تازہ ترین

مغل شاہراہ قابل آمد و رفت بنانے کیلئے 16دنوں سے کام بند

آئندہ ایک ماہ تک بھی بحالی کاامکان نہیں،خطہ پیر پنچال میں کشمیر سے جڑی تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بختیار حسین
سرنکوٹ// راجوری پونچھ کوکشمیر سے جوڑنے والی مغل شاہراہ سے برف ہٹانے کاعمل پچھلے 16 دنوں سے معطل ہے اور کورونا وائرس کے چلتے آئندہ ایک ماہ تک سڑک کی بحالی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے۔شاہراہ کے آخری حصے پر اب صرف دو کلو میٹر کا علاقہ برف تلے ڈھکاہواہے جبکہ دیگر حصے سے برف ہٹادی گئی ہے لیکن کورونا وائرس کے پیش نظر کام ٹھپ ہوکر رہ گیاہے۔قابل ذکر ہے کہ مغل روڈ سرنکوٹ بفلیاز سے لیکر ہیر پور تک کل 84 کلو میٹر ہے جبکہ سرنکوٹ کی طرف سے 41 کلو میٹر شاہراہ سے برف صاف کی گئی ہے۔امسال 18 مئی کو کھولنے کا ہدف رکھاگیاتھا لیکن کورونا نے نظام زندگی ہی مفلوج کر دیا اوراس سے ایک خطے کے دوسرے خطے کے ساتھ روابط متاثر ہوئے ہیں۔ایڈووکیٹ یاسر خان جنجوعہ کا اس حوالہ سے کہناہے کہ مغل شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان ہو رہا ہے،خاص طور پر کشمیر کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلاب کو آنے جانے میں پریشانی ہورہی ہے۔ان کاکہناہے کہ کئی لوگوں کا کاوربار اسی شاہراہ پر منحصر ہے جو پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے بیکار بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ شاہراہ سال بھر کھلنی چاہئے اور کورونا وائرس کو کشمیر سے پونچھ آنے میں روکنے کیلئے انتظامی سطح پر ضروری اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔سرنکوٹ کے ایک سبزی فروش مختار شیخ نے بتایا کہ ان کے پاس اس موسم میں کشمیر سے تازہ سبزیاں آیا کرتی تھیں لیکن اب سبزیاں خریدنا تو دور کی بات، وہ اپنے مریضوں کو بھی سرینگرنہیں لے جا سکتے۔ان کاکہناہے کہ سرنکوٹ کے بیشترلوگ کشمیر سے ہی اپنے مریضوں کا علاج معالجہ کرواتے ہیں لیکن ان سب کو مشکلات کاسامناہے اس لئے انتظامیہ کو شاہراہ کو فوری طورپر ٹریفک کیلئے کھول دیناچاہئے۔ایگزیکٹو انجینئر مغل روڈ لیاقت چوہدری کاکہناہے کہ لاک ڈائون کے باعث سڑک سے برف ہٹانے کاکام بند ہے اور وہ آئندہ ایک ماہ تک اس کی بحالی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔تاہم انہوں نے کہاکہ لاک ڈائون کے خاتمے کے ساتھ ہی سڑک پر ٹریفک بحال ہوجائے گا۔اس وقت تک ڈنی ٹاپ تک کل 41 کلو میٹر شاہراہ سے برف صاف کر دی گئی ہے جبکہ برف صاف کرنے کے کام پر 7 سے زائدمشینیں متحرک رہتی ہیں۔اس کے علاوہ 14 آپریٹر، 3 جونیئر انجینئراور محکمہ مکینکل کا1جونیئرانجینئراور ایک اے ای ای تعینات رہتے ہیں۔لیاقت چوہدری نے بتایا کہ کام 16 دنوں سے بند ہے اور لاک ڈائون کے علاوہ برفانی تودے گرآنے سے بھی کام میں تاخیر ہوئی تھی۔انہوں نے مزید بتایاکہ ہر سال برف صاف کرنے کیلئے 40 لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔مغل روڑ ڈویژن شوپیان  کے ایگزیکٹیو انجینئر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شوپیان اور پونچھ کی طرف سے صرف دو کلو میٹر پر برف صاف کرنا باقی ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ عید کے بعد دو کلو میٹر کو صاف کرنے کی کارروائی شروع کی جائیگی۔

تازہ ترین