تازہ ترین

سرینگر میں قصاب اور مرغ فروش حاکم بن گئے

من چاہی قیمتیں مقرر ،دیگر اضلاع میں سرکاری نرخ ناموں پر عمل در آمد

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(   File Photo    )

بلال فرقانی
سرینگر// لاک ڈائون کے بیچ عید الفطرکی آمد کے پیش نظر جیسے شہر سرینگر میں انتظامیہ تھک گئی ہے اور اس نے شہر میں مرغ اور گوشت کی من مانے ڈھنگ سے فروخت کرنے کی کھلی ڈھیل دی ہے۔ فروغ فروشوں اور قصابوں نے شہر میں عام لوگوں کی گردنوں پر چھری چلانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ایسا سرینگر کے سبھی علاقوں میں کیا گیا ہے۔سرینگر میں گوشت 600یا 650کے نرخ سے فروخت ہورہا ہے جبکہ مرغ کی قیمت فی کلو 175روپے رکھی گئی ہے۔حالانکہ گوشت کی سرکاری نرخ فی کلو 440روپے اور مرغ کی فی کلو قیمت 110روپے مقرر ہے۔ مئی کے وسط سے قصابوں نے دکانوں کے بجائے اپنے گھروں میں گوشت بیچنے کا عمل شروع کیا اور پائین شہر میں کہیں 700روپے بھی فی کلو گوشت فروخت کیا گیا۔اسکے بعد قصابوں نے مال کی کمی کا رونا رو کر 50روپے کم کر کے 650روپے کا نرخ مقرر کیا اور اب پورے شہر سرینگر میں ہر جگہ 600روپے کے حساب سے گوشت فروخت ہورہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مرغ کی قیمت پیر کو140روپے فی کلو کے بعد منگل کو160اور بدھ کو170اور جمعرات کو یکا یک180روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا رہا۔ سرکاری نرخ نامہ کے مطابق اب بھی وادی میں مرغ کی قیمت110روپے ہی فی کلو ہیں۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ مرغ فروشوں سے قیمتوں پر استفسار پر دو ٹوک الفاظ میں کہا جاتا ہے’’ لینا ہے تو لو، وگرنہ وقت ضائع نہ کرو‘‘۔ سرکاری کارندوں اور متعلقہ محکمہ کی طرف سے خاموشی کے بعد ان گراں فروش فرغ فروشوں کے حوصلوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں نا ہی قانون کا کوئی احترام ہے اور ناہی اخلاقیات اور موجودہ صورتحال کا کوئی پاس و لحاظ ہے۔ ادھر قصابوں نے رہی سہی کسر پوری کرنے کی ٹھان لی ہے۔ انہوں نے فی کلو  گوشت میں 160روپے کا اضافہ کردیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ گوشت اور مرغ کی قیمتوں میں صرف شہر سرینگر میں نا قابل یقین اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ وادی کے دیگر اضلاع اور قصبوں میں440روپے کے حساب سے فی کلو گوشت فروخت ہورہا ہے اور مرغ بھی سرکاری نرض نامے 110روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے۔پائین شہر اور سیول لائنز کے مفصلات میںجو علاقے آتے ہیں وہاں سرکاری نرخ پر عمل در آمد ہورہا ہے لیکن میونسپل حدود میں نہیں۔محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی انفورسمنٹ ونگ سوئی ہوئی ہے جبکہ ضلع انتظامیہ شاید کورونا کی مناسبت سے اقدامات کرتے کرتے تھک کر بیٹھ گئی ہے ، اسی لئے عوام کا کوئی پوچھنے والا نہیں، قصابوں اور مرغ فروشوں کو حوالات کی سیر نہیں کرائی جاتی۔