تازہ ترین

مزید خبرں

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پونچھ میں حدم متارکہ پر گولہ باری 

۔6اہلکارزخمی، رہائشی علاقوں میں افراتفری

سرینگر// پونچھ سیکٹر میں حد متارکہ پربھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے ،جس کے نتیجے میں 6اہلکار زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کوپونچھ کے سندربنی اور بالاکوٹ سیکٹروں میں پاکستانی فوج نے بھارت کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔دفاعی ذرائع کے مطابق بھارتی افواج نے پاکستان کی گولہ باری کا معقول جواب دیا۔معلوم ہوا ہے کہ اس دوران کچھ مارٹر گولے رہائشی علاقوں میں بھی جاگرے جس کی وجہ سے وہاں افراتفری کاماحول پیدا ہوا۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بلا کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایااورجدیدہتھیاروں سے گولہ باری کی۔سی این ایس نے دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ گولہ باری کے نتیجے میں چھ اہلکارزخمی ہوگئے جنہیں علاج معالجہ کیلئے اسپتال لیجایا گیا۔
 

پٹن میں مٹی کے تودے کی زد میں آکر نوجوان ہلاک 

سرینگر //فیاض بخاری //یکھمن پورہ سنگھ پورہ پٹن میں زمین کھسک جانے کی وجہ سے مٹی کی زد میں آکر ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے ۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی شام عامر حسین کھانڈے ولد غلام رسول کھانڈے ساکن یکھمن پورہ پٹن گھر سے باہر نکلا تو قریب میں واقع ایک ٹیلے سے اچانک مٹی کی بھاری مقدار گرآئی جس کی زد میں آکر وہ شدید زخمی ہوگیا ۔ اگرچہ مقامی لوگوں کی مدد سے عامر حسین کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہاں اُس کی موت واقع ہو گئی۔ نوجوان کی ہلاکت سے علاقے میں زبردست کہرام مچ گیا ۔
 

درگجن ہسپتال میں داخل سبھی کورونامریض شفایاب ہو رہے ہیں

 ہسپتا ل میں سازو سامان کی وافر مقدار دستیاب ۔ ڈاکٹر نوید نذیر 

سری نگر//وادی کے مشہور معالج ڈاکٹر نوید نذیر شاہ نے کہا کہ درگجن ہسپتال میں داخل کووڈ ۔19کے سبھی مریض روبہ صھت ہو رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموںوکشمیر میں کووڈ۔19کے مریضوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ سی ڈی ہسپتال میں کووڈ ۔ 19کے کل 19مریض داخل ہے جو آہستہ آہستہ صحتیاب ہو رہے ہیں ۔ ڈاکٹر موصوف نے کہاکہ ہسپتال کا طبی اور نیم طبی عملہ مریضوں کے لئے دن رات کام کر رہا ہے۔کورنٹین سہولیات کے تعلق سے اُنہوں نے کہا کہ یہ سہولیات سی ڈی ہسپتال میں بھی قائم کی گئی ہے تاہم لوگوں کو ہرطرح کی احتیاط برتنی چاہیئے۔اُنہوں نے کہا کہ بیشتر مریضوں کو مکمل طور صحت یاب ہونے کے بعدہسپتال سے رخصت کیا جائے گا۔ڈاکٹر نوید نذیر نے غیر معمولی کام کرنے پر مائیکروبیالوجی شعبے کے ڈاکٹر وں اور دیگر اہلکاروں کی سراہنا کی۔اُنہوں نے باہر سے آئے اُن سبھی افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی سفری تفصیلات ظاہر کریں تاکہ اُن کو ضروری طبی سہولیت فراہم کی جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی کڑی کو اسی طرح توڑا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر موصوف نے کہاکہ کورونا وائرس کے پھیلائو پر قابو پانے میں عام لوگوں کا ایک اہم رول بنتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ہسپتال میں لازمی سازو سامان وافر مقدار میں دستیاب ہے ۔ ڈاکٹر نوید نے تعاون فراہم کرنے کے لئے غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر نوین نذیر نے سی ڈی ہسپتال میں سینٹیشن ٹنل نصب کرنے پر ایس ایم سی کا شکریہ ادا کیا۔ 
 

