ لی بچوں نے چھوٹی سی وہ اک ہی ردا، میں نے کہا بچوں کو تب،ہے مجھ کو گھرمیں کچھ نہیں، اب کیا کروں تم ہی بتا، جب بہت میں مجبور ہوئی، میں نے کہا اپنوں غیروں سے، تھوڑا تعاون دیجئے، پھر واپس کبھی تو لیجئے۔ لیکن مجھے نہ کچھ ملا، ملااگر تو یہ ملا، کیوں نہیں گھر میں تجھے، مفلس ہو تم، مجبور ہو، اوپر سے تم مزدور ہو،کل سے نہ آنا اندر کبھی، مغموم ہو کر میں چل پڑی، سوچا بہت اب کیا کروں۔ دِل نے کہا بس  خود کشی، آنکھوں سے آنسوں بہہ گئے،کپڑے بھی میرے تر گئے، سب لوگ اندر گھر گئے، کوئی نہ آیا سامنے، بچوں کی آہیں،سسکیاں، گرتی تھی مجھ پر بجلیاں، مجبور ہوکر چل پڑی، گردے کو میں اب بیچ دوں،قیمت ہوئی گردے کی میری،قیمت مگر قیمت رہی،گردہ جو میں نے دے دیا، بدلے میں اُس نے دے دیا ۔ طعنہ دیا، فقرہ کسا مسکین ہو ، محتاج ہو، گردہ تیرا ناصاف ہے، چا ہو تو واپس لیجئے۔
اُٹھ کر وہاں سے چل  پڑی ۔اک بار رویا پھر صحیح،واپس میں اپنے گھر چلی۔ دیکھا جو میں نے گھر میں تب، سوئے تھے میرے بچے سب۔ سنگدل بنی، قاتل بنی جس پر مجھے افسوس ہے۔ ان کو ا ٹھا کر لے چلی، دریا میں انکو پھینک کر، رو رو کے میں واپس آچلی، اب ہوں میں اندر مجرم سہی پر یہ بتا کیا تو نہیں۔مائیں یہ دونوں غم زدہ، کوئی نہیں غمخوار، ظالم لیڈر،کنجوس ا مراء امن کے سب دُشمن چار، غربت، عُسرت اور یہ ظلمت کے ہیں سارے ذمہ دار۔
 رابطہ: لولاب کپوارہ،  9622669755