تازہ ترین

لاک ڈائون کا63واں دن؛ شہر میں چلنے پھرنے پر قدغن، دکانیں بند

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر// ملک گیر لاک ڈائون کے63ویں روز وادی میں صبح کے وقت اگر چہ بہت حد تک نرمی برتی گئی لیکن 9بجے کے بعد ہی ایک بار پھر سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں اور پائین شہر کے علاوہ لال چوک، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، مہاراجہ بازار ، بٹہ مالو اور دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال بنائی گئی۔البتہ گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی اور پوچھ تاچھ کے بعد پرائیویٹ گاڑیوںکو چلنے کی اجازت رہی۔ شہر کے سیول لائنز علاقوں میں دوسرے دن بھی آٹو رکھشا سڑکوں پر دوڑتے نظر آئے۔شہر کے کسی بھی علاقے میں دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگرچہ بیکری دکانوں اور سبزی  و میوہ فروشوں کے ساتھ ساتھ کریانہ دکانوں کو احتیاطی تدابیر کیساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن سنیچر کو شہر کے کسی بھی علاقے میں کسی بھی دکان کو کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔صبح سویرے لوگوں نے بازاروں کا رخ کیا تھا لیکن اسکے ساتھ ہی پولیس کی گاڑیاں نمودار ہوئیں اور انہوں نے دکانیں بند کرادیں اور سی آر پی یف کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔اسکے بعد بیکری سمیت ہر طرح کی دکانیں بند ہوئیں۔حتیٰ کہ بستیوں میں نانوائیوں کی دکانیں بند کرادیں گئیں۔ڈائون ٹائون جانے والے راستوں کو سیل کیا گیا تھا اور وہاں کسی بھی علاقے میں کوئی آمد و رفت نہیں تھی۔سڑکیں بند کی گئیں تھیں اور ہر طرح کا کاروبار بند رہا۔یہ صورتحال صرف سرینگر شہر کی ہی نہیں تھی بلکہ سبھی ضلع ہیڈکوارٹروں اور قصبوں میں بھی اسی طرح سخت ترین بندشیں عائد رہیں۔عید سے قبل لوگوں کو روز مرہ کی  کھانے پینے کی چیزیں بھی دستیاب نہیں ہوسکیں۔
 

تازہ ترین