تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

1 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی

موجودہ و بائی صورتحال ۔۔۔ مستحقین کی امداد و اعانت کا عمل 

زکواۃ و صدقات کی شرعی حقیقت اور مصارف میں احتیاط لازم

سوال: موجودہ لاک ڈاون کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں اُن میں ایک اہم مسئلہ اُن لوگوں کا ہے جو آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے فقر و فاقہ کا شکارہوگئے ہیں ۔اس صورت حال میں ہمارے کچھ جذبہ خیر رکھنے والے بھائی ،کچھ خیراتی ادارے اور کچھ سماجی فورم ایسے لوگوں تک ریلیف پہنچانے کا کام کررہے ہیں ۔اس لئے اس سلسلے میں خرچ کرنے والوں ،تقسیم کرنے والوں اور ریلیف لینے والوں کے لئے شرعی ہدایات کیا ہیں ؟ اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں ۔                                                                
( وسیم حسین ،محمد فیضان ۔باغ مہتاب سرینگر)

جواب  :انفاق فی سبیل اللہ یعنی اپنا مال اُن مصارف میں خرچ کرنا جن پر خرچ کرنے کا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے ،اس کی اسلام میں بہت ہی زیادہ اہمیت ہے ۔عموماً قرآن کریم میں نماز کے حکم کے ساتھ زکوٰۃ و صدقات کا حکم ہوتا ہے۔ یہ زکوٰۃ و صدقات ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے پھر جب کسی جگہ اجتماعی فقر و فاقہ کے احوال پیدا ہوجائیں تو اُس وقت قوم یا قوم کے بے شمار افراد کو اُس مفلوک الحالی سے بچانے کا مرحلہ ہوتا ہے ۔اُس وقت اس انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت بہت ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے بلکہ ممکن ہے کہ جب عوام میں کچھ لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ فاقوں کا شکار ہوگئے ہوں اُس وقت اُن کو ضرورت کی چیزیں مہیا کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرنا اور مسلسل سرگرم رہنا نفلی عبادات سے زیادہ اجر او ثواب رکھتا ہے۔
حضرت نبی کریم علیہ السلام کا ارشاد ہے ۔یتیم اور بیوائوں کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جب کہ کوئی مسلسل روزے رکھتا ہو اور راتوں کو عبادت میں جاگتا ہو ۔(بخاری ومسلم)
دنیا پر حاوی موجودہ بیماری کی وبائی صورت حال کے نتیجے میں یقیناً یہ درد ناک حال سب کے سامنے ہے کہ نہ جانے کتنے لوگ فاقوں میں مبتلا ہوں گے اور آگے یہ صورت حال اور زیادہ پھیل سکتی ہے اور وجہ بالکل ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو  مزدوری کرکے دن کو کماکر لاتے پھر شام کو اُن کے منہ میں لقمہ پہنچ سکتا تھا ۔اب جبکہ اُن کی کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے تو وہ کس طرح اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوں گے بلکہ بہت سارے روپے پیسے والے بھی کھانے پینے کی چیزیں نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوں گے ،اس صورت حال میں انفاق فی سبیل اللہ کا فریضہ کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے ۔اس عمل میں چار طبقات اس وقت براہ ِ راست جڑے ہوئے ہیں ۔اُن کے متعلق مختصر طور پر کچھ احکام لکھے جارہے ہیں ،یہ چار طبقے یہ ہیں: دینے والے یعنی خرچ کرنے والے ،ریلیف جمع کرنے والے اور خرچ کرنے والے اور ریلیف لینے والے یعنی مستحق افراد اور چوتھی قسم لالچی اور حریص لوگ۔ان چاروں کے متعلق بہت اختصار کے ساتھ شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کی روشنی میں ہدایات تحریر کی جاتی ہیں۔
