کورونا وباسے روایتی تعلیمی نظام شدید متاثر

اب آگے کلاس روم نہیں آن لائن ایجوکیشن ہوگی

تاریخ    23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر مشتاق احمد
کوروناوائرس کی وباء نے عالمی سطح پر معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور تعلیمی مسائل پیدا کردئے ہیں اورچوںکہ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں۔ اس لئے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گذارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔ لہٰذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میںبھی کورونا کے بعدایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصو ص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کاخاکہ شروع بھی ہوگیا ہے۔ غرض کہ کلاس روم تعلیم اور امتحان کی جگہ آن لائن تعلیم وامتحان اور دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے بھی ذرائع ابلاغ کا سہارا لینا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ جب تک کورونا کے وائرس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا اور جو مستقبل قریب میں ممکن نہیں اس وقت تک نئے تعلیمی طریقہ کار کو ہی اپنانا ہوگا۔اس لئے یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن جو ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے اصول وضوابط طے کرتی ہے اس نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ہدایت نامہ جاری کرنا شروع کردیا ہے کہ اب وہ کلاس روم تعلیم کی جگہ نئے طریقہ کار یعنی آن لائن ،سوشل میڈیا ، یوٹیوب ،فیس بک ، ویب سائٹ ، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کے ذریعہ تعلیم اور امتحان دونوں کا اہتمام کریں۔ واضح ہو کہ ہمارے ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار یونیورسٹیاں ہیں اور55ہزار کالجز ہیں جہاں گذشتہ تقریباً تین ماہ سے سنّاٹا چھایا ہواہے۔ لیکن یو جی سی کی ہدایت اور مختلف ریاستی حکومتوں کی طرف سے بھی اعلانیہ جاری کیا گیا ہے کہ طلبا وطالبات کے تعلیمی کیلنڈر کو پورا کرنے کے لئے آن لائن طریقہ کار کواپنایا جانا چاہئے اورکہیںکہیں شروع بھی ہوگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک میںبہت سی ایسی یونیورسٹیاں ہیںجہا ں پہلے سے ہی یہ تعلیمی طریقہ کار اپنایا جا رہاہے۔ لیکن ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی کے پاس آن لائن تعلیم فراہم کرنے یا پھر امتحانات لینے کابنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے قومی سطح پربھی جب کوئی مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں تو نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی بہت سی نجی کمپنیوںکے سہارے آن لائن امتحان کا اہتمام کرتی ہے۔ یہاں اس حقیقت کابھی اعتراف ضروری ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جو اپنی تعلیمی فیس کی آمدنی پرمنحصر ہو جیسا کہ یوروپ میں ہوتا ہے کہ یونیورسٹی نہ صرف خود مختار ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اپنی ریاست یا ملک کی ترقی کے لئے بھی خرچ کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی ترقی کا انحصار سرکاری فنڈ فراہمی پر ہے۔مثلاً امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی نہ صرف امریکہ کی اقتصادیات میں معاون رہتی ہیںبلکہ ہزاروں لوگوں کوروزگار بھی فراہم کرتی ہے اور یہ یونیوسیٹیاںصرف اورصرف اپنی آمدنی پر تعلیمی سرگرمیوںکے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوںکوجاری رکھتی ہیں۔ اسی طرح انگلینڈ کی کئی یونیورسٹیاں ملک کی جی ڈی پی کو بڑھانے میں اہم کردا ر ادا کرتی ہے لیکن ہندوستان میں اس کا تصور بھی محال ہے۔لیکن اب جب حکومت کی طرف سے نئے طریقہ تعلیم پر زور دیا جا رہاہے اور کلاس روم درس وتدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام کرنا اور پھر امتحان کے لئے بھی جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہاہے تو ایسے وقت میں سب سے پہلے یونیورسیٹوں اور کالجوں میں جدید ترین کمپیوٹر اوردیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں اورکالجوں میں اسّی فی صد طلباء دیہی علاقے کے متوسط اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سبھوں کے پاس جدید ترین اسمارٹ فون سیٹ نہیں ہیں کہ وہ آن لائن یا دیگر سوشل میڈیا کے طریقہ کار کو اپنا سکیں۔ ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ دیہی علاقے کے طلباء جوگائوں دیہات میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ کی سہولت اگر ہے بھی تو وہ بہت کمزور ہے۔بالخصوص دیہی علاقے کی لڑکیوں کو آن لائن تعلیم یا پھر آن لائن امتحان میںبڑی مشکل ہو سکتی ہے کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ دیہی علاقے کے نوّے فیصد طلباء کے پاس جدید ترین اسمارٹ موبائل موجود نہیں ہے۔ اس لئے اگر اس کورونا کے بعد کی دنیا بدل رہی ہے اور تعلیمی شعبے میں بھی تبدیلی ضروری ہے تو اس سے پہلے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا اور دیہی علاقے کے طلباء اور طالبات کو کم شرح پر اسمارٹ فون یا پھر ٹیب کی سہولت فراہم کرنی ہوگی او ر اس کے لئے حکومت کو ایک بڑے فلاحی بجٹ کا اہتمام کرنا ہوگا ساتھ ہی ساتھ بینکوں کے ذریعہ بھی کم سود پر تعلیمی قرض کو عام کرنا ہوگا کہ نجی اداروں میں پڑھنے والے طلباء کو ایک بڑی فیس کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے اور اس کورونا کے بعد متوسط طبقے کی معاشی زندگی بھی دشوار کن ہوگئی ہے۔ ایسی صورت میں کمزور گارجین کے لئے اپنے بچوں کو جدید ترین آلات کے ذریعہ تعلیم دلوانا یا جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ 
اسلئے حکومت کو ان مسائل پر بھی غوروخوض کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب تک ہمارے ملک میں اب تک جو تعلیمی ڈھانچہ ہے وہ کلاس روم پر مبنی ہے۔ اب جب کہ اس کورونا نے اجتماعی زندگی کو ہمارے معاشرے کے لئے جان لیوابنا دیا ہے تو یہ فطری بات ہے کہ اب کلاس روم کی تعلیم متاثر ہوگی اور تعلیمی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ ہم جدید ترین طریقہ کار کو اپنائیں لیکن اس کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسی تعلیمی پالیسی طے کریں جس سے نہ صرف بڑے شہروں کے تعلیمی ادارے کے طلباء مستفید ہو سکیں بلکہ دیہی علاقے کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں اور جدید طریقہ تعلیم سے مستفیض ہو سکیںکیوں کہ ملک کی ستّرفیصد آبادی آج بھی گائوں میں رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں متوسط اور کمزور طبقے کے اندر بھی تعلیم کی طرف رجحان بڑھا ہے لیکن اس کورونا کی معاشی مار سے یہ طبقہ شاید سال دو سال تک راحت نہیں پا سکتا۔ ایسی صورت میں بس ایک ہی راستہ ہے کہ سرکاری سطح پر کمزور طبقے کے طلبا ء کے لئے کوئی خصوصی فلاحی اسکیم چلائی جائے جس سے اس کا مستقبل متاثر نہ ہو سکے۔
�����������
موبائل:9431414586 
ای میل: rm.meezaz@gmail.com
 

تازہ ترین