تازہ ترین

عید

کہانی

17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

طارق شبنم
عید کی آمد آمد تھی اور لوگ باگ زور و شور سے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر صبح صبح ہی ریشما نے بھی بازار کا رخ کیا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی ۔عرشی، جو گھر میں اب اکیلی تھی ،نے دروازہ کھولا توباہر موجودبرقعہ پوش خاتون نے اس کو بے ساختہ گلے لگایا،کئی بار اس کا ماتھا چوما اور چاولوں سے بھرا تھیلا، جو وہ ساتھ لائی تھی، اٹھا کر عرشی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔
’’ بیٹی۔۔۔۔۔۔تمہاری امی کہاں ہے؟‘‘
’’وہ بازار گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کون ہو؟‘‘
’’تمہاری آنٹی ہوں نا، کئی بار جو یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ لیکن امی کہتی ہیں کہ میری کوئی آنٹی نہیں ہے ‘‘۔
عرشی نے اس کی بات کاٹ کر معصومانہ لہجے میں کہاتو وہ ہکا بکا ہو کر رہ گئی۔
’’نہ بیٹی ایسا نہیں کہتے‘‘۔
کہہ کر اس نے پھر سے اس کا ماتھا چوما اور کاندھے پر لٹکے پرس سے کچھ رقم نکال کر اس کی اور بڑھاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’یہ لو بیٹی ۔۔۔۔۔۔ یہ روپے امی کو دے دینا‘‘ ۔
’’نہیں آنٹی ۔۔۔۔۔۔آپ خود ہی دیںنا ‘‘۔
’’وہ نہیں ہیں نا یہاں۔۔۔۔۔۔ تم رکھ لو‘‘۔
کہتے ہوئے روپے عرشی کو تھماکراپنی صورت دکھائے بغیر ہی وہ واپس جانے کے لئے مڑی تو سامنے ایک برقعہ پوش خاتوں کو کھڑی دیکھ کرشش وپنج میں مبتلا ہو کر ایک پل کے لئے اس کے قدم رک گئے۔
’’ رک جائو محترمہ‘‘۔
وہ جونہی جانے لگی تو خاتون نے اپنے چہرے سے نقاب اُلٹتے ہو ئے ا نتہائی مہذب انداز میں کہا۔  
خاتوں کا چہرہ دیکھ کر وہ ٹھٹھک کر رہ گئی،اس کے ماتھے سے ٹھنڈے پسینے کی بوندیں چھوٹنے لگیںکیوں کہ خاتوں کوئی اور نہیں بلکہ ریشماہی تھی۔وہ کچھ کہے بغیر ہی اس کو نظر انداز کرکے عجلت میںجانے لگی۔
’’کیوں محترمہ ۔۔۔۔۔۔ خیرات دینے جو آئی ہو تو اپنے درشن نہیںکرائوگی‘‘۔
ریشما نے طنزیہ انداز میں کہا تو اس کے قدم رک گئے لیکن وہ بدستور خاموش رہی۔
’’آپ اپنی صورت نہیںدکھائینگی تو نہ سہی لیکن ایک منٹ میرے ساتھ چلئے‘‘۔
ریشما نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک کمرے میں لے گئی۔
’’بہت خیرات سے نوازا ہے آپ نے ہمیں۔۔۔۔۔۔یہ چاول ۔۔۔۔۔۔یہ کپڑے۔۔۔۔۔۔یہ ضروریات کی دوسری چیزیں اور یہ نقدی۔۔۔۔۔۔‘‘۔
 ریشما نے ایک ڈبے سے کچھ رقم نکالتے ہوئے کہا۔
خاتوں یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئی کہ آج تک وہ جو بھی چیزیں ریشما کے گھر چھوڑی کر گئی تھیں وہ بالکل اسی حالت میں سنبھال کے رکھیں ہوئی تھیں۔
’’ہمیں آپ کے اس خیرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، نہ ہم دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنا چاہتے ہیں‘‘۔      
ریشما نے رقم اس کو تھماتے ہوئے کہا۔عرشی نے بھی آگے بڑھ کر اس کی دی ہوئی رقم واپس کردی ۔
’’میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ یہ ساری چیزیں ابھی واپس لے جائیں اور آئیندہ ہمیں کوئی خیرات دینے کی تکلیف نہ کریں‘‘۔
ریشما نے شان بے نیازی سے اس کی دی ہوئی چیزوں کو ٹھکراتے ہوئے کہا تو برقعہ پوش خاتوں، جو خفت اور شرمندگی کے باعث سر سے پائوں تک پسینے میں شرابور ہوچکی تھی، نے زبان سے بغیر کچھ کہے ریشما کے آگے معافی مانگنے کے انداز میں ایسے لجاجت کے ساتھ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے ایسے کہا جیسے اُسکے ہونٹوں پر پپڑیاں جم گئی ہوں۔
’’ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ یہ چیزیں خود نہیں لے جا سکتیں تو کسی اور کو بھیج دینا، لے جانے کے لئے ورنہ یہ یہیں پڑی سڑ جائینگی‘‘۔
