پاندچھ کے بعدپلوامہ میںفورسز پر دن دھاڑے حملہ

پولیس اہلکار ہلاک،ساتھی زخمی، طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

سید اعجاز

 وسیع علاقہ محاصرے میں اور بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن

 
پلوامہ // ضلع ہیڈکوارٹر پلوامہ میں جمعرات کو جنگجوئوں نے پولیس پارٹی پر گھات لگا کر حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ کئیشدید طور پر زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔واقعہ کے فوراً بعد فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیا اور بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا۔واضح رہے کہ بدھ کو پاندھ بژھ پورہ میں اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران جنگجوئوں نے بی ایس ایف پر حملہ کیا اور دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے دوران انکی دو رائفلیں بھی اڑا لے گئے۔

حملہ کیسے ہوا؟

پولیس نے بتایا کہ جنگجوئوں نے جمعرات دن کے تقریباً2بجکر 20 منٹ پرچھو پلوامہ میں کھار کدل نامی پل کی جگہ پرسی آر پی ایف اور پولیس کی ایک مشترکہ ناکہ پارٹی پر اچانک حملہ کیا ۔پولیس کی آئی آر پی10 بٹالین سے وابستہ اہلکار مذکورہ جگہ پر ناکہ لگائے تھے تو اس دوران ایک گلی سے جنگجو نمودار ہوئے اور انہوں نے فورسز کو نشانہ بنانے کے لئے دن دھاڑے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے کئی اہلکار زخمی ہوئے۔پولیس نے مزید بتایا کہ انوپ سنگھ شادی پورہ ٹہاب پلوامہ اور سلیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد ابراہیم ساکن کشتواڑبری طرح زخمی ہوئے ۔پولیس نے بتایا کہ دونوں کو ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا، جہاں انوپ سنگھ ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ۔انہوں نے بتایا دوسرے زخمی اہلکار کو بہتر علاج معالجہ کے لئے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ،جہاں اسکی حالت  تشویش ناک بتائی جا رہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ طرفین میں مختصر گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا تاہم پولیس نے صبر سے کام لیا کیونکہ یہاں رہائشی مکان بھی ہیں۔پولیس نے بتایا کہ بستی کی آڑ میں ہی جنگجو فرار ہوئے جن کی تلاش بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے۔فائرنگ کیساتھ ہی بستی کے لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگ گئے اور فورسز نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کیا اور تلاشی آپریشن شروع کیا۔تلاشی کارروائی کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر فرار جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔ادھر آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے اس حملے کے بارے میں کہا کہ میں 2 پولیس اہلکارزخمی ہوئے ، جبکہ واردات کے بعد علاقے کو فوج اور پولیس نے محاصرے میںلے کر حملہ آوروں کی تلاش تیز کی ہے ۔
 
 

آپریشن جاری رہیں گے: ڈی جی پی

سرینگر// کنہ مزار، پاندچھ اور پلوامہ واقعات کے تنا ظر میںڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ وادی میں جنگجوئوں کے خلاف آپریشن جاری رہیں گے۔ فورسز پر حملوں کے گراف میں اضافے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا ’’ جنگجوئوں کا کام فورسز کو نشانہ بنانا ہے تاہم انہیں ہم بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں اورہم انکا پتہ لگا کر انکا بھی خاتمہ کر رہے ہیں‘‘۔  ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی ناموں سے  ہمسایہ ملک نے نئے جنگجو گروپوں کا قیام عمل میںلایا ہے،جن میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے عساکروں کو شامل کیا گیا ہے،تاکہ دنیا کو بے وقوف بنایا جائے کہ کشمیر میں جنگجویت کے ساتھ انکا کوئی واسطہ نہیں ہے۔انہوں نے پاکستانی ایجنسیوں پر وادی میں سماجی میڈیا پلیٹ فارموں کا قیام  عمل میںلاکر خطے میں’’ سڑکوں پر احتجاج‘‘ کیلئے اکسانے کا بھی الزام عائد کیا۔ جموں کشمیر پولیس کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ ایام میں مقامی ناموں،تحریک ریسسٹنس فرنٹ(تحریک مزاحمتی محاز) تحریک ملت اسلامیہ اور غزوۃ الہند کے نام سے جنگجو گروپوں کا قیام عمل میں لا یا ،تاکہ کشمیر میں جنگجوئت کو مقامی رنگ دیکر غلط تاثر دیا جائے۔ ادھرسرحدی حفاظتی فورس کے ہیڈ کوارٹر میں مہلوک بی ایس ایف اہلکاروں کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی،جس کے دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ،آئی جی پی کشمیر وجے کمار اور سینئر پولیس و فورسز افسران نے انہیں گلہائے عقیدت پیش کیا۔