کوویڈ۔19: کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کی حالت غیر

میری بات

6 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

انجینئر شاہ خالد
 کرونا کے باعث موجودہ نازک اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرجہاںدنیا بھر میںہر خاص و عام خوف و خطرہ میںمبتلا ہوچکا ہے وہیں علاج و معالجےکی صورت حال بھی متاثر ہورہی ہے۔ایک طرف جہاں ہر سطح پر کو وڈ سے متاثرہ لوگوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے تو دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلالوگوں کی طرف توجہ کافی حد کم ہوگئی ہے۔طبی شعبوں سے منسلک تمام لوگ ،ماہرین اور عملےیہاں تک کہ درجہ چہارم کے ملازمین بھی اس غیر یقینی صورت حال میںاپنے اپنے کام میںمصروف تونظرآرہے ہیںلیکن ہسپتالوں،شفا خانوںاور دیگر صحت مراکز پر دیگر امراض میں مبتلا عام لوگوں کو وہ طبی سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔کشمیر میں تمام چھوٹےبڑے صحت مراکز کی صورت حال عام مریضوں کے تئیں بالکل نفی کے برابر ہوگئی ہے۔جس کے نتیجہ میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کشمیری عوام بھی اسی صورت حال کا شکار ہیںجس میں اس وقت پورا عالم ہےاور احتیاطی تدابر کے تحت لاک ڈاون میں جی رہے ہیں۔تاہم دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ جو لوگ نفسیاتی امراض کے شکار ہیں ،وہ کووڈ کی وبائی بیماری پھیلنے کے باعث پیدا شدہ موجودہ صورت حال سے بُری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ جن مریضوں کو نفسیاتی عارضے کی تشخیص ہوئی ہے اور علاج و معالجے سے کافی حد تک صحت یاب ہوچکے تھے، وہ ایک بار پھرزبردست کشیدگی اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔جبکہ بیشتر لوگوں کی دماغی صحت پر بھی اثر پڑرہا ہے،اور وہ ذینی طور پر منتشر ہورہے ہیں۔ پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی تشخیص کرنے والے ایک مریض نے کہا کہ "میں ڈرتا ہوں جب سوشل نیٹ ورکنگ صارفین صرف اس موجودہ صورتحال کے متعلق تازہ ترین معلومات کو اَپ ڈیٹ کررہے ہیں"  یہ ایک جسمانی مرض ہیں جس میں مریض نے کچھ بھیانک واقعے کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے اسے تناؤ کی صورتحال پیش آتی ہے۔
 ایک اور مریض کا کہنا ہے کہ جب سے کورونا وائرس کا نام سُنا ہے تب سے رات کے وقت وہ بہت خوفزدہ ہوتا ہے اور اسے صرف خوفناک خواب آتت رہتے ہیں۔ جس سے وہ کانپ جاتا ہے اور چلاتا رہتا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا یہ خوش خبری بھی دی ہے کہ میں نےکہ میں نے اس اس کا علاج خود ہی ڈھونڈ لیا ہے،چنانچہ’’ جب سےاُس نے بیدار ہو کر نماز  پڑھنی شروع کردی ہے تب سے اُس کاخوف جاتا رہا ہے نماز کی ادائیگی کے بعد وہ اپنے آپ کو مستحکم اور محفوظ سمجھتا ہے‘‘۔
ادھر نفسیاتی ڈاکٹروںدماغی صحت کی ناسازی میں مبتلا مریضوںکی تشویش کا اعتراف کرتے ہوئےاسے اضطراب کی سطح قرار دیا ، جس سے ایسے مریضوں کے لئے زیادہ متاثر کُن ہوسکتی ہے جس سے ایسے مریضوں میں تناؤ جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہیں،اور وہ خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس میں زیادہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جوں ضوں دن گزرتے جائیں گے اُن میں برداشت کی حد میںخود بخود اضافہ ہوتا جائے گا اور وہ صحت یاب ہوجائیں گے۔
نفسیاتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ مریض سورج غروب ہونے کے بعد بخار جیسے حالات کو محسوس کرتے ہیں ، جو ڈاکٹروں کےمطابق صرف ایک خوف اور ذہنی پریشانی کی علامت ہے۔
