تازہ ترین

طِلّےوالافرن

افسانہ

3 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
محبت کی کوئی منزل نہیں ہے
محبت موج ہے ساحل نہیںہے
میری افسردگی پہ ہنسنے والے
تیرے پہلو میں شاید دل نہیں ہے
یمبرزل وادی میں ان لوگوں کے لئے گزر بسر کرنا کتنا محال ہوجاتا ہے جو لوگ صرف بہار کے چند مہینوں کی کمائی پرسال بھر پر گذارہ کرتے ہیں۔ بہار کے آخری ایام میں ہی پوری وادی سخت سردی کی سنگین چادر کے اندر سمٹ کر سکڑجاتی ہے۔ ان سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں کے اکثر لوگ کانگڑیوں کا شکم کوئلوں سے بھر بھر کر زندگی کو کیا جیتے کہ دن گن گن کر وقت گزارتے ہیں۔ البتہ کہیں کچھ آسودہ حال لوگ مہنگی مہنگی گیس بخاریوں کا سہارا لیتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے گھروں کے اندر بنائے گئے حماموں کو گرم کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اپنے محل خانوں کو تالہ لگاکر اللہ کے سپرد کرکے وادی سے ہی نکل جاتے ہیں۔ کچھ بھی کرلے یہ بات طے ہے یہاں رہ کر یہاں کے لوگوں کو سخت سردی کو جھیلنا ہی پڑتا ہے۔ حسب دستور یہاں فرن نامی لمبا گرم چعہ نما لبادہ بھی تو ہماری ثقافت کا ایک حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ سرد موسم کا ایک اہم اور بہترین ساتھی ہوتا ہے۔ یہاں کا ہر فرد مرد ہو یا عورت بڑا بزرگ ہو یا جوان،مزدور ہو یا ملازم فرن سرد موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے پہنتا ہے۔ فرن پہننا یہاں کے لوگوں کی آن بان شان ہی نہیںبلکہ ایک پہچان بھی ہے۔  چاہے گرم کپڑے کا ہو یا ٹھنڈے کپڑے کا ،سستا ہو یا مہنگا فرن تو یہاں کا ہر دل عزیز لباس ہے۔ خاص کر یہاں کی خواتین کے لئے طلے والا فرن جس پر کلابتوں سے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوتے ہیں، بڑی نزاکت سے تیار کرکے ذرا مہنگا ہوجاتا ہے۔ شہر ہو یا گاؤں، گھر آنگن ہو یا بازار، کھیت کھلیان ہو یا دفتر سردیاں شروع ہوتے ہی یہاں کی اکثر عورتیں رنگ برنگے طلے والے فرنوں میں پری پیکر نظر آتیں ہیں۔ دلہنوں کے جہیز اور بری کے ساتھ طلے والا فرن نہ ہو تو سب کچھ نامکمل اور ادھورا لگتا ہے۔ شادی کے دن دلہن طلے والا فرن نہ پہنے تو ہر رنگ ہونے کے باوجود سب کچھ بے رنگ سا لگتا ہے۔ زمانہ کتنا بھی بدل جائے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہاں طلے والے فرن کی بہت اہمیت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ بظاہرطلے والا فرن ایک عام سی چیز ہوتی ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ کمخاب سے کم نہیں۔ 
بے بسی کی زندگی کو خاموشی سے کیسے جیا جاتا ہے یہ میرا خیال یا تصور نہیں بلکہ اسکی تصویر تو میرے دل و دماغ اور ذہن میں تب بس چکی ہے جب میں نے اپنی جدہ کے کمزور وجود کو پگھلتے دیکھا۔ دن رات وقت کے گرد اب میں اپنے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے دیکھا۔ کبھی راتوں کو اپنے ہی بازوں کے تکیے پر سر رکھ کر آنکھیں موندے سسکتے دیکھا، کبھی خاموشی سے اندر ہی اندر ابلتے دیکھا۔ وہ ایک سادہ دل کی خاموش اور غیرت مند خاتون تھیں۔ مجھے اسکے دبلے پتلے وجود سے، اسکے چہرے کی زردی سے، اسکی خالی خالی کلایوں میں بندے دھاگوں سے، اسکے سادہ اور بیرنگ فرن سے۔ غرض اُس سے جڑی ہر چیز سے بڑی محبت تھی۔ وہ میرے لئے اہم ہی نہیں بلکہ میری کل کائنات تھی۔ 
