تازہ ترین

افسانچے

3 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ایف آزاد دلنوی

’’ ایک بار پھر سہی‘‘

 
میٹنگ ہال میں غضب کی خاموشی تھی کوئی ہل ڈھل نہیں رہا تھا سب کے چہرے اترے ہوئے تھے پارٹی کے تمام وزراء وممبران سوچوں میںڈوبے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو  ترچھی نظروں سے دیکھ کر من ہی من میں  اپنی غلطیاں گنوا رہے تھے۔
وزیر خارجہ۔۔’’اگر میں نے ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے بجائے رعایا کی بہبودی اور بھلائی کے کام کئے ہوتے تو میرے ووٹروں میںاتنی کمی نہیں ہوجاتی۔ میں آنے والے الیکشن میں آ سانی سے جیت جاتا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس۔۔۔!!!
وزیر داخلہ۔۔’’اگر میں نے رعایامیں نفرت پھیلانے کے بجائے ان کو پیار ومحبت سے رہنے کا پیغام دیا ہوتاتو یہ درگت نہ ہوجاتی۔میںنے دنگے کراکے  خان ‘ دلت تو کبھی سوڈی کو پٹوایا۔ افسوس۔۔۔۔۔۔!!!
وزیر خزانہ۔۔’’اگر میں نے غریب رعایا کا کچھ خیال کیا ہوتا تو شاید ان کی یہ بے رخی دیکھنی نہ پڑتی ۔رعایا خوش حال ہوتی توکبھی اپنی پارٹی چھوڑ کے نہیں جاتی۔افسوس۔۔۔۔۔!!!
تینوں نے آئندہ ایسی غلطیاں نہ کرنے کا عہد کرلیا۔
سب سوچوں میں گم تھے کہ وزیر اعلی صاحب کھڑے ہوئے اور خاموشی توڑتے ہوئے بولے۔
’’آپ سب کو سانپ سونگھ گیا ہے کیا۔؟ایسے چپ چاپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے  سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ نئی پارٹی تیزی سے ہر علاقے میں اپنی پکڑ مضبوط کر رہی ہے ۔یہی رفتار رہی تو ساری رعایا ہمارے خلاف ہوجائے گی اور یہ پارٹی آسانی سے جیت جائے گی۔اسی بیچ وزیر اطلاعات کھڑے ہوکر مخاطب ہوئے۔
’’عزت مآب وزیر اعلی صاحب ۔موصولہ اطلاع کے مطابق بڑی تعداد میں ہماری پارٹی کے کارکنان اس نئی پارٹی کی چپیٹ میں آرہے ہیںہمیں بہت جلد کچھ کرنا ہوگا۔‘‘
یہ سن کر وزیر اعلی صاحب بوکھلا کر بولے۔
’’وزیر خارجہ۔۔۔ ’جناب‘ تم اپنے کارکنوں کے لئے بدیس سے ہتھیار آرڈر کر لو۔
وزیر داخلہ۔۔۔’جناب‘ تم اپنے کارکنوں کو نئی پارٹی کے خلاف خوب اکسائو۔
وزیر خزانہ۔۔۔’۔جناب‘ تم اپنے کارکنوں میںنئے نئے نوٹوں کے بنڈل تقسیم کر دو۔۔اور تینوں وزراء مل کر نئی پارٹی کے جلسے پر حملے کی تیاری کرو۔‘‘
’’ مگر ۔۔۔وزیر اعلی صاحب۔‘‘تینوںایک آواز میں کچھ کہنا چاہتے تھے کہ اتنے میںدور سے نعرے بلند ہونے لگے۔
’’زندہباد۔۔۔زندہباد۔۔۔کورونا پارٹی ۔۔زندہ باد۔‘‘
یہ سن کر تینوں وزیروں کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی اور مستعد ہوکر وزیر اعلی کے بالکل نزدیک چلے گئے ۔جس نے سرگوشی میں کچھ کہا۔
اور کچھ ہی دیر میں پھرگولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں
 
 

نم آنکھیں

"اسکول بند ہے لیکن امجد میاں کل سے آپ کے گوگل کلاسز ہوں گے"۔ 
"گوگل کلاسز سر ؟ " امجد متعجب ہو کر اپنے استاد کی طرف دیکھنے لگا۔
"ہاں"گوگل کلاسز بیٹا،،
امجد نے جب اپنے استاد سے یہ الفاظ سنے تُو وہ افسردہ ہو گیا کیونکہ اس کے پاس موبائیل فون،جس سے وہ گھر پر ہی کلاسز لے سکتا تھا، نہیں تھا۔ امجد اپنے گھر چلا گیا اور اپنے بابا سے کہنے لگا ،
"بابا کل سے ہمارے گوگل کلاسز شروع ہونے والے ہیں لیکن میرے پاس موبائیل فون نہیں ہے۔ میں فون کے بغیر کیسے کلاسز لے سکتا ہوں۔ 
یہ سن کر امجد کے والد بھی بہت اداس ہوگیے۔اس کی نم آنکھیں کچھ دیر کے لئے جھک گئیں۔ چند لمحے کے بعد جھکی ہوئیں آنکھیں اٹھاتے ہوئے وہ اپنے بیٹے سے کہنے لگا۔
"بیٹا میں کچھ دنوں سے کام پر بھی نہیں گیا۔ اب میرے پاس بہت کم پیسے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں آپ کے لئے موبائیل لاوں یا آپ کی امی کے لئے ضروری دوائی۔۔۔۔۔"
اپنی امی اور ابا کی بے قراری کو دیکھ کر امجد کی معصوم آنکھیں بھی نم ہو کر جھک گئیں۔
 
 
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847