تازہ ترین

۔ 10ہزار اسامیوں کا بھرتی عمل جون میں شروع کیا جائیگا

متعلقہ اضلاع اور صوبائی خطوں کے امیدواروں کو ترجیح دی جائیگی، ایل جی کی زیر صدارت میٹنگ میں فیصلہ

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
جموں//لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو نے تیز تر اور بے نقص بھرتی عمل کو یقینی بنانے کیلئے بھرتی قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور ہر سطح پر شفافیت بھرتنے پر زور دیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے راج بھون میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مختلف سطحوں، بالخصوص درجہ چہارم اور درجہ سوم خالی اسامیوں پر بھرتی عمل میں سرعت لانے کیلئے جاری انتظامات کا جائیزہ لیا ۔ ایکسلریٹڈ ریکروٹمنٹ کمیٹی نے زائد از دس ہزار اسامیوں کی بھرتی کیلئے ابتدائی تجاویز میٹنگ میں پیش کی، یہ کام دس دنوں کے اندر مکمل کیا گیا ۔ بھرتی عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ درجہ چہارم اسامیوں کیلئے بیواؤں ، ناداروں ، طلاق شدہ عورتوں اور اکیلے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ماؤں اور اُن کنبوں کے اُمیدواروں، جن کے کنبے کا کوئی بھی فرد سرکاری ملازمت میں نہیں ہے، کو منصفانہ اور بہترنمائندگی فراہم کرنا ہے ۔ اس ضمن میں درخواستیں داخل کرتے وقت خود تصدیق شدہ تصدیق نامہ پیش کرنا ہو گا جو اسامی کیلئے انتخاب کے بعد اور ملازمت شروع کرنے سے پہلے متعلقہ ایس ڈی ایم کی جانب سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے ۔ اس کے علاوہ کسی اسامی کیلئے منتخب ہونے کی صورت میں اُمیدوار کو حقِ شہریت سند بھی پیش کرنا ہو گی ۔ تا ہم درخواستیں داخل کرتے وقت اس سند کو پیش کرنا لازمی نہیں ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اسامیوں کی بھرتی میں دور دراز اضلاع کو معقول نمائندگی یقینی بنانے کی ہدایت دی ۔ اس ضمن میں میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ ڈسٹرکٹ کاڈر اسامیوں کیلئے ضلع کے اُمیدواروں کو اضافی نمبرات دئیے جائیں گے تا کہ دیگر اضلاع کے اُمیدوار اُن اسامیوں کیلئے منتخب نہ ہو سکیں ۔ اسی طرح صوبائی سطح کی اسامیوں کیلئے متعلقہ صوبے کے اُمیدوار کو ہی ترجیح دی جائے گی تا ہم یو ٹی سطح کی اسامیوں کیلئے یونین ٹیر ٹری کے تمام اہل اُمیدواروں کا انتخاب آزادانہ اور منصفانہ مقابلے کے تحت ہی کیا جائے گا ۔ ان انتظامات سے حال ہی میں مشتہر کئے گئے مختلف کوٹہ کے تحت اسامیوں کی ریزرویشن کیلئے قواعد و ضوابط پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ڈیلی ویجروں ، کنٹریکچول لیبرر،جو کہ مختلف محکموں میں کام کر رہے ہیں، کو بھی ترجیح دی جائے گی تا ہم اس کیلئے ایک مخصوص مدت تک اُن کا بطور ڈی آر ڈبلیو اور کنٹریکچول لیبرر زیر ملازمت ہونا لازمی ہے، جو اشتہاری نوٹس میں مشتہر کیا جائے گا ۔ اب تک اس ضمن میں کی گئی کارروائی کے بارے میں چیئر مین ایکسلریٹڈ ریکروٹمنٹ کمیٹی نے تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ مختلف محکموں نے زائد از 11 ہزار درجہ چہارم خالی اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے پیش کیا ہے ۔بھرتی قواعد و ضوابط اور مختلف زمروں کے تحت اسامیوں کی تقسیم کے کام کا جائیزہ لیا جا رہا ہے اور 19 محکموں میں 7 ہزار اسامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو عنقریب پہلے مرحلے کے طور پر مشتہر کی جائے گی ۔ درجہ سوم اور درجہ چہارم کی اسامیوں کیلئے عام داخلہ امتحان منعقد ہو گا اور ان اسامیوں کا انٹر ویو نہیں لیا جائے گا ۔ چیئر مین نے مزید کہا کہ پنچائت اکاؤنٹ اسسٹنٹوں کی 2 ہزار ، ڈاکٹروں کی ایک ہزار ، ویٹر نری ڈاکٹروں کی ایک سو اسامیوں کیلئے بھی بھرتی کے انتظامات کئے گئے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے پہلے مرحلے میں زائد از دس ہزار اسامیوں کیلئے انتخابی عمل جون 2020 میں شروع کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لوگوں کو یہ پیغام مل جائے گا کہ حکومت یو ٹی میں بے روز گاری کی صورتحال سے واقف ہے اور اس کا ازالہ کرنے کیلئے پُر عزم ہے ۔ اس کے علاوہ صحت و طبی تعلیم محکموں کیلئے تین ہزار خالی اسامیوں کو پُر کرنے سے صحت کا بنیادی ڈھانچہ مستحکم ہو گا جو کہ کووڈ 19 وباء کے پیش نظر نہایت ہی اہم ہے ۔ انہوں نے ایس ایس آر بی اور پبلک سروس کمیشن کو فوری طور ضروری افرادی قوت و بنیادی ڈھانچہ بغیر کسی طوالت کے متعلقہ حکام کو فراہم کرنے کیلئے کہا ۔