خاتوں نے اثبات میں سر ہلایا اور ایسے چلی گئی جیسے اس کو زندان سے رہائی ملی ہو ۔ قریب ایک سال سے کوئی برقعہ پوش خاتون ریشما کی غیر حاضری میں ضروریات زندگی کی مختلف اشیاء اور نقدی اس کے گھر چھوڑ جاتی تھیں لیکن کوشش کے با وجود آج تک ریشما کا اس سے آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔آج ریشما حسب معمول گھر سے بازار کی طرف توچلی گئی لیکن ایک چال چل کے تھوڑی دور جاکر دوسری گلی سے واپس آگئی کیوں کہ اس سے یقین تھا کہ اس کے جاتے ہی وہ خاتوں آئے گی ۔ اس کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا اورعزت نفس کو تسکین حاصل ہوئی۔ خاتون کے جانے کے بعد ریشما گھر کے کاموں میں جٹ گئی اور دوپہر کے کھانے کے بعد چرخہ کاتتے ہوئے پریشان اور منتشر ذہن کی کتاب رفتہ رفتہ الٹنے لگی ۔ جب کہ عرشی کچھ دیر پڑھائی کر نے کے بعد آنگن میں کھیلنے لگی ۔
ریشما ستی سر شہر کی ایک خود دار ،خوب رو تعلیم یافتہ لڑکی تھی جو ہنسی خوشی مہا رانی کی طرح زندگی گزار رہی تھی ۔اس کا شوہر کامران ایک نیک دل تاجر پیشہ انسان تھا جو اپنی محنت سے خوب کمائی کرتا تھا ۔اچھی آمدنی کے سبب وہ اپنی بیوی اور بچی کو ہر سہو لیت میسر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے گھمانے لے جا کر مختلف صحت افزا مقامات کی سیر کراتا تھا ۔ریشما کو ہر طرح سے خوش رکھنے کے ساتھ ساتھ لاڈلی عرشی کے لئے ڈھیروں کھلونے اور تفریح کا دوسرا سامان لاتا تھا ۔انہیں کسی بھی قسم کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا ۔ اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتا تھا اور سماج میں عزت و توقیر کی نگاہوں سے دیکھا جا تا تھا ۔لیکن ریشما کی یہ خوشیاں جیسے ادھار کی تھیں کہ ایک دن صبح کامران حسب معمول کام کے سلسلے میں گھر سے نکلا لیکن پھر کبھی نہیں لوٹا ۔ عرصہ دراز سے سیاسی بے چینی اور تشدد کے شکار جنت نما ستی سر شہر کے ایک چوراہے پر آہن پوشوں کی دوطرفہ تصادم آرائی میں کئی نہتے انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھےجن میں کامران بھی شامل تھا۔ شام کو جب ز خموں سے چو ر کا مران کی لاش گھر پہنچی تو ریشما پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ اس طرح عین شباب میں ہی موت نے اس کا سہاگ چھین لیا اور اس کی خوشیوں بھری زندگی تپتے صحرا کی طرح ویران ہو کر رہ گئی۔شروع شروع میں قریبی رشتہ دار اور احباب اس کی ڈھارس بندھاتے رہے اور مالی معاونت بھی کرتے رہے جب کہ اپنائیت کا احساس دلاتے ہوئے عرشی کو باپ کی کمی بھی محسو س نہیں ہو نے دیتے تھے ،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب اپنے اپنے جھمیلوں میں پھنس کر ان کو اس حد تک بھول گئے کہ ان کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی ۔ریشما نے ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنی غیرت اور خود داری کو بیچ کر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا کیا بلکہ گھر میں چرخہ کاتنے کے ساتھ ساتھ ایک پرائیوٹ ادارے میں بھی کام کرنا شروع کر دیا اور جوں توں کرکے گھر کا گزارہ چلاتی رہی ۔اپنا کچھ زیور بیچ کر عرشی کو ایک اچھے سکول میں داخل کرایا ۔عرشی جو اپنی ماں ہی کی طرح حساس ذہن لڑکی تھی خوب دل لگا کر پڑھائی کرتی تھی لیکن اپنے شفیق باپ کی جدائی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے ہمیشہ اُداس رہتی تھی، حالانکہ ماں محنت مشقت کرکے خوشی خوشی اس کی تمام ضروریات پوری کرتی تھی لیکن اس کے اندر جو درد چھپا تھا ماں کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں تھا ۔چھٹی کے وقت جب والدین پیار سے اپنے اپنے بچوں کو پکار کر گلے لگاتے تھے تو اس کے حساس دل میں کانٹے سے چبتے تھے ، آنکھیں بھر آتی تھیں اور وہ بھی اپنے ابو کے منہ سے دو بول سننے کو ترستی تھی۔ لیکن جب رشتوں میںخلوص ہی نہیں رہا تو اس کو بیٹی کہہ کر کون پکارتا؟ ۔ وہ نیند میں اکثر ابو جان ۔۔۔۔۔۔ابو جان  بڑ بڑاتی رہتی تھی اور بیدار ہو کر دھاڑیں مار مار کر روتی تھی۔ عرشی کی یہ حالت اور اپنے سگے رشتہ داروں اور کرم فرمائوں کی بے اعتنائی سے ریشما کا دل آئینے کی طرح چکنا چور ہو گیا اور اس نے سب کے ساتھ ناطہ ہی توڑ دیا ۔
