تازہ ترین

کورونا وائرس اور سرینگر میں پانی کی قلت

ریاست انتظامیہ سے چند سوالات

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدالقیوم شاہ
وزیراعظم نریندر مودی آ?ج کل اور باتوں کے علاوہ دن میں بار بار بیس سے تیس سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے ہیں۔ پوری دْنیا اور ملک کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ بچنے کی بنیادی صورت پانی سے ہاتھ صاف کرنا ہے لیکن اگر کسی خطے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہو، وہاں ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلانا اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔ 
غرض یہ کہ سرینگر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کورونا وائرس کے خطرے کو دوگنا کر دیتی ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل نظر کی توجہ اس اہم مسلے کی طرف اس لئے مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر پانی کورونا وائرس کے خلاف بنیادی ہتھیار ہے تو اندازہ کریں جب لوگوں کو پانی ذخیرہ کرنا پڑے اور لاک ڈاون کے دوران کئی روز تک محکمہ پی ایچ ای کے ٹینکر کا انتظار کرنا پڑے تو لوگ کھانا پکانے اور دوسرے ضروری کاموں کو ترجیح دینگےیا بار بار ہاتھ صاف نہیں کریں گے؟ 
لہٰذا وزیراعظم نریندر مودی، لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمُو، ڈویڑنل کمشنر پانڈورنگ کونڈباراو پولے اور دوسرے ارباب اختیار کی نوٹس میں حسب ذیل باتیں لانا ازبس ضروری ہے: 
جموں کشمیر پورے ہمالیائی سلسلے میں واحد خطہ ہے جہاں پینے کے پانی کے وافر وسائل ہیں۔اس کا اعتراف کئی مرتبہ خود مرکزی حکومت کی وزارت برائے آبی وسائل کرچکی ہے۔
جموں کشمیر کے شہری علاقوں (جموں اور سرینگر اضلاع) میں پانی کی روزانہ کھپت  75 میگا گیلن ہے جبکہ تقسیم کاری کا تنصیبی نظام فقط 34 میگا گیلن کا اہل ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ وافر وسائل کے باوجود محض ناقص نظام سے ہمیں 41 میگاگیلن کی قلت کا سامنا ہے۔ تیکنیکی طور پر یہ قلت نظام کی نااہلی کے باعث ہے۔
محکمہ پی ایچ ای کے ایک دیانت دار افسر ستیش رازدان نے ایک اخباری انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ 34 میگا گیلن پانی تقسیم کرنے کی اہلیت محکمے کے پاس تو ہے، مگر اْس میں سے بھی 40 فی صد پانی ناقص اور نہایت پُراانی پائپس کی وجہ سے جگہ جگہ خارج ہوجاتا ہے۔ مطلب پھر رہتا کیا ہے؟ 
جموں میں یہ مسئلہ شہری علاقوں کی 150 کلومیٹر مسافت پر پھیلیں سبھی خستہ پائپس کو دو سال قبل تبدیل کرکے حل کیا جاچکا ہے۔ حالانکہ محکمہ نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے 350 کروڑ روپے کے خطیر قرضے کی تجویز سرینگر اور جموں دونوں شہروں کا مسلہ حل کرنے کے لئے رکھی ہے، لیکن وہ جوئے شیر لانے والی بات ہے۔
جب اعلی حکام نے اس ستم ظریفی کو سمجھا کہ وافر مقدار میں پانی کے وسائل کی موجودگی، اربوں روپے کی لاگت سے تیار کی گئیں سکیمز اور ماہر سٹاف کی فوج کے باوجود لوگ عش عش کررہے ہیں، تو افسروں سے وجہ پوچھی گئی۔ اس ضمن میں اکنامک رکنسٹرکشن ایجنسی نے تخمینہ لگایا اور کہا کہ دہائیوں کی غلطیوں کو سْدھارنے کے لئے 1500کروڑ روپے کا سرمایہ درکار ہے۔ محکمہ نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے اب 972 روپے کے قرضے کی تجویز پیش کی ہے۔ 
محکمہ اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول اس ساری مصیبت میں برابر کا شریک ہے۔ کشمیر میں پی ایچ ای کی ترسیلی پائیپس سے جو پانی خارج ہوتا ہے وہ میدانی علاقوں کی زمینوں کا وسیع رقبہ بنجر بنا رہا ہے۔ یہ عمل دہائیوں سے جاری ہے جسکے نتیجہ میں بے کار، بنجر اور عفونت زدہ قطعے وجود میں اتے ہیں جنہیں ہم نمبل کہتے ہیں۔ ان ہی نمبلوں سے مٹیالا پانی دریاوں میں جاتا ہے اور اْن میں پانی کے حمل کی صلاحیت بتدریج گھٹ رہی ہے۔ نتیجہ نہ صرف سیلاب، بلکہ جگہ جگہ اِریگیشن لائنز میں شگاف اور پانی کی ترسیل میں رْکاوٹ کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ 
          اس وقت جب پوری دْنیا کے لئے وبائی قہر سے بچنے کی صورت صرف طہارت اور پاکیزگی ہے، سرینگر کے باشندوں کی حالت پرانی کہاوت یعنی گنجی دھوئے کیا اور نچوڑے کیا کے مصداق ہوچکی ہے۔ میں لیفٹنٹ گورنر جناب جی سی مْرمْو، چیف سیکریٹری جناب بی وی ار سبرمنیم اور ڈویڑنل جناب پانڈورنگ کونڈباراو پولے صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خرابی کی جڑ کو پکڑ لیں۔ بستیوں میں پانی کے ٹینکر دوڑانا کوئی کمال نہیں ہے، افسروں سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ پانی کے وسائل سے مالامال کشمیر میں پینے کی پانی کی قلت کا کیا جواز ہے۔ 
 
(رابطہ:  9469679449)
abdulqayoomshah57@gmail.com