تازہ ترین

ہر دن پیاری ماں کے لئے

یومِ مادر

14 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

رانا اعجاز حسین
ہرسال کی طرح اس سال بھی سال کے 365دنوں میں سے صرف ایک دن ماں کے لیے منایا جارہا ہے ، جوکہ ممتا جیسی ہستی کے لیے بہت ہی ناکافی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے کہ جسکی محبت میں کوئی ریاکاری، کوئی تصنع، کوئی بناوٹ اور کوئی دکھاوا نہیں ہوتا۔ ماں جو اپنی اولاد کی رازداں ہوتی ہے، ان کے دلوں کے بھید جانتی ہے۔ ان کی خوبیوں کو اجاگر کرتی، ان کی خامیوں، ان کی کوتاہیوں، کمیوں، کجیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے محض اس لئے کہ اولاد کی دل آزاری نہ ہو۔ وہ اولاد کی خوشی میں خوش، ان کے غم میں ان کی دل جوئی کرتی ہے۔ گرنے لگتا ہے تو تھام لیتی ہے۔ اولاد کی کامیابی پر خوشی سے نہال اور ناکامی پر دل گرفتہ ہو جاتی ہے۔ خدا تو خالق کائنات ہے، وہ سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ خالق دو جہاں کے بعد ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو لائق، نالائق، صالح، بد اعمال، اپنے سارے جگر گوشوں کے ساتھ یکساں پیار کرتی ہے۔ وہ اپنی اولاد سے پیار اس کی ڈگری، منصب، اہلیت کی بنیاد پر نہیں کرتی۔ اس کا میرٹ صرف اور صرف اس کی کوکھ سے جنم لینے والا بچہ ہے۔ ہاں کبھی کبھار کسی ایک بچے کو اپنی ہتھیلی کا چھالہ بنا لیتی ہے۔ اس کو نہیں جو سب سے ذہین، فطین یا خوبرو ہے بلکہ اس کو جو کمزور ہو، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ چکا ہو۔ یہ صفت صرف اور صرف ماں کے رشتے میں ہے اور کسی میں نہیں۔ 
ماں جو سرد ترین راتوں میں سب سے آخر میں سوتی ہے، محض اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ اس کے بچے پرسکون نیند سو چکے یا نہیں۔ ماں جو ٹھٹھرتی صبح میں سب سے پہلے، نیند پوری کئے بغیر جاگ اٹھتی ہے تاکہ اولاد کو منہ ہاتھ دھونے کیلئے، نہانے کیلئے گرم پانی مل سکے۔ ان کو استری یونیفارم اور چمکتے ہوئے پالش شدہ جوتے مل سکیں۔ ہر بچے کو گرم دودھ، اس کا پسند کا ناشتہ مل سکے۔ تاکہ وہ سکول جانے سے پہلے مقدور بھر ہر بچے کی جیب میں جیب خرچ کے چند روپے ڈال سکے۔ ایسا نہیں تو ان کو لنچ میں وقفے کے لئے کچھ کھانے کو ساتھ دے سکے۔ وہ اس لئے بھی صبح سب سے پہلے بیدار ہوتی ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سکول کیلئے رخصت ہوتے بچوں کی پیشانی چوم کر ان کو الوداع کر سکے۔ سکول جاتی ان کی وین کو موڑ مڑ کر نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ لے۔
عالمی دن کے موقع پر کسی نے لکھا کہ ماں کے احسان کا بدلہ کوئی نہیں چکا سکتا۔ اس بندہ خدا کو کیا معلوم کہ ماں کسی پر احسان نہیں کرتی۔ ماں تو قربانی دیتی ہے، ایثار کرتی ہے، احسان کا کیا ہے، اس کا بدلہ بڑا احسان کر کے اتارا جا سکتا ہے۔ مہربانی کا حساب، اس سے بھی بڑی مہربانی کر کے چکایا جا سکتا ہے۔ ایثار اور قربانی کا کوئی بدلہ نہیں۔ اس کا کوئی صلہ نہیں، ماں کی مشقتوں سے پر زندگی کے ایک لمحہ کا بھی کوئی معاوضہ نہیں دے سکتا، سال میں ایک دفعہ خصوصی دن منا کر، ایس ایم ایس کر کے، وش کارڈ بھجوا کر، ٹی وی چینل پر خصوصی پیکیج چلا کر یا کسی اخبار میں خصوصی ضمیمہ چھپوا کر تو بالکل ہی نہیں۔
یہ ماں ہے جس کے لئے اس کی اولاد ہمیشہ بچہ ہی رہتی ہے۔ چاہے اس کے عمر رفتہ کے ساتھ بال سفید کیوں نہ ہو چکے ہوں۔ یہ ماں ہی جو اپنے بچوں کے بچپن کے کھلونے تک ساری زندگی سنبھال کر رکھتی ہے۔ اس کی ایک ایک، شرارت ہر ایک حرکت کو، گزرے ہر دن کو ضروری آموختہ کی طرح دل کی کتاب میں محفوظ رکھتی ہے۔ یہ ماں ہے جس کو بچے کا بولا گیا پہلا لفظ، رینگنے، اپنے قدموں پر چلنے کا پہلا دن ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ بچے کے سکول جانے کا پہلا دن ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ بچے کے ہاتھ سے لکھا پہلا حرف، سکول کی پہلی کتاب، کاپی اور پہلا رزلٹ ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہے۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اس کی پیدائش کے دن سے ہی اس کی رخصتی کیلئے پیسہ پس انداز کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک ایک جوڑا بنا کر جہیز تیار کرتی ہے۔ ایسی کڑی تپسیا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ ماں ہے جو گھر کے خرچ سے ( جو اکثر حالتوں میں بہت محدود اور قلیل ہوتا ہے )میں سے خاوند کی نظر بچا کر پیسہ پیسہ الگ رکھتی جاتی ہے۔ پھر عین اس دن جب شوہر کی جیب میں بچے کی فیس، داخلہ بھجوانے کیلئے پیسے نہیں ہوتے، کوئی ضروری کتاب خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔ ماں آگے بڑھتی ہے کسی تکیہ کے غلاف میں، کسی دوپٹہ کے کونے میں محفوظ کئے ہوئے پیسے نکال کر ہاتھ پر رکھ دیتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے چائواور شوق سے بنوائی کوئی معمولی بالی، ہاتھ کی چوڑی نکال کر بچے کی خواہش پر قربان کر دیتی ہے۔ ایسے کرتے ہوئے وہ کسی کریڈٹ کی طلب گار ہوتی ہے نہ ستائش کا مطالبہ کرتی ہے۔ اولاد کے لئے تڑپنے، بے چین ، بیقرار و بے کل رہنے والی اس ہستی کے لئے ، ماں کے لئے صرف سال میں صرف ایک دن کیوں؟ دن کے 24 گھنٹے، ہفتے کے سات روز، سال کے 365 دن، سارے اس کے نام، سارے اس کے لئے، صرف ماں کیلئے۔ ہم ماں کی کسی شفقت اور مشقت کا بدلہ تو ہرگز نہیں چکا سکتے بس یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مائوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