خرچ کرنے والے افراد کے لئے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام مالوں کا صحیح طور پرشریعت کے ضابطوں کے مطابق حساب لگاکر زکوٰۃ ادا کریں۔یہ زکوٰۃ جمع رقوم پر بھی لازم ہوتی ہے ،تجارتی اموال پر بھی،اور گھروں میں موجود سونےیا زیورات پر بھی۔لہٰذا ٹھیک ٹھیک طرح حساب لگاکر دیکھا جائے کہ مال کی کون کون سی قسم ہے اور اُس میں زکواۃ کتنی ادا کرنی ہے ۔دوسرا اہم کام زکوٰۃ کے علاوہ صدقات و خیرات جتنی زیادہ مقدار میں دے سکتے ہوں ضروردیدیں۔قرآن کریم میں ارشاد ہے : اُن (اہل ایمان) کے مالوں میں ایک مقررہ حق کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور وہ اُن انسانوں کے لئے جو مانگنے پر مجبور ہوگئے ہوں یا جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہو، سائل اور محروم دونوں کو دینے کا حکم اللہ کی طرف سے اس طرح دیا گیا کہ یہ حق یعنی لازم ہے ،غرض کہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی صدقات و خیرات دینے کا حکم ہے ۔حدیث میںہے ،حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا : مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے (ترمذی) یعنی زکواۃ اگر پوری طرح کسی نےادا کردی تو اس کے علاوہ بھی اُن مالوں میں دوسرے افراد کے حقوق ہیں اور وہ قرابت داروں کی مدد ،مفلوک الحال غرباء اور محتاجوں کی خبر گیری ،قحط و فاقوں کا شکار لوگوں کا مالی تعاون۔
دوسرا طبقہ وہ افراد یا ادارے جو لوگوں سے اموال اور رقوم لیکر مستحق لوگوں تک پہونچاتے ہیں ،انہیںاُن کی اس محنت کا بہت بڑا اجر ملنے والا ہے اور وہ بلا شبہ پوری قوم کی طرف سے دعائوں ،مبار ک بادی اور تحسین کے حقدار بھی ہیں اور اللہ کے یہاں بھی وہ عظیم اجر پانے والے ہیں مگر اُن کو کم از کم دو امور اپنانا بہت ضروری ہیں ۔ایک اخلاص اور وہ یہ کہ سارا کام اللہ کی رضا کے لئے ہو نہ اپنی شہرت کے لئے ہو ،نہ لوگوں سے عزت افزائی کے حصول کے لئے یہ محنت ہو اور نہ اپنی ذات کو با عظمت بنانے کا جذبہ ہو  اور اُن کے لئے بار بار اپنے ذہن میںیہ خیال لانا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ وہ اللہ کی رضا کے لئے ہے اور چونکہ اللہ اور اُس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ مجبوراور پریشان حال انسانوں کی خبر گیری کرو ،اسی لئے میں سرگرم ہوں اور اسی حکم کو پورا کرنے کے لئے میری یہ ساری محنت ہے ۔یہ نیت با ر بار اپنے ذہن میں مستحضرکرے۔
دوسرا اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ وہ زکواۃ کی رقوم زکوٰۃ کی جگہ خرچ کریں اور عمومی امداد اور صدقات ِ نافلہ کی رقوم اُن کے مصارف پر خرچ کریں اور اس میں شفافیت کے لے اُن کو دو جگہ چوکنا رہنا ہے ۔ایک تو جن سے مالی مدد لی جارہی ہے ،اُن سے یہ وضاحت کرانا کہ یہ زکوٰۃ ہے یا عمومی امداد۔اگر زکوٰۃ ہو تو اُس کو الگ رکھا جائے اور عمومی امداد ہو تو اُس کو الگ رکھا جائے تاکہ آگے خرچ کرنے میں خلط ملط نہ ہو ۔یعنی زکوٰۃ اُن افراد کو دینے کی غلطی نہ ہو جو اس کے حقدار نہ ہوں اور اُس کے بعد جن افراد کو یہ ریلیف دینا ہو اُن میں مستحق زکوٰۃ کو مشخص کرنا اور جب اچھی طرح یہ یقین ہوجائے کہ یہ واقعتاً مستحق زکوٰۃ ہے تواُسے زکوٰۃ کی رقم یا کچھ راشن دیا جائے ۔زکوٰۃ کا مستحق معلوم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ خود اُن افراد سے پوچھا جائے کہ کیا وہ زکوٰۃ لینے کے شرعی طور پر مستحق ہیں یا نہیں۔اگر وہ زبان سے کہہ دیں کہ ہاں ہم مستحق ہیں تو اُن کو مستحق سمجھ لیا جائے ۔حقیقت ِ حال جو بھی ہو اُس کی کھوج کرنے کے آپ ذمہ دار نہ ہوں گے ۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دائیں بائیں سے معلومات لے کر اور آثار و قرائن سے معلوم کرلیا جائے کہ وہ واقعتاً مستحق زکوٰۃ ہیں یا نہیں ۔اس ساری کوشش کے باوجود اگر کسی غیر مستحق کو زکوٰۃ چلی گئی تو اُمید ہے کہ اللہ کے یہاں آپ بری ہوجائیں گے اور اجر و ثواب بھی ملے گا ۔
