تازہ ترین

جموں کشمیر میں صحت عامہ کے ورکروں پرحملے

مرکزی وزارت داخلہ ،وزارت صحت کے قانونی مسودہ کی حامی نہیں

24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

ڈی اے رشید
سرینگر//مرکزی وزارت داخلہ نے جموں کشمیر ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ وہ صحت عامہ کے ورکروں پرحملہ کے معاملوں کودور کرنے کیلئے قانون کے مسودہ کی حمایت نہیں کررہی ہے۔ہائی کورٹ نے ’’صحت عامہ کے ورکروں اورکلنیکل اداروں (جائیدادکو نقصان اورتشددپرروک)قانون2019کے بل مسودے پروزارت داخلہ کے اعتراضات اوراغراض طلب کئے تھے۔وزارت داخلہ کو یہ بل وزارت صحت وخاندانی بہبود سے  موصول ہوئی تھی۔اسسٹنٹ سالسٹر جنرل وشال شرما نے وزارت داخلہ کے بیان کو پیش کرتے ہوئے چیف جسٹس ،جسٹس گیتامتل اورجسٹس  رجنیش اوسول کے دونفری بنچ کو بتایا کہ بل کے مسودے کاجائزہ لینے کے دوران صحت ورکروں اور کلنیکل اداروں پرحملوں کے معاملوں کودور کرنے کیلئے  بل کی کئی وجوہات پرحمایت نہیں کرتی.۔وزارت کاکہناتھا کہ ڈاکٹروں اوردیگرطبی پیشہ وروں پرحملوں کو روکنے کیلئے الگ سے قانون بنانے سے باقی پیشہ ورجیسے ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد،وکیل،بینکر،چارٹرڈاکاوئنٹنٹ وغیرہ بھی ایساہی مطالبہ کرتے ۔ وزارت نے کہا کہ حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ سبھی شہریوں معہ پیشہ وروں جیسے ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد،ڈاکٹر،انجینئر،وکیل،بینکر کے جان ومال کاتحفظ کرنے کی پابند ہے ۔عدالت کا تاہم کہناتھا کہ طبی ورکروں کے علاوہ دیگر پیشہ وروں کے کسی بھی طبقہ پر تشددکے معاملوںکی شکایات کی وصولی پرقانون بنانے کے مطالبے پر حکومت ہند کی رپورٹ سود مند ہوگی۔عدالت نے اس سلسلے میں3جون تک رپورٹ طلب کی۔ عدالت مفادعامہ کی ایک عرضی کی ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کررہی تھی۔سینئرایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بے اے ڈاراورایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شاہ عامر سرینگر سے حکومت کی نمائندگی کررہے تھے.۔عدالت نے لاک ڈائون کوختم کر نے اور عوامی ردعمل کے معاملے کوفائنانشل کمشنر صحت عامہ وطبی تعلیم اٹل دولوکی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بندکیا۔ عدالت نے کہا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ مرکزی زیرانتظام علاقوں کی حکومتیں اس معاملے کی اہمیت سے باخبر ہیں اور انہوں نے عدالت کورپورٹ میںیقین دلایا ہے کہ تمام لازمی اقدام کئے جائیں گے اور وزارت داخلہ کے تمام ضوابط کو مکمل تشہیردی جائے گی ،اس معاملے میں عدالت کی مداخلت ضروری نہیں ہے ۔کوروناوائرس کے پھیلائومیںسفیدے کے درختوں سے نکلنے والی روئی کے معاملے پرعدالت نے کہا کہ نہ ہی ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ اور نہ ہی اس معاملے پر لئے گئے فیصلے کو عدالت کے سامنے رکھاگیا ۔عدالت نے کہا کہ انہیں کیس کی اگلی سماعت پر پیش کیا جاناچاہیے.۔صحت عامہ کے ورکروں اورحکام جو کووِڈ- 19کے پھیلائوکوروکنے کیلئے صف اول پرکام کررہے ہیں  ، کے معاملے پر عدالت نے مشن ڈائریکٹرآئی سی پی ایس،سماجی بہبودمحکمہ کومناسب رپورٹ3جون تک پیش کرنے کی ہدایت دی ۔عدالتوں کے ای رابطے پرعدالت نے مرکزی وزارت قانون وانصاف کواس کے سیکریٹری کے ذریعے جواب دہ بنایا۔ایڈیشنل سالسٹرجنرل انڈیاشرما نے وزارت کی طرف سے وصول کی ۔عدالت نے شرما کواسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کے تیزترجائزے اوررکاوٹوں کو دور کرنے کویقینی بنائیں۔