راجستھان میں قرنطین کی مدت پوری کرچکے طلاب کو گھر لایا جائے

نجی اسکولوں کی انجمن کا مطالبہ

سرینگر //نجی اسکولوں کی انجمن نے راجستھان کے قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے کشمیری طلاب کو واپس کشمیر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں قرنطین کے28دن مکمل ہوچکے ہیں۔ایک بیان میں انجمن نے کہاکہ ایران سے لوٹے150 کشمیری طلاب کو جھسلمیرکے قرنطین مرکز میں 28روزمکمل ہوچکے ہیں لہذااُنہیں کشمیر لانے کیلئے انتظامات کئے جائیں ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان طلاب کے ٹیسٹ بھی منفی آچکے ہیں،لیکن انہیں گھر لانے کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اُٹھایاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 170کشمیری طلاب سمیت60زایئرین جوایران سے کشمیرآرہے تھے،کوحکام نے راجستھان میں روک کرفوجی ویلنیس سینٹر میں رکھا ہے ۔انجمن کے صدر جی این وار نے کہا کہ طلاب شکایت کررہے ہیں کہ اگر قرنطین میں رکھنے کی مدت14روزہے ،لیکن اُن کے ٹیسٹ منفی آنے کے باوجودانہیں وہاں ہی رکھاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکومت نے نیک نیتی کے ساتھ انہیں ایران سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور ایران میں بھی ان کے ٹیسٹ کرائے گے، جو منفی آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہاں صرف 5ٹیسٹ مثبت آئے ، جنہیں الگ تھلگ رکھا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے صحت مند طلاب بھی مثبت آنے والے مریضوں کے پاس پھنس کر رہ گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ان طلاب کو کشمیر نہیں لایا جا سکتا ہے تو پھر انہیں ایران سے کیوں لایا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کی سرکار ان طلبہ کو یہاں لانے کیلئے کوئی بھی وقت مقرر نہیں کر رہی ہے لہذا ،طلاب وہاں کافی بے چین ہے ۔انہوں نے ریاست کے ایل جی سے اپیل کی کہ کشمیری طلاب کو گھر پہنچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔
 
 

زرہامہ سے جمعہ گنڈ تک جنگلات کامحاصرہ

تیسرے روز بھی جنگجوئوں کی تلاش کاآپریشن جاری

اشرف چراغ 
کپوارہ// سرحدی ضلع کپوارہ میں حد متارکہ پر جنگجوئو ں کی موجود گی کے پیش نظر فوج نے تلاشی کاروائی میں وسعت لاتے ہوئے زرہامہ سے لیکر جمہ گنڈ تک جنگلات کو محاصرے میں لیا جبکہ فوجی آپریشن تیسرے روز میں داخل ہوا ۔بدھ کو شمالی ضلع کپوارہ کے حد متارکہ کے نزدیک جمعہ گنڈ علاقہ میں تین بہک فوجی پوسٹ کے اہلکارو ں نے جنگجو ئوںکے ایک گروپ کو مشتبہ حالت میں دیکھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ سے لیس جنگجو ئوںکا یہ مشتبہ گروپ سرحد عبور کرنے کی کوشش میں تھا تاہم فوج نے پہلے ہی جمعہ گنڈ علاقہ کوگھیرے میںلیکر جنگجوئو ں کے فرار ہونے کے تمام راستو ں پر ناکے لگائے ۔فوج نے جمعرات کو دوسرے روز بھی جنگجو ئوںکی تلاش بڑے پیمانے پر جاری رکھی، تاہم رات دیر تک فوجی آپریشن جاری تھا ۔ذرائع نے بتا یا کہ فوج کو خدشہ ہے کہ جنگجو ئوںنے سر حد عبور کر کے جمعہ گنڈ کے گھنے جنگلات میں پناہ لے رکھی ہے ۔فوج نے جمعہ کے روز مزید کمک طلب کی جبکہ زرہامہ ،آورہ ،لدرناگ اور مڑہامہ سے لیکر جمعہ گنڈ تک جنگلات کو اپنے محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی میں وسعت لائی جو جمعہ کی شام تک جاری تھی ۔فوج نے جنگجوئو ں کو کھوجنے کے لئے ہیلی کاپٹرو ں کا بھی استعمال کیا لیکن 3روز گزر جانے کے باجود بھی فوج کو کچھ ہاتھ نہیں آ یا ۔
 

