دل کا چو ر مرا نہیں ،سجد ہ کیا تو کیا ہوا ؟

غیر صالح اعمال کے تسلسل میں نجات کی اُمید عبث

تاریخ    23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


منظور انجم
ماہ مبارک رخصت ہوچکا ہے ۔یقین نہیں آتا کہ پورا ایک مہینہ بیت گیا۔کل ہی کی بات ہے ماہ مبارک کا چاند دیکھنے کی بے تابی تھی اور آج عید کے چاندکا انتظار ہے ۔کیا واقعی وقت کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے کہ انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ ماہ و سال کیسے اس کی زندگی سے سرک رہے ہیںیا انسانی زندگی میں ہی کچھ ایسی تبدیلیاںپیدا ہوئی ہیں کہ وہ وقت کی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتا ۔ہر انسان یہ محسو س کررہا ہے لیکن یہ احساس محض ایک احساس ہے جس کی حقیقت سمجھنے سے وہ قاصر ہے ۔ اب کی بارتو زندگی کی رفتار پوری طرح سے تھم گئی تھی ۔لوگ گھروں میں بیٹھے تھے ۔نہ کوئی مصروفیت تھی ۔نہ کوئی جلدی تھی ،پھر بھی پتا ہی نہیں چلا کہ وقت کیسے بیت گیا ۔ شاید ذہنوںکا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انسان کا وجود اس کے نیچے دب کر رہ گیا ہے ۔اس لئے اسے پتا ہی نہیں چل رہاہے کہ وقت کیسے سرکتا جارہا ہے ۔بہرحال یہ ایک ضمنی تذکرہ تھا۔ اصل موضوع یہ ہے کہ اس بار جبکہ کرونا کی دہشت ہم پر حاوی تھی ۔ لاک ڈائون تھا ۔ حالات کے گہرے زخم تھے ۔ مسجدیں بند تھیں۔ معاشی بدحالی تھی ،ہم نے روزہ رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ ایک اندازے کے مطابق اس بار پہلے سے زیادہ لوگوں نے روزہ رکھا ،خاص طور پر نوجوانوں نے پابندی کے ساتھ روزہ رکھا ۔ایک نوجوان سے میں نے پوچھا کہ پہلی بار پابندی کے ساتھ روزہ رکھنے کی کوئی خاص وجہ تھی تو اس نے کہا کہ اللہ کا عذاب آیا ہے ،اس لئے اس کے آگے رجوع کیا کہ وہ اس بلا کو ہمارے سروں سے دور کردے ۔ایک دانشور سے بھی میں نے پوچھا جو اللہ کے وجود پر کبھی کبھی شک کا اظہار بھی کرتا ہے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ کرونا کی دہشت نے اسے اللہ کے قریب لایا ہے ۔ایک درزی سے میں نے پوچھا جو عید کے موقعے پر سال بھر کے لئے کماتا تھا لیکن اس بار بیکار بیٹھا ہوا ہے تو اس نے بتایا کہ اب اللہ پر ہی بھروسا ہے کہ وہ ہمیں بھوک سے بچائے ۔
روزہ داری کی اپنی اپنی وجوہات تھیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ حالات کے جھٹکوں اورکرونا کی خوفناک دہشت نے لوگوں کے دلوں میں ایک ہی معجزے کی امید باقی رکھی ہے کہ اس کا رحم و کرم انسان کو اس عذاب سے نجات دے گا لیکن جب عید کا دن قریب آیا تو میرا یہ یقین ڈگمگانے لگا ۔میں نے دیکھا کہ کئی دن پہلے ہی لوگ کرونا وائرس سے بے پرواہ ہوکر گھروں سے نکل کر گوشت ، مرغ ، پنیر کی تلاش اس طرح سے کررہے ہیں جیسے پکوانوں کے بغیر ان کے روزے قبول نہیں ہوں گے ۔قصائیوں کی دکانیں بند پڑی تھیں لیکن وہ گھروں میں چوری چھپے گوشت چھ سو روپے میں فروخت کررہے تھے ۔ حکومت نے گوشت کی قیمت پانچ سو روپے مقرر کرکے خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی قصائی اس سے زیادہ دام لیتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔کئی قصائیوں کو پکڑا بھی گیا لیکن صبح پکڑ کر شام کو چھوڑ بھی دیا گیا ۔ پائین شہر کے ایک قصائی کو پولیس نے گرفتار کرلیا لیکن شام کو جب اسے چھوڑ دیا گیا تو باقی بچا ہوا گوشت اس نے شام کوہی ساڑھے چھ سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا ۔دوسرے روز اس نے سات سو روپے فی کلو قیمت مقرر کردی ۔گویا گرفتاری اس کے لئے قیمت خود مقرر کرنے کی آزادی تھی ۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس نے بھی پابندی کے ساتھ روزہ رکھا ۔مرغ کی قیمت ایک سو دس روپے مقرر کی گئی تھی لیکن بازار میں کھلے عام پہلے ڈیڑھ سو اوراس کے بعد ایک سو ساٹھ سے ایک سو ستر روپے تک فروخت کیا گیا ۔میں ایک مرغ فروش کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ نوجوان ہے اور پوری دنیا میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا زبردست حامی ہے ۔وہ پوری دنیا کو اسلام کا دشمن سمجھتا ہے اس لئے پوری دنیا کے خلاف ہے ۔وہ ترکی سیریل ’’ ارتغرل ‘‘ بھی دیکھتا ہے ۔وہ بے پردگی اور بے حیائی کے سخت خلاف ہے اور لاک ڈاون سے پہلے باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں جاکر نماز بھی ادا کیا کرتا تھا ۔ جمعہ کے روز میں نے اسے مرغ کا بھاو دریافت کیا تو اس نے کہا کہ آپ کے لئے ایک سو ستر روپے ورنہ میرے پاس مال بہت کم ہے ۔ آگے سے زیادہ دام میںمل رہا ہے میں کیا کروں ۔آم اس وقت بازار میں وافر مقدار میں مل رہا ہے ۔جگہ جگہ میں نے دام معلوم کیا تو ایک سو اور ایک سو دس سے کم کہیں نہیں ملا ۔ جاتے جاتے میں جواہر نگر پہنچا ۔وہا ں میری جان پہچان کا ایک ریڑی والا تھا ۔ وہ میری بڑی عزت کرتا ہے کیونکہ اسے یہ وہم ہے کہ یہ اثر و رسوخ کامالک ہے۔ اس نے ایک سو روپے میں مجھے دو کلو آم دئیے ۔میں سوچنے لگا کہ جو لوگ سو روپے میں ایک کلو بیچ رہے ہیں ،اس کامطلب ہے کہ وہ کئی گنا منافع کمارہے ہیںکیونکہ سو روپے میں دو کلو دینے والے نے بھی اپنا کچھ منافع رکھا ہوگا ۔حیرت مجھے اس بات پر ہوئی کہ لوگ گوشت حاصل کرنے کے لئے مرے جارہے تھے ۔انہیں اگر آٹھ سو نو سو روپے میں بھی کلو مل جاتا تو خریدنے کے لئے تیار تھے ۔کیا انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کرکے وہ ایک بڑا گناہ کررہے ہیں ،وہ منافع خوری کو بڑھاوادے رہے ہیں اور ان لوگوں کو گوشت سے محروم رکھ رہے ہیں جو مہنگے داموں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ۔سب روزہ دار ہی تھے لیکن ان کے اندر سماجی ذمہ داریوں کا کوئی احساس نہیں تھا جو اللہ نے ہی ان پر عاید کردی ہیںاور جواسلام کی روح ہے۔
