تازہ ترین

عید الفطر انعام الٰہی کا دن

24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

محمد کلیم الدین مصباحی
یوم عید،ماہ رمضان کی تکمیل پر اللہ کریم سے انعام پانے کا دن ہے ،اس لئے امت مسلمہ کے نزدیک اس دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔عید کا لفظ ’’عود‘‘سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے لوٹ آنا ہے اور چونکہ عید کا دن بھی ہر سال آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ سال میں دودن بطور عید مناتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے۔رسول اللہؐ نے ان سے دریافت فرمایا ’’یہ دودن،جو تم مناتے ہو،ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟‘‘تو انہوں نے کہا کہ’’ ہم اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے ‘‘یہ سن کر اللہ کے نبی ؓ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے ان دونوں تہواروں کے بدلے میںان سے بہتر دو دن مقرر فرمادئے ہے ،یوم عید الفطر اور یوم عید الاضحی‘‘۔(ابو دائود شریف)
شب عید حدیث کی روشنی میں
شب عید ( جن کو ہم چاند رات بھی کہتے ہیں ) آتی ہے تو اس کو آسمانوں پر ’’  لیلۃ الجائزہ ‘‘یعنی انعام پانے کی رات سے پکارا جاتا ہے۔دعا کی مقبولیت کے لئے جن پانچ راتوں کا حدیث شریف میں ذکر آیا ہے ان میں ایک دونوں عیدوں (عید الاضحٰی اور عید الفطر ) کی راتیں ہیں ،حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا کو رد نہیں کیا جاتا۔شب جمعہ،رجب کی پہلی شب،شعبان کی پندرہویں شب،اور دونوں عیدوں کی راتیں۔(مصنف عبد الرزاق) ۔(۲) حضرت معاذ بن جبل ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ؓ نے فرمایا ’’جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے لئے جنت واجب ہے۔ذی الحجہ کی آٹھویں ،نویںاور دسویں کی راتیں اور عید کی رات ،اور شب برائت۔(بہار شریعت ،الترہیب والترغیب)ان احادیث پاک سے چاند رات کی اہمیت و فضیلت کا پتاچلتا ہے ،مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس رات کو اللہ کی عبادت ،اس کی بندگی اور عبادت میں گذارنی چاہئے ہم بڑی غفلت میں اپنی وہ رات شاپنگ اور خریداری  کے نام پر با زاروں میں ختم کر دیتے ہیں  اور اللہ کی بہت بڑی نعمت (قبولیت دعا )کی گھڑی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اگر ہم اس رات میں نیکی نہیں کرتے تو گناہ  میں بھی مبتلا نہ ہو۔اللہ ہم سب کو توفیق بخشے۔
یوم عید اور حدیث مصطفی ؐ
عید کا دن بھی بہت فضیلت کا دن ہے۔اس دن اللہ تعالی اپنے بندو ں پر بے پناہ انعام واکرام  اور اپنے بندوں کی مغفرت اور بخشش فرماتا ہے۔عید الفطر کی رات کا نام ’’لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی انعام کی رات رکھا گیا ہے۔جب کہ عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں ،راستوں کے سروں پرکھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے (جن کو  انسان اور جنات کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں کہ اے امت محمدیہ اس رب کی طرف چلو جو بہت عطا کرنے والا ہے اور جو بڑے بڑے خطائو ں کو معاف کرنے والا ہے ،بخشش ومغفرت کرنے والاہے۔پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو رب کریم جل شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو۔وہ ( فرشتے ) عرض کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے تو اللہ کریم فرماتا ہے کہ اے فرشتوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انکے روزوں اور تراویح کے بدلے ان کو اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی۔اور بندوں سے خطاب فرما کرا رشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو!مجھ سے مانگوں ،میری عزت و جلال کی قسم آج کے دن جو مجھ سے مانگوگے وہ عطا کروں گا۔تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کروںگا ،تمہیں رسوا نہ کروں گا بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا ،فرشتے اس انعام واکرام کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔(الترغیب ج ۲)۔اس مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عید اور شب عید دو نوں بہت فضیلت و اہمیت کے حامل ہیں۔مگر افسوس کے ہم اس مبارک شب وروز میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر کے ،دوسرے لہو لعب میں مبتلا ہو کر اللہ کی ناراضگی مول لیتے ہیں۔اللہ ہم سب کو اپنی رضا وخوشنودی عطا فرمائے۔
