تازہ ترین

لاک ڈاؤن کا62واںدن، جمعتہ الوداع پر بھی کوئی اجتماع نہیں

شہر میں 2ماہ کے بعد آٹو رکھشا نظر آئے

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// ملک گیر لاک ڈائون کے62ویں روز وادی میں بہت حد تک نرمی برتی گئی اور شہر سرینگر میں 2ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار آٹو رکھشا سڑکوں پر دوڑتے نظر آئے۔ادھر رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کو بھی تما م چھوٹی بڑی مسا جد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل9ویں ہفتے بھی وادی میں با جماعت نمازجمعہ کی ادائیگی نہیں ہوسکی۔مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے شبانہ کرفیو سختی کیساتھ لاگو کرنے کے بعد شہر سرینگر میں رات کے 11بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنا قریب قریب نا ممکن بن گیا ہے۔لال چوک، جہانگیر چوک، بٹہ مالو اور پورے پائین شہر میں سخت ترین شبانہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے۔ پچھلے 3روز سے شہر میں رات کے دوران مکمل سناٹا چھا گیا ہے کیونکہ ہر ایک سڑک سیل کی جاتی ہے، ہر یک سڑک کو خاردار تار بچھا کر بند کرنے کے علاوہ رکاوٹیں کھرٓ کی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ فلائی اوور آنے اور جانے کیلئے بھی بند کردیا جاتا ہے۔جمعرات اورجمعہ کی شب بھی کرفیو میں سختی کی گئی اور یہ سلسلہ سہ پہر تک جاری رہا۔ البتہ اس کے بعد شہر میں بندشیں نرم کی گئیں ، جس کے بعد لوگوں کی اچھی خاصی تعداد خرید و فروخت میں مصروف ہوئے۔پائین شہر میں کئی کپڑوں اور ریڈی میڈ گارمنٹس کے علاوہ تانبے کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں ۔ میوہ فروش معمول کی طرف میوہ فروخت کررہے تھے۔البتہ گوجوارہ چوک سے راجوری کدل چوک تک کا علاوہ بند تھا کیونکہ یہاں پر دکانداروں نے احتجاج کیا تھا۔دیگر علاقوں میں صورتحال معمول کے مطابق تھی اور کہیں کہیں اکا دکا کاروباری و تجارتی مراکز کھلے رہے۔پورے شہر سرینگر میں بیکری کی دکانیں کھلی رہیں۔جمعہ کو جامع مسجد سمیت دیگر چھوٹی بڑی مساجد اور خانقاہوں میں جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوسکے۔پائین شہر میں پرائیویٹ گاڑیوں کی اچھی خاصی تعداد سڑکوں پر تھی اور آٹع رکھشا بھی چل رہے تھے۔وادی کے دیگر قصبوں میں بھی تھوڑی بہت نرمی برتی گئی جس کے باعث لوگ تھوری بہت خریداری کرنے میں کامیاب ہوئے۔
 

تازہ ترین