ماں نہیں تو عید نہیں، عید پر پھر ماں کی یاد آئی

تاریخ    27 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


زاہد ملک
ماں ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ ماں کے بغیر گھر ویران ہوتا ہے۔مجھے اس بات کا احساس عید کے روز اُس وقت ہوا جب صبح نیند سے جاگا اورعید کے رو بھی گھرچارسو سنسان دکھائی دے رہاتھا  کیوں کہ میری ماں آج گھر کی اس جگہ پر موجود نہیں ہے جہاں پر میں اور میری ماں ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔
سال 2019 کی عید تھی جب میں صبح سویرے اٹھ کر عید کی نماز کیلئے تیار ہوگیا اور عیدگاہ جانے سے قبل اپنی امی جان کے ساتھ کچھ فوٹو لی اورپھر نماز کیلئے نکل گیا۔نماز سے فارغ ہوتے ہی میں جلدی سے گھر کی طرف نکل گیا ۔ گھر کے باہر میری ماں میرا انتظار کر رہی تھی۔گھر پہنچتے ہی میں گھر کے باہر اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ گیا اور ماں کے ساتھ کچھ باتیں کیں۔مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ میری ماں کے ساتھ میری آخری عید تھی۔باتیں مکمل ہونے کے بعد میں اپنی ماں کے ساتھ اندر چلا گیااور ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔وہ میری ماں کے ساتھ بیٹھ کر آخری عید کا کھاناتھا۔والدہ کے ساتھ یہ آخری کھانا مجھے ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے زخم لے کر سامنے آتا ہے۔اس کے بعد 2مہینے گزر جانے کے بعد 27جولائی رات کو میری ماں اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئی۔آج میری ماں کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 10 ماہ گزر گئے ہیں۔ہر سال کی طرح عید تو آئی لیکن عید پر میری ماں نہیں آئی۔ہر عید پر صبح سب سے پہلے اٹھ کر میں اپنی ماں کو سلام کرتا تھا لیکن آج جب میں اٹھا توپورا گھر ویران پایا۔گھر میں ہر کوئی موجود تھا بس میری ماں نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ گھر ویران تھا۔ماں ہے تو ہر گھر جنت ہے، ماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔جن کی والدہ زندہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور جن کی رخصت ہوگئیں ہیں انہیں مغفرت کرے۔آمین
 (مراسلہ نگار ریاسی ضلع سے کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار ہیں)
 
 

تازہ ترین