تازہ ترین

ناستک

کہانی

3 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
’’ صاحب ۔۔۔۔۔۔ چائے لیجئے‘ ‘۔
چیما جوہری واش رو م سے نکل کر کرسی پر بیٹھا تو اس کا نوکر چائے لے کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
’’کیا کرتے ہو بہادر ۔۔۔۔۔۔کتنی بار بتایا تھوڑی دوری پر رہا کرو‘‘۔
چیما جوہری نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا تو وہ چائے کا ٹرے ہاتھ میں لئے چار قدم پیچھے ہٹ گیا ۔
’’چائے بنانے سے پہلے ہاتھ سینیٹائیزر سے اچھی طرح دھوئے تھے ‘‘۔
’’جی صاحب ‘‘۔
’’ اچھا وہاں رکھو‘‘ ۔
جوہری نے تھوڑی دوری پر رکھی تپائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔بہادر چائے تپائی پر رکھ کر کمرے سے نکل گیا اور جوہری نے اٹھ کر خود ہی چائے اٹھائی اور کرسی پر بیٹھ کر کھلی کھڑکی سے باہر کی اور دیکھتے ہوئے چائے پینے لگا۔باہر خوف کا عالم تھا ،دکانیں بند ،گاڑیاں بند ،ہوٹل بند،ریل گاڑیاں بند، مساجد ،مندر، گردوارے بند اور دل بہلائی کے کلب بند۔جوہری ،جو اکیلے ہی رہتا تھا اورایک بڑا تاجر تھا، گھومنے پھرنے اور عیش وعشرت کا سخت عادی تھا لیکن کئی ہفتوں سے گھر میں قید ہو کر رہ گیا تھا ۔باہر کے اس گورستانی منظر سے اسے گھٹن ہورہی تھی اورگھر کی چار دیواری سانپ کی طرح بل کھا کھا کر اُسے اپنی لپیٹ میں جکڑرہی تھی جب کہ حالات ایسے تھے کہ دور دور تک زندگی کے معمول پر آنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے ۔جوہری نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا خوفناک منظر دیکھا تھا ۔سوچتے ہوئے جوہری نے چائے کی پیالی خالی کردی اور لمبے سے سگریٹ کو شعلہ دکھا کر صوفے پہ دراز ہو کر کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے پھر سے سوچوں میں ڈوب گیا ۔پوری دنیا میں جہاں اس وبائی بیماری کی وجہ سے روزانہ ہزاروں لوگ لقمۂ اجل بن رہے تھے وہیں اس نظر نہ آنے والی وبائی بیماری نے اس شہر کو بھی بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جہاں روزانہ درجنوں لوگ موت کے مُنہ میں چلے جاتے تھے اور سینکڑوں اس اچانک نموداد ہونے والی وبائی بیماری کا شکار ہو کر اسپتالوں میں پہنچ رہے تھے ۔اسپتالوں میں مریضوں کو رکھنے کے لئے اب جگہ بھی کم پڑ رہی تھی اورتمام دنیا کے  سائینس دانوں،سرکار وںاور طبعی شعبے کی تمام تر کوششوں کے با وجود اس وبائی بیماری پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا ۔ان حالات کے چلتے شہر کے سارے لوگ کافی خوفزدہ،بے یار و مدد گار اور پریشان تھے ۔
’’ اوپر والے ۔۔۔۔۔۔ یہ تُو اس سنسار کو کیا دکھا رہا ہے ‘‘۔
دفعتاً جوہری کے مُنہ سے غیر ارادی طور یہ الفاظ نکلے ۔
’’ہا ۔۔۔ ہا ۔۔۔ ہا ۔۔ ۔ کس اوپر والے کو پکار رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ تو تو ناستک ہے اور خدا کو بھی نہیں مانتا ہے ‘‘۔
جوہری کے اندر سے آواز آئی اور اُسے سخت جھنجھلاہٹ اور ندامت محسوس ہوئی ۔ شرمندگی کے عالم میں اس نے سگریٹ سلگایا اور پہلو بدل کر کھڑکی سے بدستور باہر دیکھتا رہا ۔۔۔
’’ کاش وہ با با آجاتا ۔۔۔۔۔‘‘۔
اچانک اس کا دھیان اپنی کوٹھی سے تھوڑی دوری پر واقع اس پیڑ کی طرف گیا جہاں ایک بابا اکثر آکر بیٹھ کے مٹی کے ساتھ کھیلتے ہوئے اپنے آپ سے باتیں کرتا تھا اور جوہری اس کے لئے کھانا ،نئے کپڑ ے وغیرہ لے کر جا تا تھا لیکن با با کبھی بھی جوہری سے کوئی چیز لینے پر راضی نہیں ہوا تھا ۔جوہری اگر چہ ناستک تھا اور خدا یا بھگوان کو نہیں مانتا تھا لیکن بے سہارا اور مجبور لوگوں کی ہمیشہ مدد کرتا تھا ۔ایک بار جب شدید زلزلے سے لوگوں کی املاک کو شدید نقصان پہنچا تھا اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے،تو جوہری نے با با کے پاس جا کر پوچھا تھا ۔
