۔25مئی کو صرف ایک تہائی پروازیں شروع ہوں گی

کرایہ حکومت طے کریگی،مسافروں کیلئے سخت ترین ہدایات پر عمل لازمی قرار

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی //کورونا وائرس کی وجہ سے دو مہینے تک بند رہنے کے بعد گھریلو مسافر پروازیں 25 مئی سے نئی ہدایات کے ساتھ دوبارہ شروع ہورہی ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ اورکم از کم کرایہ حکومت کی جانب سے طے کیا جائے گا اور مسافروں کیلئے ایک ‘سیلف ڈکلیریشن’ دینا ہوگا، ہوائی اڈے پر کم سے سے دو گھنٹے پہلے پہنچنا ہوگا اور آروگیہ سیتو ایپ کا استعمال لازمی قراردیا گیا ہے ۔وزارت شہری ہوابازی کے حکم میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی سے معمول کے مطابق پروازوں میں صرف ایک تہائی ہی پرواز کریں گی۔ بعد میں دھیرے دھیرے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ وزارت نے بزرگوں، حاملہ خاتون اور بیمار لوگوں کو جہاں تک ممکن ہو سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ائر لائنز کمپنیوں کو وزارت کے ذریعہ جاری ہدایات میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم کرایوں کی حد کا پالن کرنا ہوگا۔ وزارت دوری کے حساب سے کرایہ کی حد طے کرے گی تاکہ ائر لائنس وبا کے وقت مسافروں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکیں۔مسافروں کی ویب چیک ان ضروری ہوگا اور انہیں خود ہی بورڈنگ پاس پرنٹ کرنا ہوگا۔ ہوائی اڈے پر چیک ان کی سہولت نہیں ہوگی۔ ہر مسافر کو صرف ایک چیکڈ ان بیگیج اور ایک ہینڈ بیگیج کی اجازت ہوگی۔ چیک ان بیگیج کے لئے ٹیگ بھی خود پرنٹ کرکے مسافروں کو لگانا ہوگا۔مسافروں کے لئے جاری ہدایات میں ایک نو پوائنٹ کا ‘سیلف ڈکلیریشن’ ضروری قرار دیا گیا ہے جس کے دینے کے بعد ہی وہ بورڈنگ پاس ڈاؤن لوڈ کرپائیں گے ۔ مسافروں کا ہوائی اڈے پر کم سے کم دو گھنٹے پہلے پہنچنا ضروری قرار دیاگیا ہے ۔ٹرمنل کے اندر بھیڑ کم رکھنے کیلئے صرف انہیں مسافروں کو ٹرمنل بلڈنگ میں داخل ہونے دیا جائے گا جن کی پرواز اگلے چار گھنٹے میں ہے ۔
ٹرمنل میں داخل ہونے سے پہلے ہی تھرمل اسکریننگ کی جائے گی اور بغیر علامات والے مسافروں کو ہی داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔مسافروں کیلئے ان کے موبائل سے آروگیہ سیتو ایپ ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ ایپ پر سبز اشارہ نہیں دکھنے پر داخل ہونے نہیں دیا جائے گا حالانکہ چار سال سے کم عمر کے بچوں کو آروگیہ ایپ کی لازمی ہونے سے چھوٹ دی گئی ہے ۔کوڈ۔19 کے انفیکشن کو قابو میں کرنے کیلئے 25 مارچ سے پورے ملک میں مسافرپروازیں بند ہیں۔