ریلف کے نام پر امداد لینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ جب اُن تک کوئی ریلیف پہونچے ،چاہے وہ راشن کی صورت میں ہو یا رقوم کی صورت میںتو اگر وہ زکوٰۃ کے مستحق نہ ہوں مگر ریلیف لینے کے لئے مجبور ہوں تو صاف صاف زبان سے کہہ دیں کہ اگر یہ ریلیف زکوٰۃ میں سے ہے تو ہم نہیں لے سکتے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ریلیف کی چیزیں لینے کیلئے مجبور ہوں مگر زکواۃکے مستحق نہ ہوں ،تو اس طرح وہ گنا ہ کا شکار ہوں گے ۔مثلاً کسی کے گھر میں اتنا سونا چاندی یا اُس سے بنے  زیورات ہونگے تو  وہ خود صاحب نصاب بن گیا ہے ،مگر دوسری طرف اُس کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ،اس لئے وہ ریلیف لینے پر مجبور بھی ہے تو ایسے شخص کو زکوٰۃ کی رقم کا ریلیف ہرگز نہیں لینا چاہئے کیونکہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں کہ ضرورت مند شخص اپناضرورت مند ہونا بھی ظاہر کرےاور یہ بھی کہہ دے کہ مجھے زکوٰۃ میں سے  نہ دیا جائے اس لئے کہ میں زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوں۔
ایک اہم امر یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اپنے گمان کے مطابق اپنے متعلق یہ سمجھے کہ وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے مگر حیققت میں نہ ہو اور وہ اپنی معلومات یا اپنے خیال کی وجہ سے زکوٰۃ لے لے تو یہ بھی غیر مستحق زکوٰۃ ہوکر پھر زکوٰۃ کھانے والوں میں ہوگا اور یہ جرم ہے۔
چوتھا طبقہ ۔وہ افراد جو حقیقت میں زکوٰۃ اور صدقات یعنی کسی بھی ریلیف کے مستحق بھی نہیں اور یہ سب لینے کی اُن کو نہ ضرورت ہے ،نہ وہ مجبور ہیں۔مگر نفس کی لالچ ،حرص و طمع کی وجہ سے وہ بھی اپنے آپ کو لینے والوں میں شامل کریں اور اس کی کوئی پروا نہ کریں کہ ہم کسی بھی طرح کی مدد لینے کے ضرورت مند نہیں ہیں پھر یہ ریلیف کی چیزیں یا رقوم لینے والوں میں اپنے آپ کو شامل کریں تو اُن کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بہت خطرناک کام کررہے ہیں یعنی اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں ،دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
ایک تو یہ کہ آج غیر مستحق ہوکر اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مفلوک الحال ظاہر کرے تو آگے چل کر واقعتاً وہ مفلوک الحال ہی نہ بن جائے ،یعنی آج غیر مستحق ہوکر اپنے کو بھکاری بنایاتو آگے حیققتاً بھکاری بننے پر مجبور ہوجائیں گے ۔دوسرے ایسے انسان کے متعلق حدیث میں ہے کہ ایسا شخص قیامت میں اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے سے گوشت نوچ لیا گیا ہو گا (بخاری کتاب الزکوٰۃ)
لہٰذا ضرورت مند نہ ہو ں تو اللہ کا شکر ادا کریں اور لالچ و حرص سے بچنے اور غنا کا مزاج برقرار رکھنے کی کوشش کریں اورغیر مستحق ہوکر اپنے آپ کو دھوکہ سے مستحق لوگوں میں شامل نہ کریں اور ریلیف کا مستحق نہ ہو کر اپنے کو مستحق جتلانا در حقیقت مستحق لوگوں کو محروم کرنے کا اقدام ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے خطرناک پکڑ آسکتی ہے کہ پھر ہمیشہ کے لئے مستحق اور بھکاری ہی نہ بن جائیں۔