’’با با ۔۔۔۔۔۔ زلزلے کیوں آتے ہیں ؟‘‘
’’کیا پتہ ۔۔۔۔۔؟‘‘
با با نے جواباً کہا تھا اور ۔۔۔’’گھنٹی بجی ‘‘۔۔۔ ’’گھنٹی بجی ‘‘کا ورد کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا۔ جوہری، جس کی نظر میں با با کوئی غریب ولاچار انسان تھا، کو اس کی باتوں پر ہنسی آئی تھی ۔ ایک بار شدید بارش کے سبب سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا تھا اور با با برستی بارش میں اپنی جگہ بیٹھ کر مٹی ہاتھ میں لئے لکڑی کے ٹکڑے سے گیلی زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا تو جوہری ایک گرم کمبل اس کو پیش کرتے ہوئے گویا ہوا ۔۔۔
’’با با ۔۔۔ اتنی تیز بارش میں یہاں کیا کر رہے ہو ؟‘‘
’’بادشاہ اور رعایا میں دوریاں بڑھ گئی ہیں اور میں ان کے بیچ صلح کرا رہا ہوں‘‘ ۔
با با نے کمبل کو شان بے نیازی کے ساتھ پایۂ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا تھا ۔
’’بادشاہ اور رعایا کے بیچ صلح ۔۔۔۔ ارے با با ،یہ سرکار ہرگز نہیں گرے گی۔۔۔‘‘۔
جوہری نے تکبر سے ہنسی کے فوارے چھوڑتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی ۔
’’صلح ہوگی کہ نہیں‘‘۔
’’بادشاہ تو راضی ہے لیکن رعایا نہیں مان رہی ہے ‘‘۔
با با نے خود سے ہڑ بڑاتے ہوئے کہا تھا ۔
  جوہری سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھویا ہوا تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی ۔اس نے ہیلو کیا تو دوسری طرف کسی این ۔جی ۔او ۔کا نمائندہ لائین پر تھا ۔
’’جوہری صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ بڑے دیالو ہیں ، اس وبائی بیماری سے نمٹنے اور غریب لوگوں کی راحت رسانی کے لئے کچھ رقم ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ میری طرف سے ایک کروڑ روپیہ پکا لیکن کسی بھی طرح سے اس مہلک بیماری سے لوگوں کو نجات دلائیں ‘‘۔
جوہری نے اس کی بات کاٹتے ہوئے عجلت بھرے لہجے میں کہا ۔
’’آپ کی ذرہ نوازی جناب ۔۔۔۔۔۔ ہم تو صرف کوشش کر سکتے ہیں باقی سب اوپر والے کے ہاتھ میں ہے ۔فی الحال تو لوگوں کی دال روٹی کا مسئلہ درپیش ہے جو بھوک سے مر رہے ہیں‘‘ ۔
’’ میں اور بھی رقم دینے کے لئے تیار ہوں لیکن کوئی بھی لاچار انسان بھوک سے نہیں مرنا چاہیے ‘‘۔
کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور کچھ دیر کمرے میں ہی ٹہلنے کے بعد واش روم جا کر سینیٹائیزر سے ہاتھ دھونے کے پھر سے صوفے پر دراز ہو گیا جس کے ساتھ ہی اُسے غنودگی سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔
’’کیوں جوہری صاحب ۔۔۔۔۔۔ بہت پریشان لگ رہے ہو‘‘ ۔
دفعتاً اس کی سماعتوں سے آواز ٹکرائی۔
’’ہاں بھائی ۔۔۔۔۔۔ اس کرونا وائیرس نے ناک میں دم کر رکھا ہے‘‘ ۔
’’کرونا وائیرس ۔۔۔۔۔۔ ہا ۔۔۔ہا۔۔۔ ہا۔۔ـ۔۔۔‘‘۔
’’کیوں بھائی ۔۔۔۔۔۔ ہنس کیوں رہے ہو اور تم ہو کون؟سامنے تو آجائو‘‘۔
’’میں کون ہوں یہ تو میں آپ کو بعد میں بتائوں گا ۔ویسے یہ کرونا ہے کیا چیز کہ زمین پر موجود سب مخلوقات میں سے ذہین اور طاقت ور انسان ایک معمولی جرثومے سے بری طرح سے مات کھا گیا اورترقی یافتہ دنیا کے پہیے کو ایک معمولی جرثومے نے روکے رکھا ہے ‘‘۔
’’ہاں بھائی ۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا ظالم ہے‘‘ ۔
’’ظالم کرونا نہیں بلکہ خود تم آدم کی اولاد ہو‘‘ ۔
’’ ہم نے کیا کیا؟‘‘