وہ کوئی بھی بات چھپا کر مجھے کمزور بنانا نہیں چاہتی تھی اسلیے جدہ نے ایک بار میرے پوچھنے پر بتایا کہ اسے شادی کے صرف کچھ سال کے بعد ہی بیوگی کا روگ لگ گیا تھا لیکن اپنے کمسن  بیٹے کی محبت نے حالات سے لڑنے کی ہمت دلائی۔  جب میں نے اپنے والدین کے بارے میں پوچھا تو اس نے یہ بتایا کہ جب میں تین سال کی تھی تب میرے والدین اور میرا پانچ سال کا بڑا بھائی ایک ناگہانی آفت کا شکار ہو گئے تو اسے ایک بار پھر حالات نے ریزہ ریزہ کر دیا۔ پھر ہمارے شریکوں نے ہماری دوکان،جو پیٹ کی آگ بجھانے کا واحد ذریعہ تھا، کو ہڑپ کر کے خود کو کنگال تو کردیا لیکن ہمارے حصے کی زمین کو تنگ کر کے ہمیں بے اختیار بنادیا۔ اپنے ہی کچھ لوگ بیوہ اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کے بجائے انہیں جلاوطن کرنے کو اپنا پہلا فرض سمجھتے ہیں۔ کہنے کو تو بہت سارے اپنے تھے لیکن حالات بدلتے ہی سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ مال و زر اور ہمدردی کا کوئی وسیلہ نہ ہونے کے باوجود بڑی جدوجہد اور دقتوں کے بعد وہ یہ گھر بچانے میں کامیاب ہوءی تھی۔ وہ اکیلی جان تھی میرے علاوہ اسکا کوئی اپنا نہ تھا۔ اپنا غم چھپا کر مجھے مسکراکر کہتی تھی کہ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں کیونکہ تم میری زندگی ہی نہیں بلکہ جینے کی آس بھی ہو اور میری خوشی بھی ہو، اس لئے میں نے تمہارا نام مہ پارہ کے بجائے مسرت رکھا۔ 
جدہ نے یہ بھی بتایا کہ جب گھر میں آمدنی کا وسیلہ نہیں رہا تو وہ ایک درمیانہ دار سے رنگ برنگے فرن لاکر ادھیڑ عمر میں موٹاسا چشمہ لگا کر ان پے طلے کی کڑھائی کا کام کرنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھوں کا ہنر نکھر کے آیا تو وہ فرنوں میں جان ڈالنے لگی۔ اس وقت بچپن میں سیکھا ہوا ہنر کام آیا جس سے زندگی کا گزارہ نکل پڑا۔ 
جدہ جب فرن پر تلے کا کام کرتی تھی تو اس پر چار چاند لگ جاتے تھے۔ ایسے لگتا تھا جیسے سونے کے باریک ہار کو فرن کے گلے پر بڑی نفاست سے سجایا گیا ہو اور آکاش کے سارے ٹمٹماتے تارے فرن کے دامن اور باذوں کے کناروں پر پیوست ہوگئے ہوں۔  درمیانہ دار کے ساتھ فرنوں پر طلے کی مقدار طے نہ تھی بلکہ فی فرن کی اجرت کے عوض ایک مخصوص رقم ملتی تھی، زیادہ نہیں لیکن کم سے بہتر۔
پورے مہینے کا راشن، گیس، بجلی کا بل اور بدلتے موسموں کے بدلتے اخراجات کے ساتھ ساتھ میری پڑھائی کا خرچہ کیسے پورا کرتی تھی یہ اسکی سوجھ بوجھ اور عقلمندی کا کمال تھا ورنہ اخراجات کی بہتات میں موٹی سے موٹی رقم بھی ہاتھوں سے سوکھی ریت کی طرح پھسل جاتی ہے۔ 
یہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ ہمارے آس پڑوس والے بھی اپنا خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود مفلوک الحال زندگی گزارتے تھے ورنہ مقدر والوں کے درمیان رہ کر زندگی ایک سوال بن جاتا۔  ہمارا گھر تو پسماندہ محلے میں تھا ہی اور گھر کے اندر ہر طرف مفلسی اور حسرتوں کے ڈھیرے ہی ڈھیرے تھے۔  ہمارا کہیں آنا جانا بھی محدود تھا۔ ہمارے گھر کوئی مہمان بھی نہ آتا تھا۔ پھل، فروٹ، جوس اور کیک  تو دور کی بات گوشت اور پنیر عید سے عید تک پکتے تھے البتہ انڈوں کا سالن ہفتے میں ایک بار ضرور بنتا تھا۔  ہر عید پہ درمیانہ دار کی طرف سے جدہ کو عیدی کے نام پر کچھ رقم ملتی تھی اور اس رقم سے وہ میرے لئے ایک دوپٹے کے ساتھ ایک نفیس قمیض شلوار سلواتی تھی اور موسم کے حساب سے چپل جوتوں کا خیال رکھتی تھی لیکن خود دھلے ہوئے کپڑوں کے اوپر سیاہ برقع پہنکر عید کی نماز پڑھنے جاتی تھی۔ 