ضلع مجسٹریٹ میرے خلاف عہدے کا ناجائز استعمال کررہے ہیں

خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل، کرگل کے کونسلر کا الزام

مانیٹرنگ ڈیسک
 
سرینگر//لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل، کرگل کے ایگزیکٹیو کونسلر محمد علی چندان نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیفٹیننٹ گورنر آر کے ماتھر سے رابطہ کرکے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی انتظامیہ اُن کیخلاف مجسٹریل طاقت کا ناجائز استعمال کررہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ کرگل کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے28مارچ کو لیفٹیننٹ گورنر لداخ کے نام ایک خط لکھ کر اُنہیں چندان کے بارے میں مطلع کیا تھا کہ اُنہوں نے نہ صرف دفعہ144کے تحت نافذ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ بغیر اجازت کئی چیک پوائنٹس کراس کرکے فوجی علاقے کے اندر جانے کی بھی کوشش کی۔ ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے مذکورہ خط کے دو روز بعد چندان نے ماتھر کے نام روانہ مکتوب میں ضلع مجسٹریٹ پر الزام عاید کیا کہ وہ اُن کیخلاف اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ صحت کا کونسلر ہونے کی حیثیت سے اُنہیں عوام کی طرف سے موجودہ طبی ایمرجنسی کے دوران ضلع کے اطراف و اکناف سے فون آتے ہیں اور اُنہیں کئی علاقوں کے دورے کرنے پڑتے ہیں اور اس سلسلے میں لداخ کونسل کے چیئر مین اور ایس ایس پی بھی مطلع ہیں۔انہوں نے ضلع انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اُنہیں بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔انہوں نے ایل جی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی نسبت ضروری کارروائی کریں۔
 

ظہور بٹ کو رہا کیا جائے 

علیل والدہ کا سرکار سے مطالبہ 

اشرف چراغ 
کپوارہ//ممنوعہ لبریشن فرنٹ کے بانی محمدمقبول بٹ کے بھائی ظہوراحمدبٹ کوانسانی بنیادوں پر رہا کرنے کااُن کی والدہ نے مطالبہ کیا ۔ظہوراحمدبٹ کی معمروالدہ جواکثروبیشترعلیل ہوتی ہیں،نے کشمیرعظمیٰ کوبتایا کہ ظہوراحمدبٹ جیل میں بیمار ہے اور اس وقت کروناوائرس جیسی مہلک بیماری کو پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لیا ہے ،جس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کی سلامتی کے بارے میں سخت فکرمند ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ اُن کے بیٹے ظہوراحمدبٹ کوانسانی بنیادوں پر فوری طوررہا کیاجائے،تاکہ ان کا علاج ومعالجہ کیا جائے۔
 
 

صوبائی سیکریٹری نیشنل کانفرنس سے اظہارِ تعزیت

سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے خواجہ محمد اسد اللہ بیگ ساکنہ کرالہ ویٹھ ٹنگمرگ کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیاہے۔انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ پارٹی لیڈران نے اس سانحہ ارتحال پر مرحوم کے ہم زلف وپارٹی کے صوبائی سیکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر کے ساتھ بھی تعزیت کا اظہار کیا ۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال، میاں الطاف احمد، محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی سمیت کئی لیڈران نے اس سانحہ ارتحال پر گہرے صدمے کا اظہار کیاہے اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔ 
 

