تازہ ترین

ابررحمت بن کے چھاجاؤپیام عیدہے

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


محمدقمرانجم قادری فیضی
عیدکادن بہت ہی مسعودومبارک اور خدائے تعالیٰ کے مہمان کے دن ہے۔آج کے دن ہم سب خدائے تعالیٰ کے مہمان ہیں، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب خدائے تعالیٰ نے ہمیں اپنا مہمان بنا کر کھانے پینے کاحکم دیاہے تو ہم کو اس سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ عید کے دن روزہ رکھنا گویاخدائے تعالیٰ کی مہمانی کو ردّ کرناہے ۔یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تہوارہے۔ہمارے تہوار میں کھیل تماشہ اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا، ستانانہیں ہوتا بلکہ خدانے جس کو دیاہے وہ دوسرے ضرورتمندوں کی حاجتیں پوری کرتاہے۔ مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے نئے نرالے دلکش کپڑوں میں خوشی خوشی کھیلتے کودتے اچھلتے دیکھتاہے توغریب کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اسکے بچوں کی حسرت بھری آنکھیں اس سے دیکھی نہیں جاتی۔مسلمان دولت مند اپنے گھرکے دس قسم کے خوشبوداراور مختلف النوع لذیذکھانوں کو اس وقت تک نہیں چھوتا جب تک مفلس پڑوسی کے گھر میں دھواں اٹھتا ہوا نہ دیکھ لے، بھلا میری کیا عید اگر میرا پڑوسی آج کے دن بھوکارہا، بھلامیری سجی سنوری ہوئی بیوی مجھے کیسے بھا سکتی ہے جبکہ برابر میں ایک نادارکی بیوی کے کپڑوں میں تین چار پیوند لگے ہیں۔
عیدکی فضیلت حدیث پاک میں ہے کہ عیدکے دن فرشتے راستوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف آؤ، تمہیں خوب انعامات ملیں گے تمہیں راتوں کو عبادتیں کرنے اوردنوں میں روزہ رکھنے کا حکم ہوا، وہ تم نے پوراکردیا، اب جاکر اپنے اپنے انعامات لے لو، پھر جب عیدکی نماز ہوجاتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتاہے کہ جاؤ تم سب کی مغفرت ہوگئی، حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ دن آسمانوں میں یوم الجائزہ یعنی انعام کا دن کہلاتاہے اور عید کا دن یوم الشکوربھی ہے ۔
حدیث رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں چاندکی رات کو لیلۃ الجائزۃ یعنی انعام کی رات کہاگیاہے یعنی اسی رات میں اللہ تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو اپنے انعام واکرام سے نوازتاہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عید کے چاند کی رات آتی ہے تو آسمانوں پر اس رات کو انعام واکرام کی شب سے یاد کیا جاتاہے اور جب عیدالفطر کی صبح کی سپیدی نمودار ہوجاتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فرشتوں کو انسانی بستیوں میں جانے کا حکم دیتاہے اوروہ نوری مخلوق انسانی آبادیوں کی گلیوں کوچوں شاراہوں چوراہوں پر کھڑے ہوتے ہیںاور ایسی آواز میں پکارتے ہیںجو جنات وانسان کو چھوڑ کرہر مخلوق ان کی اس نداء کو سماعت کرتی ہے ۔فرشتے نداء لگاتے ہوئے کہتے ہیں کل ایامت محمدیہ ؐ اس حقیقی رب کی بارگاہ اقدس میں چلو جو بہت زیادہ انعام واکرام سے نوازنے والا ہے، اپنے اس پالن ہار، رب کی بارگاہ میں آؤ جو کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتا، اور کبھی کسی سے کچھ نہ لیکر بھی پورے عالم کو بے حساب وکتاب عطا فرماتا ہے ۔ اورجب مومن بندیاپنے اپنے عید گاہوں کی طرف اپنی جبین نیاز کو اس رب تعالی کی بارگاہ میں سرکو جھکانے کے لئے نکلتے ہیں۔ تو اللہ عزوجل فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ،اے فرشتوں ۔اس مزدور کا کیا اجر ہے جو اپنے کام کو پورے ایمانداری کیساتھ کیاہو،تب وہ نوری فرشتے عرض کرتے ہیں،ائے میریمالک وپالن ہار، اس کی مزدری یہی ہے کہ اس کی اجرت جلد ازجلد دے دی جائے،تب اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے،کہ اے فرشتوں۔گواہ رہنا میں نے اپنے بندوں کو رمضان المبارک کے مقدس ومتبرک روزوں اور تراویح کے بدلے میں بخشش فرمادی ہے ۔ اورپھر بندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے اے میرے بندو مجھ سے سوال کرو مجھ سے مانگو میری عزت وجلال اور بلندی کی قسم۔ آج، عیدالفطر کے دن جو بھی دارین کے بارے میں مانگو گے سب کچھ عطا کروں گا اور میری عزت وجلال کی قسم !میں تمہیں کبھی منکرین وملحدین کے سامنے ذلیل وخوار نہیں ہونے دوں گا۔
رمضان شریف کے بعد جب عید کا چاند نظر آئے گا تو دو قسم کے لوگ ہوجائیں گے،ایک وہ لوگ جنہوں نے آہ و زاری کرکے، گریہ و زاری کرکے،ندامت کے آنسوبہا کر اللہ پاک کو خوش اور راضی کرلیا اور اپنے گناہوں کی معاف کرالی، یہ بخشے بخشائے لوگ ہیں، یہ بامراد لوگ ہیں۔ اور کچھ لوگ نامراد  ہوں گے، جس دن عید کا چاند نظر آئے گا تو ایک طبقہ ایسا ہوگا جو نامراد ہوگا، جس نے اس مبارک مہینے میں بھی گناہ نہیں چھوڑا ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی درخواست کرکے ان کو رو رو کرراضی نہیں کیا ہوگا۔
 (مضمون نگاراردوویب سائٹ پیغام امن کے ایڈیٹرہیں ۔رابطہ 6393021704)