شب قدر کی رات صفا کدل کی ایک مسجد کے امام صاحب نے لاوڈ سپیکر پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد میں آجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے یہاں کسی وبا کا ڈر نہیں ۔ یہاں اللہ آپ کی حفاظت کرے گا ۔ انہوں نے لوگوں کو قائل کرنے کیلئے کہا کہ حکومت مسجدوں کو ہی کیوں بند کررہی ہے۔ بینکوں کو کیوں نہیں ۔ بینک کھلے ہیں، وہاں لوگ آتے جاتے ہیں ،اسلئے ہم اللہ کے گھر کو بند نہیں کریں گے ۔ آئو ۔۔اور اللہ کے آگے سر بسجود ہوجائو ۔یہ بات بھولے بھالے لوگوں کے دلوں کو چھوگئی اور وہ گھروں سے نکل کر مسجد میں پہنچے ۔اس کے بجائے امام صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اللہ کا گھر کعبہ بھی بند ہے ۔ مسجد نبوی صلعم بھی بند ہے ۔ مسلم دنیا کے تمام عالموں اور مفتیوں نے فتوے جاری کئے ہیں کہ گھروں میں ہی شب قدر کی عبادت کا اہتمام کیا جائے ۔لیکن ا س نے یہ نہیں کہا ۔ شاید اسے یہ سب معلوم ہی نہیں تھا ۔ اس لئے اسے مسجد کا بند ہونا اور بینکوں کا کھلا ہونا مسلمانوں کے خلاف ایک سازش نظر آئی۔ اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا کہ اگر ایک بھی فرد کرونا سے متاثر ہوگا تومسجد میں آنے والا ہر فرد اس کا شکار ہوجائے گا اور جب وہ گھر جائے گا تو اس کااہل و عیال بھی اس ہلاکت خیز بیماری کا شکار ہوگا ۔امام صاحب کو شاید یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک بار مدینہ منورہ میں شدید بارش ہوئی تو پیغمبر اسلام صلعم نے مسجد نبوی سے ہی اعلان کرایا کہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں بلکہ گھروں میں ہی نماز ادا کریں ۔اکثر امام صاحبان مطالعے میں دلچسپی نہیں رکھتے اس لئے انہیں تاریخ اسلام اور حیات نبوی صلعم کے بارے میں بھی زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوتیں ۔ وہ نہیں سمجھ سکتے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کی ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر انسان کی زندگی کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ جن علماء نے مسلمانوں کو مساجد میں جانے سے روکا ،ان کے وسیع علم نے انہیں یہ سمجھ عطا کی ہے کہ اسلام جنون نہیں ہے ۔جنون لا پرواہ ہوتا ہے ۔ اسلام لاپرواہ ہونے سے روکتا ہے ۔ہمارے کئی صحابی وبا کا شکار ہوکر ہی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان میں اسلام کے عظیم سپہ سالار حضرت ابو عبیدہؓ بھی شامل ہیں ۔ اسلئے کرونا وائرس جیسی ہلاکت خیز وباء سے اپنے آپ کو بچانا بھی ایک عبادت ہی ہے کیونکہ اگر آپ اپنے آپ کو بچائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت سارے انسانوں کی زندگی بچاتے ہیں جن میں آپ کا اپنا عیال بھی شامل ہے ۔اسلام اپنے ماننے والوںسے جو سب سے پہلا تقاضا کرتا ہے وہ علم کا حصول ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ عید کے موقعے پر مرغوں کی منافع خوری کرنے کا گناہ دنیا میںشریعت کے نفاذ کا نعرہ لگانے سے معاف نہیں ہوتا ۔ اُس قصائی کا روزہ بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوسکتا جو گوشت کی منافع خوری کرکے غریب مسلمانوں کو گوشت سے محروم رکھتا ہے ۔ہر عبادت کا مقصد صالح عمل ہے اور اگر عمل صالح نہیں توعبادت بھی قبول نہیں ہوسکتی ۔
 

تازہ ترین