افسانچے

5 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر نذیر مشتاق

اپنے 

موم اب آپ بالکل صحت مند ہیں۔ اس عمر میں آپ نے وائرس کا مقابلہ کیا، کمال ہے! آپ کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی ہے کہ کل صبح دس بجے  وہ آپ کو لینے  آئیں گے ۔ نرس نے پچاسی سالہ مریضہ شالینا سے کہا۔
تم نے اس علاج کے دوران میری اپنی بیٹی کی طرح خیال رکھا۔ میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔ پانچ بیٹے ہیں سب کی شادی  ہوچکی ہے۔ میرے شوہر جنگ میں مارے گئے ۔ میں نے بیٹوںکو پڑھایا لکھایا اور سب کی شادی کروائی۔ ان کے بچے  مجھے گھیرے رہتے ہیں۔ سب مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میرے اپنے میرے بغیر  زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ کل وہ آئیں گے اور مجھے لے جائیں گے۔۔۔۔۔بوڑھی عورت نے نرس سے کہا نرس  نے لائٹ آف کی اور شالینا نیند کی دیوی کی تلاش  میں بھٹکنے لگی۔
 صبح ہوگئی نرس نے کھڑکی کھولی اور تازہ پھولوں کا گلدستہ  شالینا کو پیش کیا۔ جواب میں اس نے نرس کا ماتھا چوما اور اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں ۔۔۔۔اس کے بیٹے اسے لینے آئے۔ نرس اسے باہر تک لے گئی اچانک اسپتال کے باہر سیڑھیاں اترتے وقت اس کا  پیر پھسل گیا اور وہ گر پڑی  اس کے سر میں چوٹ آئی ۔۔۔۔۔۔۔اچانک وہ  بیدار ہوگئی۔ اُس نے نرس کو اپنے سرہانے کھڑا پایا۔
 ‏وہ اداس سی تھی شالینا نے اس سے پوچھا تم کیوں اداس ہو؟ تم گھبراو مت میں تم سے ملنے آیا کروں گی
 ‏نرس کی آنکھوں میں آنسو نمودار ہوئے۔ اس نے شالینا سے کہا ۔۔۔اب تو آپ ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ ہی رہیں گی ۔نرس اس سے یہ نہ کہہ سکی کہ اس کے بیٹوں  نے کہا ہے کہ ان کی ماں کو کسی سرکاری اولڈ ایج ہوم میں بھیجا جائے ۔۔۔شالینا پھٹی پھٹی نظروں سے نرس کو تک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
 

فیصلہ 

ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ کی بات مانی جائے ۔اپ کو معلوم ہے کہ ہم ایک اہم اور زمہ دار آفیسر ہیں ۔بہرحال آپ کا لاڑلا بیتا ائر پورٹ سے سیدھا گھر اجائے گا۔  آپ چالیس دن اس کا انتظار نہیں کرسکتی ہیں اس لئے میں ائر پورٹ کے سیکورٹی ذمہ داروں کو فون کروں گا کہ وہ ارشد کو کوارنٹین میں بھیجنے کی بجائے سیدھا گھر  بھیجیں۔ اب خوش۔۔۔۔۔۔۔سلامت علی نے اپنی بیوی سے کہا ۔اس کی بیوی نے خوش ہو کر اس کے سینے پر سر رکھا اور دونوں سونے کی تیاری کرنے لگے ۔
ان کا بیٹا بنگلہ دیش سے سیدھا گھر آیا۔ اس نے سبھوں کے ساتھ ہاتھ  ملایا۔  سبھوں نے اسے گلے لگا یا۔رشتہ دار دوست بھی  ملنے آئے۔ چند روز جشن کا ماحول  رہا  اور پھر اُس وقت اُداسی چھاگئی  جب گھر کے دو بزرگوں  ارشد کے دادا اور میں کورونا  وائرس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور وہ اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوئے ۔۔دیکھتے ہی دیکھتے ارشد اور اسکی ماں میں بھی علائم ظاہر ہوئے ۔اُن کو بھی اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ پتہ چلا کہ ارشد کے کچھ دوستوں میں  بھی علائم ظاہر ہوئے ہیں۔ سلامت علی اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ اس نے کیوں ایسی غلطی کی ۔۔اچانک اسے بھی کھانسی کا دورہ پڑا ۔۔اسے لگا کہ اس کے گلے میں  کانٹے پھنسے ہوئے ہیں اور اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے۔ اس نے زور سے کھانسنا چاہا کہ اچانک وہ بیدار ہوا۔وہ پسینے میں شرابور تھا اور ہانپ رہا تھا 
اس کی بیوی نے پوچھا خیریت تو ہے۔ سلامت علی نے جواب دیا، بیگم مجھے اپنا فیصلہ بدلنا ہو گا ۔
ہمارا بیٹا گھر نہیں آئے گا بلکہ کوارنٹین میں جائے گا ۔۔۔
 
 

سوال 

اس کی چھوٹی بیٹی نے اس سے سوال پوچھا تو اس کا دل جیسے پارہ پارہ ہوگیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ۔اسے شدت سے اپنے شوہر کی یاد آئی  ۔اس کا شوہر  فسادات میں مارا گیا تھا تب سے وہ  اپنی چار بیٹیوں کو پالنے اور پڑھانے کےلئے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھتی ، کپڑے دھوتی ، صفائی ستھرائی کرتی اور پیسہ کماکر اپنی بیٹیوں کی پرورش کرتی۔۔اب پچھلے چند دنوں سے وہ گھر میں ہی قید تھی ۔۔اس کی بیٹیاں بھی گھر کے اندر ہی بیٹھی تھیں ۔ٹی وی پر چاروں بہنیں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر پروگرام دیکھ چکی تھیں۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی نے پروگرام دیکھ کر ماں سے کہا ’’مما میں ناک منہ آنکھوں کو نہیں چُھوئونگی اور باہر بھی نہیں جاؤں گی مگر ایک سوال ہے۔۔۔۔ہمارے گھر میں صرف اتنا پانی ہے کہ مشکل سے کھانا اور سالن بن سکتا ہے اور صبح کے وقت ہاتھ منہ دھو سکتے ہیں تو پھر ہم باربار اپنے  ہاتھ کیسے دھوسکتےہیں ‘‘
بولو ماں ۔۔۔۔ماں کی پلکوں پر آنسو لرزنے لگے اس نے بیٹی کو  سینے سے لگا یا۔۔۔۔۔
 
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
موبائل نمبر; 9419004094

 

تازہ ترین