تازہ ترین

عید صیام۔۔۔حقوق العباد کی یاد دہانی

تاریخ    24 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


طارق شبنم
       شب و روز اور ماہ و سال کی آ مد کا سلسلہ ایک فطری اور اٹل نظام کے تحت بدستور جاری ہے اور دنیا کے قائیم رہنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اس فطری نظام میں کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے اسی نظام کے تحت رمضان ا لمبارک کا رحمت و مغفرت، آزادی یعنی جہنم کی آگ سے بچنے کا،کثرت سے تلاوت قران پاک اور دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہم سے رخصت ہونے جا رہا ہے اور ہلال عید کا طلوع انشا اللہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ طلوع ہونے والا ہلال عید عالم اسلام کے لئے بلعموم اور ریاست جموں کشمیر کی آبادی کے لئے بلخصوص امن آشتی، سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے اٰمین۔
عید الفطر امت مسلمہ کے لئے انتہائی با برکت اور خوشیوں کا موقعہ ہے۔ اس دن اللہ تبار ک تعالیٰ کی جانب سے بے شمار رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو بہتر انعام اور بدلہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور پر نور ؐ نے ارشاد فرما یا کہ عید ا لفطر کی رات اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ بتائو جب مزدور اپنی مزدوری پوری کر چکا ہو تو تو اس کی جذا کیا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود !!! اسے پوری مزدوری ملنی چاہیے۔ اللہ فرماتا ہے کہ فرشتو! تم گواہ رہو کہ میں نے روزہ داروں پرہیز گاروں کو بخش دیا اور ان کے لئے جنت کو واجب کر دیا ۔ اس لئے اس رات کا نام ــــ’’ لیلتہ الجائزہ‘‘ یعنی انعام والی رات ہے۔عید کی صبح اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بے شمار فرشتوں کو شہروں میں بھیجتے ہیں اور وہ گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہو کر پکارتے ہیں جن کی پکار کو انسان اور جنوں کے علاوہ سب مخلوق سنتے ہیں وہ کہتے ہیں ! اے محمدﷺ کی امت کے لوگو رب کریم کی بارگاہ کی طرف نکلو وہ بہت زیادہ عطا فرمانے والاہے ، بہت انعام دینے والااور بڑے بڑے گناہوں کی بخشش کرنے والاہے۔
عید الفطر کی خوشیوں میں یوں تو تمام مسلما ن شریک رہتے ہیں لیکن اصل میں عید الفطر کی خوشیان منانے کے زیادہ حقدار وہی خوش نصیب مسلمان ہیں جنہونے اس مبارک مہینے کا پورا پورا احترام کیا اس کی تمام عبادات کو اللہ کی رضا جوئی کے لئے خوشی خوشی انجام دیا ۔ روزہ و تراویح کا مکمل احتمام کیا ۔ صدقات اور خیرات بانٹنے میں بخل سے کام نہیں لیا ۔ شب بیداری میں عبادات میں محو رہے اور اللہ کی مقدس کتاب قران کریم جو اسی مہینے مں نازل ہوا ہے ،کو خود بھی پڑا اور دوسروں کو بھی پڑھایا سکھایااورحسب توفیق اس سے استفادہ کرکے اس کے فرامین پر عمل کیا۔
عید کا تہوار اجتمائی خوشی اور شاد مانی کا دن ہے اسے انسان اور انسانی سماج کے لئے فطری ضرورت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسلام نے اس خو شی کے دن کو منا نے کا ایک پاکیزہ اور بلند تصور دے کر انسان کو انسانیت کی تعلیم دی ہے۔ اسلام نے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خوشی اور غمی کے اظہار کا جو سبق دیا ہے دوسری تہذیبوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔دوسرے اقوام میں تہو ار کے موقوں پر لوگ خوشیوں میں مگن ہو کر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں خوب ناچتے کودتے اور موج مستی کرکے دوسروں کے لئے پریشانیاں پیدا کرتے ہیں لیکن امت مسلمہ جو تمام صفات میں دوسرے اقوام سے مختلف ہے اپنے خوشی کے تہواروں کے موقعوں پر نہ ہی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے لئے پریشا نیاں کھڑا کر دیتی ہے ۔ اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق خصوصی عبادات کا احتمام کرتی ہے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی پیار و محبت اور صلہ رحمی سے پیش آتی ہے ۔ غرض یہ کہ رضائے الہٰی کو مد نظر رکھ کر سارے لوازمات ادا کر دیتے ہیں جسے مسلمانوں کی جمیت اور شان کا اندازہ ہوتا ہے۔