کنزر میں 1کلو گرام فکی ضبط ،کیس درج 

سرینگر /فیاض بخاری /کنزر ٹنگمرگ میں پولیس نے ایک شہری سے 1کلو گرام فکی ضبط کر کے اس کو سلاخوں کے پیچھے دھیل دیا ہے ۔پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کنزر پولیس نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ناکہ لگایا اور ایک شہری کی تلاشی لی جس کے بیک سے 1کلو سو گرام فکی برآمد ہوئی ،پولیس نے شہری کے خلاف آیف آئی آر زیر نمبر 36/2020درج کر کے اسے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ پولیس نے شہری کی شناخت شوکت احمد ڈار ولد محمد عبداللہ ڈار ساکن گونی ون کنزر کے طور کی ہے۔ 
 

گھروں تک راشن پہنچانے کا فیصلہ 

انجینئر یتو کی ڈپٹی کمشنر بڈگام کی سراہنا 

 سرینگر //پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر انجینئر نذیر احمد یتو نے ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام کے کام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک جرت مندانہ فیصلہ لیتے ہوئے ریڈ زون قرار دئے گے علاقوں میں گھر گھر راشن پہنچانے کیلئے اقدامات کئے ہیں ۔ اپنے ایک پریس بیان میں نذیر احمد یتو نے کہا ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام طارق احمد گنائی نے انہیں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ لوگوں کو اُن کی دہلیز پر راشن ملے گااور اس منصوبے کو ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھلائو کو روکنے کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ ہولڈر کو راشن گھاٹوں پر آنے کی ضرورت نہیں ہے ،بلکہ انہیں گھر گھر راشن پہنچایا جائے گا ۔یتو نے کہا کہ انہیں ڈی سی نے میٹنگ کے دوران یقین دلایا ہے کہ اس تعلق سے تمام افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ راشن کی سپلائی کا سلسلہ بند نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر گھر تک راشن پہنچنا چاہئے ۔میٹنگ کے دوران یتو کو کھانے کی اشیاء کے 30بیگوں کے علاوہ سینیٹری کٹس فراہم کئے گے تھے جو ان لوگوں میں ابتدائی طور پر تقسیم کئے جانے تھے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یتو نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری این جی اوز پر زور دیا ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ریلیف سرگرمیوں میں شامل ہوں کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ کہاں اور کسی جگہ اشیاء تقسیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ڈی نے یتو کو آگاہ کیا کہ پی پی ایل زمروں کے تحت آنے والے لوگوں کو 500روپے کی نقدی امداد بھی دی جائے گی ۔انہوں نے وادی کے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں پر زور دیا ہے کہ وہ گھر گھر راشن پہنچانے کیلئے اقدام کریں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
 
 

کرناہ میں150کنبوں میں کھانے کے کٹ تقسیم 

 
نمائندہ عظمیٰ 
 
سرینگر //ایک غیر سرکاری تنظیم ویلفیئر فورم کرناہ نے علاقے کے 150کنبوں میں پہلے مرحلے کے تحت کھانے پینے کے کٹ تقسیم کئے ہیں ۔کورونا وائرس کے پھلائو کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے کرناہ میںلاک ڈائون رکھا ہے۔اس بیچ پسماندہ طبقہ کو مشکلات پیش نہ آئیں اس کیلئے ایک غیر سرکاری تنظیم کرناہ ویلفیئر فورم نے علاقے کے غریب لوگوں میں کھانے کے کٹ تقسیم کرنا شروع کر دئے ہیں ۔تنظیم کے ایک ممبر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ انہوں نے پہلے مرحلے کے تحت 150افراد میں ایسے کٹ تقسیم کئے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کی نشاندہی گائوں سطح پر پنچایتی اراکین نے کی ہے۔
 