عید کس کے لئے؟
وہ افراد بڑے خوش نصیب ہیں جن کو ماصیام ملا ان کے روزے رکھے ،تراویح کا اہتمام کیا ،اپنے اوقات کو عبادات سے منور رکھا ،ہمیشہ اپنے رب سے بخشش ومغفرت کا سوال کرتے رہیں۔در ان کی ہی عید اور ان کو اپنے رب سے انعام لینے کا دن ہے۔ اچھے کپڑا پہن لینا ،عمدہ دستر خوان سجا لینا ،عید یہ نہیں ہے کہ بہت خوشیا ں منائی جائیں ،بلکہ عید یہ ہے کہ اللہ کو راضی کیا جائے ،اس سے کئے گئے توبہ پر قائم رہا جائے ،نیک بن کر زندگی گذارنے کوشش کی جائے۔تقوی اور پرہیز گاری کو اختیا ر کیا  جائے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت فاروق اعظمؓ کے پاس عید کے دن کچھ لوگ آئے تو دیکھا کہ آپ کے گھر کا دروازہ بند ہے اور آپ زارو قطار رو رہے ہیں۔لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے امیر المومنین !آج تو عید کا دن ہے ،ہر طرف خوشی کا ماحول ہے چھوٹے بڑے، جوان، بوڑھے ،مرد ،عورت سب خوشیا ں منا رہے ہیں۔یہ عید کے دن رونا کیسا ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ’’اے لوگو!آج عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے۔یعنی جن کے نماز،روزے مقبول ہو گئے ہیں ان کے لئے آج دن کا دن ہے اور جن کی نماز اور روزے رد کر دئے گئے ان کے لئے تو ااج وعید یعنی غم کا دن ہے اور میں تو اس خوف سے تو رہا ہوںکہ مجھے معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوا ہوں یا رد کر دیا گیا ہوں۔(غنیۃ الطالبین بحوالہ انوار البیان ج ۳)  اس حدیث پاک کی روشنی میں ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم کس بات پر خوشی مناتے ہیں ،چند ایام کی عبادت پرہم کو اتنا ناز ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشی کے سامنے فکر آخرت کو اپنے دل سے نکال دیتے ہیں۔حالانکہ ہمیں ہمیشہ اپنا محاسبہ اور فکر آخرت کرنی چاہئے۔
یوم عید اورہماری ذمہ داریاں
عید کے دن ہر انسان خوشی و مسر ت کے ماحول میں ڈوبا ہوتا ہے۔ایسے وقت کسی کو کسی کی فکر نہیں ہوتی مگر اصل عید اور خوشی وہی ہے جس میں ہم ان  لوگوں کو بھی شامل کریں جو غریب ،مجبور ،محتاج ،بیوا ویتیم ہیں جن کے یہان خوشیا ںدستک تک نہیں دیتی ۔اپنی خوشی میں اپنے غریب بھائیوں کو بھی شامل کریں ،بڑے چھوٹے ،امیر غریب کا فرق مٹا کر الفت ومحبت ،اخوت و بھائی چارگی کے ذریعے اپنے معاشرے کو امن وامان اور الفت ومحبت کا گہوارہ بنائیں۔صدقہ و خیرات کے ذریعے وقتا فوقتا ان کی مدد کی جائے ،ضرورت مندو ںکی ضرورت کو اپنی حیثیت کے مطابق پورا کیا جائے۔اپنے رشتہ دار ،پڑوسی کے حقوق کو ادا کریں۔غریبوں کی مدد،حاجت مندوں کی حاجت روائی،یتیموں سے پیار،بے سہاروں کو سہارا دینا بیوائوں کے ساتھ ہمدردی اپنے پڑوسیوں کے حقوق کی ادائے گی ہمارے اور آپ کے آقا مدنی تاجدارؐ کا محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ہم ان کی امت ہیں ان کے پسند کے مطابق ہمیں اپنی زندگی گذارنی چاہئے۔اللہ کے نبی ؐ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی اس بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جو جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔(مسلم شریف )اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
عید الفطر کی سنتیں
۔کتب احادیث میں عید کے دن کی متعدد سنتیں مرقوم ہیں۔ (۱) صبح سویرے اٹھنا۔(۲)غسل کرنا (۳) مسواک کرنا۔(۴) نئے یا پاک صاف کپڑے پہننا۔(۵)خوشبو لگانا۔(۶) عید گاہ جلد پہونچنا ۔(۷)عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھا لینا۔(۸) عیدگاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا۔صدقہ فطر واجب ہے ہر صاحب نصاب پر اپنے اور اپنے نابالغ اولادکی طرف سے۔صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے پہلے ادا کردیں ،تاکہ اس کی وجوب کی جو حکمت ہے وہ ہم پا سکیں۔(۹) عید گاہ ایک راستے جائے اور دوسرے راستے سے آئے۔(۰۱) ہو سکے تو عید گاہ پیدل جائیں۔اور اگر عید گاہ دور ہے یا پیدل جانے میں دشواری ہے تو گاڑی سے جا سکتے ہیں۔
 رابطہ:8050885581