تازہ ترین

کورونا کے ستائے لوگ

دھتکار یں نہیں ،دلجوئی کریں!

6 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے مریضوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کی جو خبریں سامنے آرہی ہیں،وہ یقینی طور پر پریشان کن ہیں اورکورونا سے پیدا شدہ خوف و دہشت کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔اس ضمن میں کووڈ ہسپتال درگجن ڈلگیٹ سرینگر کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر شاہ کے سوشل میڈیا پوسٹس اس تکلیف دہ صورتحال کی منظر کشی کرنے کیلئے کافی ہیں۔ایک ایسے ہی پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں’’میں  دیکھ رہا ہوں کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے مریضوںکے ساتھ گھر پہنچ کر ایسا سلوک کیاجارہا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔ایسے ایک مریض نے شکایت کی کہ ان کے گھر کی لینڈ لائن بحال نہ ہوسکی کیونکہ لائن مین نے تار کی جانچ کیلئے گھر کے مرکزی دروازہ تک بھی آنے سے انکار کردیا۔اسی طرح کچھ شفایاب مریضوں کے گھروں سے کوڑا کرکٹ ہٹایا نہیں جارہا ہے اور نہ ہی سبزی فروش انہیں سبزیاں بیچتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اُن سے لئے جانے والے کرنسی نوٹوںکے ساتھ وائرس نہ ہو ۔اسی ڈر کی وجہ سے رسوئی گیس بھی ایسے مریضوںکے گھروں کو فراہم نہیں کیاجارہا ہے‘‘۔ اسی طرح بٹہ مالو علاقہ کی ایک شفایاب خاتون کو شکایت کہ ان کے محلہ والے ان کے گھر آنا تو دور ،اُن سے با ت تک کرنا گوارا نہیں کرتے اور وہ اپنے ہی محلہ میں اجنبی بن گئے ہیں۔یہ صورتحال قطعی خوش کن نہیں ہے بلکہ اس طرح کی صورتحال ایک بڑے سماجی مسئلہ کو جنم دے سکتی ہے ۔کورونا سے شفایاب ہونے والے لوگ بالکل ویسے ہیں جیسے عام لوگ ہیں اوراُن سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان سے انفیکشن پھیلنے کا کوئی خطرہ ہے تاہم جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات کی ترسیل کی جارہی ہے ،اُس نے اس سماج کو مختلف وسوسوں میں مبتلا کردیا ہے اور نتیجہ کے طور پر اب اس سماج کا ہر فرد دوسرے سے خوف کھا رہا ہے ۔یہ بدنصیبی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ کورونا سے شفایاب ہونے والے مریض اب سائز میں بڑی اسناد کا تقاضا کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروںکے باہر انہیں آویزاں کرکے لوگوںکو بتاسکیں کہ وہ مزید بیمار نہیں ہیں۔اس وائرس نے جیسے ان مریضوں،محلوں،کالونیوں اور علاقوں کو داغدار بنادیا ہے اور المیہ تو ہے کہ اس داغداری کی لپیٹ میں مریض ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی آچکے ہیں اور اب اُن ڈاکٹروں اور ان کے گھروں سے لوگ دور بھاگ رہے ہیں جو کورونا مخالف جنگ میں فی الوقت صف اول کے سپاہیوںکا رول نبھا رہے ہیں۔ایسے ڈاکٹراچھوت بن چکے ہیں اور مجبور ہوکر اب حکومت کو ایسے طبی و نیم طبی عملہ کو ہوٹلوں میں قیام کروانا پڑرہا ہے کیونکہ کل تک مسیحا کہلائے جانے والے ان لوگوں اب عام لوگ موت کے فرشتے سمجھتے ہیں۔طبی سائنس کے مطابق کورونا سے شفایاب ہونے والے مریض اس بیماری سے لڑنے کیلئے مشعل راہ ہیں اور ہمیں لوگوں کے خلاف بلکہ بیماری کیخلاف لڑنا ہے ۔کسی نے بھی اپنی مرضی یا خوشی سے اس انفیکشن کو دعوت دے کر نہیں لایا اور نہ کوئی لاسکتا ہے ۔جو اس عفونت میں مبتلا ہوا،وہ نادانستہ طور پر ہی ہوا تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب جو کورونا سے متاثر ہوگیا ہے تو وہ اچھوت بن گیا ہے یا اُس نے کوئی جرم کیا ہے۔وہ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں اور وہ ہماری شفقت وہمدردی اور دلجوئی کے مستحق ہیں۔ان کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔آج وہ اس بیماری کی لپیٹ میں آئے ،کل کو ہم بھی انکی جگہ ہوسکتے ہیں۔ہم اس قدر کٹھور کیسے بن گئے کہ ہمیں اب اپنوںکا درد بھی محسوس نہیں ہورہا ہے۔ضرورت ا س امر کی ہے کہ ہم کورونا کے خوف سے ابھر آئیں اور وسوسوں پر قابو پاکر ان توہمات کو چھوڑ دیں جو اس سے منسلک کردئے گئے ہیں۔ کورونا بے شک ایک متعدی مرض ہے تاہم اس سے گھبرا نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف صف آراء ہونا لازمی ہے اور صف آراء اس طرح نہیں ہوا جا سکتا ہے کہ ہم اس وائرس کے متاثرین کو ہی مرنے کیلئے چھوڑ دیں اور شفایابی پانے والوںکی طعنہ زنی کرکے انکی زندگی اجیرن بنادیں۔اس سے سماجی توازن بگڑ جائے گا، جو تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اپنے ہوش و حواس برقرار رکھیں اور انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور وسوسو ںکی دنیا سے نکل کر حقیقت سے روبرو ہوجائیں جہاں کورونا قابل تسخیر ہے اور اس کے ستائے لوگ ہماری ہمدردی اور دلجوئی کے مستحق۔