ڈاکٹر تصدق حسین ایتو ، جو ایک فزیشن ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ "موجودہ صورتحال کے تناسب میں ایسے مریضوں کی میں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کے مریض رات کے اوقات میں بے یقینی اور بے چینی کا احساس کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ اپنے ڈاکٹر کے مشوروں کے تحت ادویات لیتے رہیں گےتو اُن کی صورت حال قابو میں رہ سکتی ہےاور صحت یاب ہوجائیں گےاور انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی صحت سے متعلق صحت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے چاہیے۔
 ایک نفسیاتی ڈاکٹر ، جو سرینگر کے گورنمنٹ ہسپتال میں تعنات ہیں ، کہتے ہیں کہ "ایسے مریضوں کو سوشل نیٹ ورک دیکھنے سے گریز کرنا چاہئے لیکن وہ اپنے گھر میں دعائیں ، کتب اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہ سکتے ہیں ، انہیں پرسکون رہنا چاہئے اور اللہ تعالی سے پُرامید ررہناچاہئے۔ اس طرح کی پریشانی کا ماحول بھی بدل جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسے مریضوں کی طرف سے کچھ شکایات موصول ہو رہی ہیں اور ہم انہیں مناسب اور مشفقانہ طریقے پر مشورہ دیتے رہتے ہیںاور اس طرح بدستور ہم ان کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ دماغی صحت سے متعلق مریض ہر طرح سے بہتری محسوس  کرتا رہے۔  جس کے بعد ایسے مریض میں عام انسانوں کے طرز عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
 وادی کشمیر میں سینکڑوں ایسے ہی ذہنی بیمار ہیں جو یہاں عرصہ دراز سے جاری نامساعد حالات،درپیش مسایل اور دوسرے تنازعات سے متعلق رونما ہونے والےواقعات کی وجہ سے اس طرح کے عارضوں سے گزر رہے ہیںاور جب کوئی نیا مسئلہ یا کوئی نئی مصیبت آن پڑتی ہے تو وہ ان کی دماغی صحت یابی برقرار نہیں رہ پاتی ہے اور وہدوبارہ اُلجھنوں اور پیچیدگیوںکا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور دادی کشمیر کے لوگوں کے لئے یہ ایک صدمہ ہی نہیں بلکہ ایک بڑی بدقسمتی ہے۔
 سرینگر میں انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز جو سینکڑوں دماغی امراض میں مبتلا مریضوں کو معمول کے مطابق علاج کر رہے ہیں نے ایک نفسیاتی امراض سے متعلق رپورٹ میں بتایا ہے کہ کشمیر میں ہر پانچ افراد میں سے ایک فرد میں پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی علامت ظاہر ہوتی ہے ، جس کو (پی ٹی ایس ڈی) کے نام سے جاتا ہے، بیشتر نفسیاتی ڈاکٹر اسےافسوسناک صورت حال قرار دے رہے ہیں۔
میڈیسنز سنز فرنٹیئرس جو ایک عالمی نفسیاتی مرکز ہے، نے2015 کے سروے رپورٹ میں بتایا تھا کہ 45 فیصد کشمیریوںمیں ذہنی پریشانی کی علامت پائی جاتی ہے۔41 فیصد سے زیادہ آبادی میں افسردگی ، 26 فیصد میں اضطراب کےعلامات اور 19 فیصد آبادی میں ذہنی تناؤاور اُلجھائو کے علامات  پائے جاتے ہیں۔جن سے اُن کی دماغی صحت متاثر ہوجاتی ہے۔
بلا شبہ کشمیر میںکافی لمبے عرصے سے چلے آرہے پیچیدہ حالات،خون و خرابہ،کریک ڈاون ،محاصرے،چھاپے ،لوٹ مار ،ہڑتال اور احتجاج نے لوگوں کو ذہنی صحت کے بحران کو گہرا کردیا ہے ، کیونکہ تنازعہ کی وجہ سےکشمیری قیدیوں جیسے زندگی گزر رہے ہیں۔جس کے نتیجہ میںلوگ دوسری کئی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ باقی ریاستوں کے مقابلے میں کشمیر کی آبادی بہت زیادہ خوف زدہ ہے کیونکہ پچھلے تیس سالوں کی غیر یقینی صورتحال نے آج بھی اُن کے ذہنوں کے پردوںچھائی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کشمیر کے نوجوان نسل کی ایک خاصی تعداد ذہنی اُلجھائو  کے شکار ہے جو ایک لمحہ ٔ فکریہ ہے۔
peerzadakhalid1545@gmail.com
 

تازہ ترین