‘سیلف ڈیکلریشن’ فارم میں مسافروں کو بتانا ہوگا کہ وہ کسی کنٹینمنٹ زون میں نہیں رہ رہے ہیں، انہیں بخار، کھانسی یا سانس لینے میں تکلیف نہیں ہے ، وہ اس وقت کورنٹائن میں نہیں ہیں اور اگر مستقبل میں بھی علامت سامنے آتا ہے تو وہ فوری طور سے متعلقہ افسران سے رابطہ قائم کریں گے ۔مسافروں کو یہ بتانا ہوگا کہ کووڈ۔19 سے وہ متاثر نہیں رہے ہیں، وہ سفر کرسکتے ہیں، جہاز کمپنیوں کے ذریعہ مانگے جانے پر اپنا موبائل نمبر اور رابطہ کے دیگر تفصیلات انہیں مہیا کرانے ہوں گے اور جس ریاست میں جارہے ہیں وہاں کے سبھی صحت کے اصولوں کی پیروی کریں گے ۔ڈیکلریشن میں یہ بھی ہوگا کہ اگر انہیں اس بات کا علم ہے کہ اصولوں کی خلاف ورزی کرکے سفر کرنے پر جرمانہ لگایا جاسکتا ہے ۔اس ڈیکلریشن کے جمع کرانے کے بعد ہی مسافر کو بورڈنگ پاس جاری کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک پی این آر پر ایک سے زیادہ مسافروں کی بکنگ کے معاملے میں مشترکہ ڈیکلریشن دینے گا جس پر کسی ایک شخص کو دستخط کرنے ہوں گے ۔مسافر کو پرواز پکڑنے کے لئے ہوائی اڈے پر آنے سے لے کر منزل پر پہنچنے والے ہوائی اڈے سے نکلنے تک ماسک پہنے رہنا ضروری ہوگا۔ انہیں ہوائی اڈے پر سوشل ڈسٹنسنگ کے اصولوں کی پیروی کرنی ہوگی۔
جہاز میں سوار ہونے سے پہلے بورڈنگ گیٹ پر مسافروں کو ائر لائنس کے ذریعہ سیفٹی کٹ دیئے جائیں گے جن میں تین سطح والے ماسک اور سینیٹائزر ہوں گے ۔بورڈنگ سے پہلے انہیں ہاتھوں کو سینیٹائز کرنا ہوگا اور ماسک لگانا ہوگا۔ چیک ان کے لئے ای بورڈنگ پاس کی مسافروں کو خود اسکین کرانی ہوگی۔جہاز کے اندر کسی مسافر کیبن کرو سے کم سے کم بات کرنے ، درمیان کے گلیاروں میں کم آنے اور ٹوائلٹ کے کم استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ جہاز کے اندر کھانا، اخبار یا کسی طرح کی میگزین نہیں دی جائے گی۔ہوائی اڈے کے آپریٹرز کو سوشل ڈسٹنسنگ کی پیروی کرانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ناگزیر معاملوں کو چھوڑ کر مسافروں کو ٹرالی کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ ناگزیر معاملوں میں مانگنے پر ہی ٹرالی دی جائے گی۔ ہر چیک ان بیگیج کو جہاز میں لوڈ کرنے سے پہلے اور اتارنے کے بعد جراثیم سے پاک کرنے کی ذمہ داری ہوائی اڈے کے آپریٹر کی ہوگی۔بزرگ، معذور یا تنہا سفر کرے والے چھوٹے بچوں کی مدد کرنے والے ہوائی اڈے کے ملازموں کے لئے پی پی ای کٹ کااستعمال کرنا ضروری ہوگا۔چیک ان کے وقت مسافروں کے بورڈنگ پاس کی جانچ والے مقامات پر ملازموں اور مسافروں کے درمیان شیشہ لگانے کے لئے کہا گیا ہے ۔ جس میں ایک کونا میگنی فائنگ گلاس سے مزین ہونا چاہئے جہاں سے بورڈنگ پاس کی تفصیلات واضح دکھ سکے ۔ ایسا نہیں ہونے پر ملازموں کے لے فیس شیلڈ کا استعمال ضروری ہوگا۔ہوائی اڈے پر سوشل ڈسٹنسنگ قائم رکھنے کے لے مسلسل اعلان کیا جائے گا۔ ساتھ ہی جگہ جگہ سینیٹائزر کا نظم بھی ہوگا۔