عید کی آمد پر بازاروں کی ویرانی وباء کے منفی اثرات کا منہ بولتا ثبوت

مجموعی طور پر بیکری مالکان کو 16کروڑ کا نقصان، مہنگا فروخت کرنے کے با وجود گوشت ڈیلروں کا واویلا

24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// ملک گیرلاک ڈاؤن کی وجہ سے وادی کے بازاروں کی ویرانی صورتحال وبا کے منفی اثرات کی بھر پور عکاسی کررہی ہے۔ روایتی چہل پہل اور گہماگہمی مکمل طور غائب ہے اور بیشتر دکانیں بند ہیں۔عید کی آمد پر جو تاجر اپنا مال فروخت کر کے سال بھر کی کمائی کررہے تھے انکے تجارتی مراکز پر تالے چڑھے ہیں۔ سال گذشتہ میں پانچ اگست کے بعد آنے والی عید الضحیٰ کے موقع پر بھی وادی کے بازاروں میں ویرانی تھی ۔ اب یہ دوسری عید ہے جو مختلف ہی نہیں بالکل ماضی کے برعکس عیدوں جیسی نہیں ہے۔عمومی طور پر عید کی آمد کے پیش نظر سرینگر اور دیگر قصبوں کے بازاروں میں بھاری رش ہوا کرتاتھا۔ لوگ بڑے پیمانے پر خریدو فروخت کر کے اپنی پسند کی چیزیں لا کر تجارتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے موجب بنتے تھے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں عید پر مجموعی طور پر دکانداروں اور اس سے منسلک تاجروں کو قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔سنیچر کو لاک دائون کے دوران ہی لوگوں نے مخصوص بیکری دکانوں سے کم و قلیل بیکری بھی حاصل کی لیکن مجموعی طور پر بکری کی دکانیں بند تھیں ۔بیکری اینڈ کفنکیشنری ایسو سی ایشن نے پہلے ہی کہا تھا کہ امسال عیدالفطر پر بیکری مالکان کو قریب30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شاہد حسین کا کہنا ہے کہ اوسطاً عید پر وادی میں40کروڑ روپے کی بیکری کی خرید و فروخت ہوتی ہے تاہم اس بار 8کروڑ روپے تک بیکری مصنوعات کی خرید و فروخت ہونے کا انداز ہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سرینگر میں83لاکھ روپے سے زیادہ بیکری کی خرید و فروخت نہیں ہوئی جو عام عید پر17کروڑ روپے کے قریب ہوتی تھی۔گوشت کی حصولیابی کیلئے سنیچر کو سرینگر سمیت دیگر قصبوں میں ہی لوگ قصابوں کے دکانوں کا طواف کرنے لگے ، لیکن قصاب کہیں نہیں تھے۔سنیچر کو پوری وادی میں گوشت 600روپے فی کلو فروخت کیا گیا۔جبکہ مرغ فی کلو 180روپے فروخت کیا جاتا رہا۔مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے عید پر گوشت کو ہوئے نقصان کا اندازہ50کروڑ روپے لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ شب قدر سے لیکر عید تک70سے80کروڑ روپے کا گوشت فروخت ہوتا تھا،تاہم امسال صرف10فیصد گوشت کی سپلائی ہی ممکن ہوسکی،جس کے نتیجے میں قریب 90ہزار بھیڑ بکریاں وادی نہیں نہیں پہنچ سکیں۔لوگوںنے گورنر انتظامیہ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عید الفطر کے موقعے پر لوگوں کیلئے مرغ اور گوشت دستیاب رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگرچہ سرکار نے بڑے اعلانات کئے تھے کہ عید الفطر کے پیش نظر وادی کشمیر میں لوگوں کو ہر ضروریات بہم رکھی گئی ہے اور یہاں پر گوشت اور مرغ بھی کافی مقدار میں موجود ہیں تاہم اس کے برعکس زمینی سطح پر نہ مرغ بازاروں میں دستیاب رہے اور نہ ہی گوشت ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مرغ فروشوں اور محکمہ امور صارفین کے مابین نرخ پر آپسی خلفشار کے نتیجے میں بازاروں میں مرغ دستیاب نہیں رہے کیوں کہ محکمہ نے مرغ فی کلو 110روپے مقرر کی تھی جبکہ مرغ فروشوںنے مرغ 180سے 200روپے فی کلو فروخت کیا ۔ قصابوں کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری لاک ڈاون کی وجہ سے بازاروں میں قصابوں کی دکانیں بند رہیں،جبکہ شاہراہ جو دو روز تک بند رہی اس کی وجہ سے بھی سپلائی متاثر ہوئی۔