’’امی جان ۔۔۔۔۔۔ دیکھو تو میں نے کیا اٹھایا ‘‘۔
سوچوں کی بھول بھلیوں میں گم چرخہ کاتنے میں مصروف ریشما،جس کے ذہن میں پریشان خیالات کا چرخہ بھی چل رہا تھا، کی سماعت سے عرشی کی آواز ٹکرائی ۔ عرشی کے ہاتھ میں ایک خوب صورت نقلی گلاب کا پھول،جو اس کو کھیلتے ہوئے آنگن میں ملا تھا، دیکھ کر وہ چونک گئی کیوں کہ ایسے ہی دو پھول برقعہ پوش خاتوں کے پرس پر لگے تھے ۔ریشما نے گھڑی کی طرف دیکھا تو عصر کاوقت ہوچکا تھا۔
’’ عرشی بیٹا ۔۔۔۔۔۔ کل عید ہے نا، جلدی سے تیار ہوجائو ہم بازار جائینگے‘‘۔
کچھ دیر بعد ریشما یتیم عرشی کی دل بہلائی کے لئے اسے لے کر بازار چلی گئی۔ 
عید کے دن ہر طرف گہما گہمی اور رونقیں تھیں لیکن ریشما کے گھر میں تنہائی اور ویرانی بانہوں میں بانہیں ڈالے اونگھ رہی تھی۔ سہ پہر کے وقت ریشما کی قریبی سہیلی شازیہ، جو اس کی ہمسائیگی میں ہی رہتی تھی، اپنے شوہراور بچی کے ساتھ ا چانک ان کے گھر وارد ہوئی ۔عرشی، جو اپنے آنگن میں مٹی کے کھلونوں سے کھیل رہی تھی، انہیں دیکھ کر خوشی سے پھو لے نہیں سمائی ۔ ریشما نے رسم دنیا نبھانے کی خاطر ان کا بھر پور استقبال کیا۔ انہوں نے ریشما کے ساتھ ساتھ عرشی کے لئے بھی کچھ تحفے اور کھلونے لائے تھے ۔
’’یہ لو عرشی بیٹی ۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارے لئے ہے‘‘۔
شازیہ نے ایک قیمتی کھلونا عرشی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔کھلونا دیکھ کر عرشی ،جس کا دل دھڑکنے لگا ، حسرت بھری نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھنے لگی ۔
’’ تمہاری اجازت کے بغیر یہ نہیں لے گی‘‘ ۔
شازیہ ،جو ریشما کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھی،نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔    
’’لو بیٹی ۔۔۔۔۔۔ بڑا قیمتی کھلونا ہے‘‘ ۔
ماں کی اجازت کے بعدعرشی نے کھلونا لیا اور خوشی میں جھومتے ہوئے شازیہ کی بچی ،جو اس کی ہم عمر اور ہم جماعت تھی، کے ساتھ کھیلنے میں مگن ہوگئی،جبکہ ریشما مہمانوں کی خاطر داری میں لگ گئی۔بہت دیر تک باتیں کرنے اور کھان پان کے بعد شازیہ اور اس کا شوہر رازدارانہ انداز میں آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے تو ریشما نے وہاں رہنا منا سب نہیں سمجھا۔
آپ لوگ باتیں کیجئے میں کچن سے ہو کے آتی ہوں۔
’’تم بیٹھو ریشما ۔۔۔۔۔۔ دراصل یہ آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں‘‘۔
شازیہ نے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور اپنا پرس سامنے رکھ کر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔ 
’’ ریشما بہن ۔۔۔در اصل بات یہ ہے کہ میں ۔۔۔میری بیٹی ہے ناعظمٰی۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ہاں ہے تو ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اگر آپ اجازت دیں تو میں ۔۔۔ میںعرشی کو اپنی دوسری بیٹی بنانا چاہتا ہوں۔۔۔‘‘
یہ الفاظ سنتے ہی ریشما، جس کا دھیان شازیہ کے پرس کی طرف تھا، کے غم زدہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی کیوںکہ شازیہ کے پرس پر دو کی جگہ ایک ہی گلاب کا پھول موجود تھا،  اس نے عرشی ، جو عظمٰی کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھی ،کی طرف نظر یں اٹھائی اور اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ 
٭٭٭ 
رابطہ ؛ اجس بانڈی پورہ(193502) کشمیر
ای میل؛ tariqs709@gmail.com 
موبائل  نمبر؛9906526432