سرینگر میں اشیائے ضروریہ کی ہوم ڈیلیوری

۔ 23 دکانداروں کی فہرست جاری 

سرینگر//کوروناوائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے ملک بھر میں جاری لاک ڈاون کو دیکھتے ہوئے سرینگر انتظامیہ نے ضروری اشیاء کی ہوم ڈیلوری یقینی بنانے کے لئے 23دکانداروں کی فہرست جاری کی ۔ضلع مجسٹریٹ سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کے مطابق یہ فہرست ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ 2005کے تحت جاری کی گئی ہے ۔حکمنامہ کی رو سے نامزد کی گئی یہ دکانیں تین کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے لوگوں کو ضروری اشیاء کی ہوم ڈیلوری کریں گے۔ضلع انتظامیہ نے ان دکانداروں کی کارکردگی اور ہوم ڈیلوری کے نظام پر نگاہ رکھنے کے لئے اوبزروں کی نامزدگی بھی عمل میں لائی ہے۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ہوم ڈیلوری کے سلسلے میں جاری احکامات کی عدولی کی صورت میں قصور وار دکاندار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 

پولیس کی جانب سے ضرورتمندوں میں ضروری اشیاء تقسیم

سرینگر// پولیس نے ضرورتمند لوگوں تک غذائی اجناس کو پہنچانے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سرینگر اور کپوارہ میں اشیائے ضروریہ فراہم کیں۔ کرسو راجباغ ،بانڈی پورہ میں ضرورتمند افراد خصوصاََ غیر مقامی باشندوں میں کھانے پینے کی چیزیں اور ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں۔اسی طرح سے سوپور میں غیر مقامی مزدوروں میں اشیائے خوردونوش کو تقسیم کیا گیا۔
 

 سی آر پی ایف کی جانب سے مفت راشن فراہم

 
فیاض بخاری
 
 بارہمولہ//وہی پورہ ٹنگمرگ کے ایک شہری کوسی آر پی ایف نے ہیلپ لائن نمبر پر فون کرنے کے بعد مفت راشن فراہم کیا ۔ نصراللہ نامی شہری کو 176 بٹالین سی آر پی ایف کے ہیلپ لائن نمبر 14411 پر رابطہ کرنے کے بعد راشن اور دیگر ضروری سامان مل گیا۔  یہ بات قابل ذکر ہے کہ موسم سرما میں شدید برف باری سے اس کے گھر کو نقصان پہنچا تھا اوراس کا کنبہ ایک مقامی سرکاری عمارت میں منتقل کردیا گیا تھا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی سی آر پی ایف نے کہا کہ سی آر پی ایف عوام کی مدد کیلئے 24 گھنٹے دستیاب ہے ۔ 
 

کشمیری شاعر محی الدین سوپوری فوت

ادبی مرکز کمراز سمیت کئی ادبی تنظیموں کا اظہار رنج

بانڈی پورہ/ / لٹریری فورم بانڈی پورہ کے دیرینہ رُکن اور کشمیری زبان کے شاعر محی الدین سوپوری 2اپریل 2020کو مختصر علالت کے بعد ارن بانڈی پورہ میںانتقال کر گئے۔ اُن کو ارن بانڈی پورہ میں اپنے آبائی مقبرے میں سپرد لحد کیا گیا۔ اُن کے انتقال پر مختلف ادبی انجموں نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگواران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ لٹریری فورم نے اپنے ایک بیان میں محی الدین سوپوری کے انتقال کر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے انتقال سے فورم میں ایک خلا پیدا ہوا ہے جس کو پورا کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ ادھر ادبی مرکز کمراز اور ولر کلچرل فورم نادی ہل ،دائرہ ادب دلنہ، جوئے ادب کاجی ناگ، ینگ ویلفیئر اینڈ کلچرل فورم کھی پورہ ٹنگمرگ، مجلس النساء سوپور، محبوب العالم ادبی سوسائٹی راجوارنے سوپوری کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