تازہ ترین

بڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات

بحالی کا فیصلہ درست،داخلے اور جراحیاں بھی شروع ہوں

12 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ48روز سے بندگورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں او پی ڈی خدمات آج سے دوبارہ بحال ہونگیں۔ہم نے انہی سطور میں گزشتہ دنوں بھی اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جی ایم سی جموں سے منسلک ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پر تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریضوںکو مرنے کیلئے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیںکہ جموں اور سرینگر کے دارالحکومتی شہروں میں قائم میڈیکل کالجوں سے منسلک ہسپتالوں پر دونوں صوبوں کے مریضوںکا بوجھ ہوتا ہے اور مختلف امراض کے ماہر معالجین سے طبی جانچ کرانے کیلئے لوگ ا ن ہسپتالوںکا رخ کرتے ہیں لیکن جب سے کورونا آیا،پہلا کام یہ کیاگیاتھا کہ ان ہسپتالوںمیں اوپی ڈی خدمات بندکردی گئی تھیں ۔اس کے بعد واحد امید نجی کلینک رہے تھے لیکن بعد ازاں انہیں بھی بند کرکے ایک عجیب قسم کی صورتحال پیدا کی گئی جہاں مریضوںکو ماہر معالجین ہی دستیاب نہیں تھے ۔گوکہ بڑے زور و شور کے ساتھ حکومتی سطح پر اور دونوں صوبوں میں قائم ڈاکٹروں کی مختلف انجمنوںنے ماہر ڈاکٹروں کے موبائل نمبر مشتہر کرکے لوگوں کو ہسپتالوں سے دور رہنے کا مشورہ دیکر امید دلائی کہ یہ ڈاکٹر صاحبان فون پر ان کیلئے ہمہ وقت دستیاب رہیں گے لیکن سب کو پتہ ہے کہ پھر ان میںسے بیشتر ڈاکٹر صاحبان نے فون اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور اگر فون اٹھے بھی تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے ۔ملتے بھی کیسے ،یہ کوئی سودا تھا جو فون پر کیاجاسکتا تھا۔ڈاکٹر جب تک مریض کی حالت خود نہ دیکھے ،وہ کیسے فون پر اس کا علاج کرسکتا ہے ۔بہر کیف ہمارا مقصد کسی طبقے کی قطعی تنقید کرنا نہیںہے ۔ہم نے تب بھی وسیع تر عوامی مفاد میں یہ مسئلہ اجاگر کیاتھااور اب اگر حکومت کو عوامی مشکلات کا بالآخر احساس ہوگیا اور انہوںنے اوپی ڈی خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا تو ہم صدق دل سے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔مریضوںکی تعداد محدودرکھنا بھی صحیح ہے کیونکہ ہم فی الوقت بھیڑ بھاڑ کے متحمل نہیںہوسکتے ہیں۔اگر روزانہ ہر شعبہ چند ہی مریض دیکھتا ہے تو یہ بھی فی الوقت کافی ہے تاہم جس طر ح یہ کہاگیا ہے کہ مریضوںکا داخلہ اور جراحیاں فی الحال بند رہیں گی تو اس پر سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔بے شک ایمر جنسی جراحیاں چل رہی ہیں لیکن معمول کی جراحیاں بھی کافی اہم ہیں اور ہم مریضوں کو مہینوںتک جراحیوں کے لئے انتظار کروانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ اس دوران ان میں مزید طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے بلکہ ان کے نتیجہ میں اموات کوبھی خارج ازامکان قرار نہیںدیاجاسکتا ہے ۔اس لئے وقت کا تقاضاہے کہ اوپی ڈی سہولیا ت کی بحالی کے عمل کو کشمیر تک وسعت دی جائے اور کشمیر صوبہ میں بھی سبھی بڑے ہسپتالوںمیں اوپی ڈی خدمات بحال کی جائیں تاکہ مریضوں کے بے پناہ مسائل میں قدرے کمی آسکے ۔اس کے ساتھ ساتھ جموں اور سرینگر ،دونوں جگہوںپر بڑے ہسپتالوںمیں معمول کے داخلے اور جراحیاں بھی شروع کرنی چاہئیں کیونکہ مزید تاخیر کے شاید ہم متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔اب جبکہ اس بات پر تقریباً اجماع ہوچکا ہے کہ کورونا وائرس فوری جانے والا ہے اور اس میں ابھی بھی چھ سے سات ماہ لگنے والے ہیںتو ہم مریضوںکو اتنی دیر تک طبی سہولیات سے محروم نہیں رکھ سکتے۔امید کی جاسکتی ہے کہ فوری طور پر طبی سہولیات کی مکمل بحالی کا انتظام کیاجائے گا تاکہ ہر مریض کو کم ازکم وہ طبی توجہ مل سکے جس کا وہ مستحق ہے۔