’’کیا کیا ،یہ بتائو کہ تم نے کیا نہیں کیا ،تم ذرا اپنے گریبان میں ہی جھانک کر دیکھو۔ ا یک عزت دار جوہری کے لبادے میں اپنی تجوریاں بھرنے کی فکر میں جان لیوا ہتھیاروں کا کاروبار کرتے ہو۔کبھی سوچا ہے کہ ان ہتھیاروں سے کتنے بے بس نہتے انسانوں کی جانیںچلی جاتی ہیں ۔بار بار گھنٹی بجنے کے باوجود اپنی سیاہ کاریوں سے باز نہیں آتے ہو اور نہ ہی نادم ہو جاتے ہو ‘‘۔
  ’’گھنٹی ۔۔۔۔۔۔ کون سی گھنٹی ۔۔۔۔۔۔ کیسی گھنٹی ۔۔۔۔۔۔‘‘  
جوہری ایسے تلملایا جیسے اس کے مُنہ میں زبر دستی کڑوی گولیاں ٹھونسیں جارہیں ہوں۔
’’ہا ۔۔۔ ہا ۔۔۔ ہا ۔۔۔سب کچھ دیکھ کے اندھے بنتے ہو اور سن کے بہروں کا روپ دھارن کرتے ہو‘‘ ۔
’’دیکھو بھائی ۔۔۔۔۔ آپ کی باتیں بالکل میری سمجھ نہیں آتی ہیں اور پہلے آپ یہ بتائو کہ آپ ہو کون؟ اور مجھ سے کیا چاہتے ہو‘‘ ۔
’’اب تک مجھے نہیں پہچانا،ویسے تمہاری آنکھوں میں اتنی تاب نہیں ہے کہ مجھے کھلی آنکھوں سے دیکھ سکو ۔۔۔ میں ۔۔۔میں ہی معمولی کرونا جراثیم ہوں لیکن ۔۔۔۔۔۔ ‘‘
’’کرونا ۔۔۔۔۔۔ کرونا۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی جوہری نے زور زور سے چلانا شروع کردیا اور ایک دم سے صوفے سے اٹھ کھڑا ہو گیا ۔وہ اوپر سے نیچے تک اس طرح پسینے سے شرابور ہو چکا تھا جیسے موت اسے چھو کر گزری ہو ۔
’’کیا بات ہے صاحب ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ اس کی چیخیں سن کر اس کے نوکر نے آکر پوچھا‘‘ ۔
’’کچھ نہیں ‘‘۔
’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ کے لئے کھانا لگادوں ‘‘۔
’’نہیں ۔۔۔۔۔۔ بھو ک نہیں ہے ،تم جائو‘‘۔
اس نے کہا اور پانی پی کر اپنے آپ کو سنبھالنے کے لئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
’’گھنٹی بجی ۔۔۔۔۔۔ گھنٹی بجی ۔۔۔۔۔۔‘‘
اس کے وجودپریہ الفاظ ہتھوڑے بن کر برسنے لگے اور دماغ تیز رفتار موٹر کے پہیے کی طرح گھومنے لگا  ۔ کافی دیر تک پریشان سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہنے کے بعد شام ڈھلتے دفعتاً اس نے کھڑکی سے باہر کی اور نظر دوڑائی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ وہ با با دنیا و مافیہا سے بے خبر درخت کے نیچے بیٹھ کر مٹی سے کھیل رہا تھا ۔وہ بنا کچھ سوچے عجلت و اضطراب میں اٹھا اور احتیاطی تدابیر عملائے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے با با کے پاس پہنچ گیا ۔
’’بابا ۔۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو ؟‘‘
’’صلح کی کوشش کر رہا ہوں ‘‘۔
’’بابا ۔۔۔۔۔۔ ‘‘
’’شانت ہو جائو‘‘ ۔
اس نے کچھ کہنا چاہا تو بابا نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کڑک آواز میں کہا اور کچھ توقف کے بعد اپنی بات جاری رکھی ۔
’’بالک ۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو لیکن بُری خبر یہ ہے کہ اب کی بار رعایا تومان رہی ہے لیکن بادشاہ ابھی راضی نہیں ہو رہا ہے‘‘ ۔ 
’’با با ۔۔۔۔۔۔کچھ کرو۔۔۔۔۔‘‘۔
وہ لجاجت سے ہاتھ جوڑ کر با با سے منتیںکرنے لگا ۔۔۔۔ لیکن بابا نے اس کی باتوں پر ذرا بھی دھیاں نہیں دیا اور کچھ دیر تک خلاء میں گھورنے کے بعد وہاں سے چلا گیا جب کہ جوہری،جس کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی اور پورے بدن میں جیسے سوئیاں سی چبھنے لگیں، اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے بھاری قدموں سے واپس آیا اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے اپنے گناہوں کو سامنے رکھ کرندامت سے دو جہاں کے حقیقی بادشاہ کے سامنے گڑ گڑانے لگا ۔
٭٭٭
رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ ) 193502 ( کشمیر
ای میل ؛ tariqs709@gmail.com