رمضا ن المبارک کے روزے اصل میں مسلمانوں کے لئے تقوا اور پرہیز گاری حاصل کرنے کا ایک آسمانی نسخہ اور موثر زر یعہ ہے تاکہ ہم اپنے نفس پر قابو پاکر اسے حقیقت میں اسلامی شریعت کے تا بیع بنانے کی کوشش کریں۔ ہماری زندگی اسلام ایمان اور پرہیز گاری کی جیتی جاگتی مثا ل بن کر مکمل طور اللہ اور رسولؐ کی اطاعت میں گزرے۔آج ہما رے معاشرے میں جو انتشار ،بے اہ روی، رشوت ستانی اخلاقی پستی ،دوسروں کی حق تلفی اور بد امنی دیکھنے کو مل رہی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین سے دور ہوکر اپنی ذمہ داریوں کو فرا موش کر چکے ہیں ۔ماہ رمضان کی تربیت مسلمانوں میں یہی احساس اجاگر کرنے کے لئے ہے کہ تقوا شعار بن کے اللہ کے احکامات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ اگر خدا نہ خواستہ عید کے بعد بھی ہما ری زندگی ایمان اور خوف خدا سے عاری رہی اور ہم اپنے آپ کو بے لگام سمجھ کر اللہ اور رسولؐ کی نافرمانیوں سے باز نہیں آئے تو ہمار ی روزہ داری اور شب بیداری سے ہمیں بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوکا۔
ماہ رمضان المبارک  کے مہینے میں اللہ تبارک تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لئے قران مجید اپنے محبوب اور آخری رسولؐ کو عطا فرمایا ۔ عید کا پیغا م مسلمانوں کے لئے یہ ہے کہ اللہ نے قران کی صورت میں امت مسلمہ کو جس عظیم ترین نعمت سے نوازاہے مسلمان اسی کو پوری زندگی کے لئے مکمل دستور عمل کی حیثیت سے من و عن قبول کر کے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں اس کے احکامات پر پوری یکسوئی اور خوش دلی سے عمل کریں۔ اسی قران نے ہمیں سادگی اختیار کرنے اور فضول کرچی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ حقوق العباد یعنی انسانوں پر دوسرے انسانوں کے حقوق سے آ گاہی دی ہے۔ عید کے موقعے پر ہمیں قران کریم کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے۔ چناچہ موجودہ پر آشوب حالات میں وادی کشمیر میں ہزاروں یتیموں،بیوائوں، ناداروں اور د یگر محتا جین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔اسلئے اس صورت حال کے پیش نظر ہمیں عید نہایت سا دگی سے منانی چاہیے اور انسانیت اور اسلام کے جذبے کے تحت ان ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد اعانت اور دلجوئی کرنے میں آگے آنا چاہیے ۔حضرت عبد اللہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور پرنور ؐ نے فرمایا کہ اے مسلمانو! عید ا لفطر کے دن نماز عید سے پہلے  محتاجوں،مسکینوں اور غرباء کو صدقے دیا کرو۔ 
عید کے موقعے پر ہمیں ان اٖ فرا د کو ہر گز نہیں بھولنا چاہیے جو مفلوک الحال، معذ ور اور مجبور ہیں۔ ہمیں ان کی بھر ہور مدد و اعانت اور دلجوئی کرنی چاہئے تاکی وہ بھی عید کی خو شیوں میں شامل ہوسکیں۔ جو لوگ عید کے دن یا اس کے بعد اپنے اخراجات پر غیر ضروری طور اصراف کرکے کثیر رقومات خرچ کرتے ہیں ، سیر تفریح اور دیگر گیر ضروری مشاغل میں خوب پیسے اڑاتے ہیں اگر انہونے غرباء و مساکین کی خدمت نہیں کی  تو یقیننًا ایسے لوگ اللہ کی بارگاہ میں گناہ گار ہونگے۔ اللہ تبارک تعالیٰ تمام عالم انسانیت پر اپنی رحمتوں کی بارش کرکے امن و آشتی اور سکون وراحت عطا فرما دے اٰ مین۔
رابطہ ۔tariqs709@gmail.com