بچپن سے ہی مجھے جدہ سے سوال پوچھنے کی عادت سی ہوگئی تھی ۔ اس لئے ایک دن میں نے اسے پوچھا کہ تم جو بیشمار فرنوں پر تلے کا کام کر کے انہیں خوبصورت بنا کر پیسے کماتی ہو تو پھر خود ہمیشہ ایک ہی بے رنگ اور سادہ فرن کیوں پہنتی ہو؟ میری بچی جب گھر میں کمانے والا کوئی نہیں رہتا ہے تو گھر کی ساری ذمہ داریاں عورت کے سر پر آتی ہیں، خاص کر تب جب رزق کی حیرانی اور پریشانی ہو اور عورت دانے دانے کی محتاج ہو جائے تو عورت کی زندگی ایک جنگ بن جاتی ہے۔ پھر اس جنگ کو لڑتے لڑتے اسکے سارے شوق خود بہ خود دم توڑ دیتے ہیں۔ حالات سے لڑنے اور زندہ رہنے کے لیے حلال طریقے سے اگر سادہ دال چاول اور سادہ لباس میسر ہو جائے تو کیا وہ کافی نہیں؟ انسان کو تو بس سلیقے، طریقے، حوصلے اور کردار سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ مہنگے لباس سے، جدہ نے مجھے جواب دے کر مطمئن تو کر لیا لیکن مجھ سے اس کی محنت اور عمر پوشیدہ نہ تھی۔  جوں جوں میری عمر بڑھتی گئی تو میرے لیے اسکی عمر رسیدگی اور محنت نظر انداز کرنا محال ہوگیا، اسی لئے کئی بار میں اپنا کھانا پینا چھوڑ کر ضد کرنے لگی کہ وہ مجھے بھی اپنا ہنر سکھائے تاکہ میں اس کا ہاتھ بٹا سکوں، لیکن ہر بار اس نے یہ کہ کر مجھے سمجھایا کہ میری بچی ہنر سیکھنے میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ ہی کوئی خرابی لیکن یہ مشکل کام کرتے کرتے انگلیاں گھس جانے کے ساتھ وقت سے پہلے آنکھوں کا نور بھی خرچ ہوتا رہے گااور اپنے گھر سے راشن کی چھوٹی  سے دوکان تک جانے اور وہاں سے گھر آنے کا سفر کرتے کرتے ساری عمر نکل جائے گی، دل میں خالی آرزوؤں،خواہشوں اور ارمانوں کی فہرست رہے جائے گی۔ دوسری طرف کچی عمر میں ہاتھ میں پیسہ آنا اچھی بات نہیں، اس میں بڑی کشش ہوتی ہے جس سے پڑھائی اثر انداز ہوتی ہے۔ عمر نکلتے ہی پڑھائی کے نقصان کی بھرپائی کرنا کوئی آسان بات نہیں، اسلئے میری بچی ایک عزم کے ساتھ اپنی آنکھوں کا تیل رات کے چراغوں میں ڈال کر اپنی پڑھائی پر دھیان دے کر اسے اونچائی تک لے جا تاکہ آنے والی زندگی میں ایک اچھے انسان کی طرح جی سکو اور اپنی تقدیر بدلنے کی کوشش میں لگ جائو۔ اہل دانش کہتے ہیں کہ پڑھائی ہی چڑھائی ہے ذہنوں کے ارتقاء کی۔ پڑھائی ہی انسان کے سامنے نئے نئے کام سیکھنے اور روزگار کمانے کی راہیں کھولتی ہے۔ پڑھائی ہی غربت، ناانصافی کو مٹانے اور سوچ بدلنے کا آسان سا ذریعہ ہے۔ پڑھائی ہی ایک خوبصورت منزل کی طرف لے جانے والی ایک خوبصورت راہ گزر ہے۔ جدہ نے مجھے بڑے آرام اور تفصیل سے سمجھایا اس طرح میں ہمیشہ اسکی دانش و رانہ اور شفقت بھری باتوں سے ہار جاتی تھی۔ 
ایسے دور میں جہاں ایسے والدین کی کمی نہیں جو اپنی غربت اور مہنگائی کی مار سے مجبور ہوکر اپنے معصوم بچوں کو تعلیم کے نور سے محروم رکھ کر انکے ماتھے پر عمر بھر کے لیے ان پڑھ ہونے کا بدصورت داغ لگاتے ہیں اور ساتھ میں انکے بچپن کی شرارتیں، مستیاں اور شوخیاں چھین کر انہیں مزدوری یا بھیک مانگنے پر مجبور کر کے پت جھڑ کے پھول بنا دیتے ہیں۔  لیکن میری جدہ تو بڑی بہادر اور بے مثال تھی۔ وہ اپنے مسئلوں پر رونے یا رْلانے والوں میں نہ تھی بلکہ خاموش راہ کی ایک خاموش مسافر ہونے کے باوجود اس نے اپنی آنکھوں کا تیل جلاکر مسکراتے ہوئے اور محبت کے ساتھ مجھے ہمیشہ ایک خوبصورت منزل کی راہ دکھائی۔ قدم قدم پر میری رہنمائی کی۔ کسی پرائیویٹ سکول یا کالج سے نہیں بلکہ ایک سرکاری سکول سے میری تعلیم کی شروعات کراکے کالج سے یونیورسٹی تک پہنچاکر میری تقدیر بدل دی۔ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں تھی۔ 
