تازہ ترین

یتیموں و بیوائو ں کی دلجوئی کرنا نہ بھولیں

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


اشرف چراغ گزریالی
ہم اس وقت عید الفطر مناے رہے ہیں۔ عید عام معنو ں میں کوئی تہوار نہیں بلکہ ایہ اپنے معانی ا ور تصورو اعتبار سے آسمان جیسی وسعت رکھتی ہے ۔تہوار کیا ہوتا ہے ؟مذہب ،موسم یا قوم کی چھتری کے نیچے خوشیا ں اور رنگ رلیاں منانے ،خرمستیا ں کرنے اور جی بھر کر لطف اور مزے کی بہاریں لو ٹنے کا نام تہوار ہے ۔اس کے بر عکس عیدین دین اسلام کے سایہ رحمت میں آنے کا جلی عنوان ہیں ۔یہ رو حانی سکون پانے کے بہانے ہیں ،یہ سماج میں انسانیت کا بول بالا اور اخوت و محبت کا دور دورہ ہونے کا قرینہ ہیں ۔عید الفطر اصل خوشی خط افلاس کے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے تباہ حال اور احساس محرومی کے ڈسے ہوئے لوگو ں کو مساوات کی نرم و گداز آغوش میں لانے کا پیغام ہے ۔انہی چیزوں کی عملی تربیت رمضان المبارک کے دوران روز ہ دارو ں میں را سخ کی جاتی ہے ۔حقیقی عید توو ہی ہے جب مسلم سماج میں نفسیاتی طور پامال اور مالی لحاظ سے پسپا کسی یتیم بچی یا بچہ اور کسمپرسی کے حالات کی چبائی کسی بیوہ ماں کی خوشیا ں عطاکرنے کو اولین ترجیح ملے ،جب ان کی آہو ں اور سسکیوں کو سہلانے کا جذبہ ہمارے ضمیر کو رو حانی آسودگی و طمانیت سے بہرور کر دے ۔عید کو خرمستی کے تہوار میں تبدیل کرنے والوں کو کیا معلوم کہ عید کے روز یتیم و بیوہ یا کسی نادار کا آنسو بھری آنکھو ں سے آسمان کی طرف دیکھنا قہر الٰہی کا با عث بن سکتا ہے ۔
ویسے بھی ہمارے یہا ں مسلسل نا مساعد حالات کے پیدا کر دہ نادار و بے بس یتیم کے ارمانو ں اور ضرورتو ں کا پاس و لحاظ رکھناہمارا اجتماعی فرض ہے ۔ہمیں جانناچایئے کہ سال میں عید ین یعنی عید الفطر اور عید قربان دو مرتبہ انفرادی ،سماجی اور رو حانی زندگی کا صیقل کرتی ہیں۔محرومین اور صاحب ثروت طبقوں میں ہی میل موانست کا محرک بنتی ہے جو انہیں باہم دیگر خوشگوار تعلقات میں جو ڑ کر تزکیہ نفس کا مژدہ سناتی ہے ۔مالدار لوگو ں میں عیدین کے مواقع پر اور چیز و ں کے علاوہ اخلاقی و سماجی حس بیدار ہوجاتی ہے اور وہ خوشی خوشی یتیم و بے بس اور ناداروں کی طرف توجہ مبذول کرتے ہیں ۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں شب قدر کی مبارک ترین رات میں مومن کا اپنے رب سے رو حانی قرب پیدا ہوتا ہے مگر یہ قرب جب ان مذکورہ محروم طبقات کے تئیں بندے میں احساس ذمہ داری کا جذبہ بیدار کرے تو سمجھنا چایئے کہ عبادت قبول اور دعائیں منظور ہوئیں ۔اس کے بجائے اگر مسلم امت کے کھاتے پیتے گھرانو ں کے مرد و زن ،پیر و جوان اور بچے خود عید کی خوشیو ں میں مست و محو ہو ں اور اُدھر کوئی ایک بھی یتیم و نادار بچہ یا بچی اور کوئی کم نصیب بیو ہ ان کے درمیان مایوس و مغموم بیٹھے ہوں تو یہ کہا ں کی مسلمانی ہوئی ؟یقین جانئے کہ ایسے یتیموں اور نادارو ں کی آنکھو ں سے آنسو ئو ں کی نہ ٹوٹنے والی لڑی قہر الٰہی کا باعث ہو سکتی ہے ۔
یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب مغموم یتیمو ں کے ہم عمر دوسرے بچے بچیاں عید کے روز خوشیو ں میں مگن ہو ں تو یہ دیکھ کر ان کا دل خودبخود بیٹھ جاتا ہے ۔اگرو اقعی ایسا ہوا تو پھر سمجھ لیں کہ ملت اسلامیہ جان کنی کی حالت میں ہے ۔اس سے پہلے یہ منظر اللہ کے غضب کو دعوت دے ،اٹھیں اپنے آ س پاس کے محتاجِ امداد یتیمو ں اور بیوائو ں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بغیر کسی ریا کاری اور دکھاوے کے ان کی دلجوئی شریعت اسلامی کے دائرے میں کر کے اللہ کو راضی کریں اور حقیقی عید منائیں ۔
���������
( مراسلہ نگارکشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار برائے کپوارہ ہیں۔رابطہ7780840219)