اسکے علاوہ طویل مدت تک  جدہ نے کچھ کچھ پل اپنے کام کے وقت سے چراکر اور کچھ پیسہ اپنی قلیل آمدنی میں پس انداز کر کے میرے لئے شادی کے ایک جوڑے کے ساتھ ایک سفید ململ کے استر والا گہرے جامنی رنگ کا شاہانہ طلے والا فرن تیار کیا لیکن ایک دن اچانک وہ خود خاموش چاند کی طرح گہرے سیا ہ بادلوں کے پیچھے چھپ کر کوئی  خوشی یا سکھ دیکھنے سے پہلے ہی گھر کو سونا کر گئی لیکن جاتے جاتے مجھے جینے کا طریقہ اور سلیقہ سکھا گئی۔  محبت سکھا گئی۔ وہ محبت جس کا کوئی زوال نہیں۔ جاتے جاتے اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ جب زندگی میں خوشیوں کے ساتھ ہاتھ میں وسعت آجائے تو اپنے ماضی کو بھولنے کی غلطی نہ کرنااسراف دیکھا دیکھی،گھمنڈ اور لالچ سے ہمیشہ اپنے دل کو باز رکھنا۔ اپنے جیسے زرد پھولوں کا درد اپنے دل میں ہمیشہ رکھنا۔ یہی اصلی تعلیم کا مقصد اور زندگی کی اصل کامیابی ہے۔ 
جدہ کو گزرے ہوئے کچھ عرصہ گزر گیا۔ میرا مقدر بھی اب بدل چکا تھا۔ میری بہتر زندگی کی شروعات ہو چکی تھی، میرے دل میں ایک سکون اوراطمینان کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں دل میں ایک خلش بھی ضرور تھی کہ میں جدہ کے لیے کچھ نہ کرپائی۔ آج چھٹی کا دن تھا۔ میں نے کسی کام کو ہاتھ نہ لگایا۔ صبح سے ہی جدہ کی یاد شدت سے آرہی تھی ایسے محسوس ہورہا تھا کہ جدہ کا دھندلا دھندلا عکس میرے قریب آکر مجھ سے سرگوشیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہو، جیسے کسی بات کی یاد دہانی کروا رہی ہو۔ خیالوں خیالوں میں مجھے اسکے چھوٹے سے صندوق کا خیال آیا، جسکو وہ ہمیشہ بڑی حفاظت سے رکھتی تھی۔ میں نے صندوق کھولا تو اس میں جدہ نے میری شادی کے لیے کئی چیزیں سنبھال کے رکھی تھی۔  میں نے ایک بند لفافے کو کھول کے دیکھا، اس میں سے وہ جامنی رنگ کا طلے والا فرن نکالا جس کو جدہ نے بڑے اہتمام سے میرے لئے تیار کیا تھا۔  فرن نکالتے ہی پورے کمرے میں خوشبو پھیل گئی۔ میں نے فرن کو سینے سے لگاکر آنکھیں بند کیں پھر تلے پر اپنا ہاتھ  پھیرا تو جدہ سے گلے ملنے کا احساس ہوتے ہی آنکھیں بھر آئیں۔میں کچھ لمحوں کیلئے کہیں کھو گئی کہ دروازے پر دستک ہوگئی۔میں نے فرن کو ایک طرف رکھ کر دروازہ کھولا تو سامنے دو مدبر اور مہربان سے انسان ہاتھوں میں کچھ کاغذات لیے ہوئے اپنی نظریں جھکائے بڑے ادب سے کھڑے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ یوں تو ہم یتیم اور بے سہارا بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرتے ہیں اس لئے آج ہم مقامی مسجد میں ایک یتیم اور نادار لڑکی کی نکاح خوانی کے لیے چندہ جمع کر رہے ہیں۔  میں نے انہیں تھوڑی دیر رکنے کے لیے کہکر اندر سے دروازہ بند کیا۔  اندر آکر میں نے فرن واپس لفافے میں رکھا۔ 
حسب مقدور کچھ رقم اور فرن کا رسید ہاتھ میں لے کر میں انکو نم آنکھوں سے دیکھتی رہی جب تک وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ یہ تو جدہ کی سکھائی ہوئی محبت کی راہ میں میرا پہلا قدم تھا۔ 
���
پہلگام اننت ناگ،موبائل نمبر؛9419038028