تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

3 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال: کورونا وائرس نے زندگی کے پورے نظام کو مفلوج بنا دیا ہے۔ تمام سرگرمیاں معطل، دنیوی چلت پھرت کے ساتھ احکام دین پر عمل کرنے میں بھی شدید اختلال پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ جمعہ کی نماز کیسے ادا کی جائے اس میں بھی بہت انتشار اور خلفشار ہے۔ اس لئے گذارش ہے کہ جمعہ کے متعلق واضح طور پر بیان فرمایا جائے کہ جبکہ مسجدوں میں اجتماع کو انتظامی اور طبی دونوں اعتبار سے روک دیا گیا ہے۔ تو تمام مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے؟
حافظ عبد الرشید خان کشتواڑ

طبی اور قانونی مجبوری کے بہ سبب نمازِ جمعہ ادا نہ کرنے والے تارک جمعہ نہیں

جواب:جمعہ دین اسلام کا اہم ترین شعار ہے۔ اس کی ادائیگی کا حکم قرآن کریم میںموجود ہے اور حدیثوںمیں ترک جمعہ پر سخت وعیدیں ہیں۔ کرونا وائرس کی بیماری کے نتیجے میں جمعہ کے متعلق یہ احکام ہیں:
۱۔جن دیہاتوں چھوٹے گاؤں میں شرائط جمعہ نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز ادا نہ ہوتی ہو وہ حسب معمول بقیہ ایام کی طرح جمعہ کے دن بھی نماز ظہر مختصر جماعت کے ساتھ مساجد میں ادا کریں۔ ایسے علاقوں کے بقیہ لوگ اپنے گھروںمیں ظہر کی نماز ادا کریں۔ شہروں، قصبات اور بڑے گاؤں جہاں شرائط جمعہ مطابق جمعہ درست ہے ان تمام مقامات میں جمعہ کے دن اذان پڑھی جائے چند منٹ کا خطبہ پڑھا جائے دو رکعت فرض ادا کرائی جائے اور نماز کے بعد مختصر ضروری دعائیں کی جائیں اور پھر سنتیں اپنے گھروںمیں ادا کی جائیں۔ بقیہ لوگ اپنے محلوں میں مسجدوں میں مختصر جماعت کے ساتھ جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد باقی لوگ اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کریں گے۔ چونکہ ترک جمعہ پر احادیث میں سخت وعید ہے۔ اس لئے ہر خدا ترس اور خوف آخرت رکھنے والا صاحب ایمان یہ چاہے گا کہ میں کسی نہ کسی طرح جمعہ کی نماز ادا کروں۔ اور ظاہر ہے کہ اگر سب کو اس طرح اجازت دی جائے تو مساجد میں وہی جم غفیر ہوگا جو عموماً جمعہ پر ہوتا ہے اور اسی جم غفیر کی بنا پر لوگوں کے اختلاط کی وجہ سے بیماری کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اس لئے اس جم غفیر کو روکنے کے لئے وقتی طور پر چھوٹے چھوٹے اجتماعات کے ساتھ متعدد مساجد میں جمعہ ادا کیا جائے اور اگر انمیں بھی جم غفیر کا  خدشہ ہونے لگے تو پھر ایسے وقت میں وہ لوگ جو طبی اور قانونی مجبوری کی وجہ سے مسجد نہ جا سکیں اور جمعہ نہ پڑح سکیں معذور قرار پائیں گے۔ یاد رہے عذر یا تو داخلی ہوتا ہے یا خارجی، داخلی عذر یہ ہے کہ آدمی بیمار ہو اور جمعہ کے لئے نہ جاسکے۔ خارجی عذر یہ ہے کہ باہر نکلنے پر خوف و خطر ہو چاہے کسی بھی قسم یا خوف ہو۔ زیر نظر صورتحال میں بیمار ہونے کا خطرہ بھی ہے اور نافذ کردہ پابندی کی خلاف ورزی کابھی خطرہ ہے ان دو خطرات کی بنا جو لوگ گھروںمیں جمعہ کی نماز پڑھنے پر مجبور ہو جائیں گے وہ معذور قرار پائیں گے ان کا حکم ایسا ہی ہوگا جیسے جیل میں بند افراد کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے گھر میں ظہر کی نماز ادا کریں۔ انشاء اللہ وہ تارکین جمعہ میں شامل نہیں ہونگے۔
 
 
سوال:محترم مفتی صاحب : میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ ایک معالج ہوں۔میرا نام زرق ہے میں سرینگر کا باشندہ ہوں اور آج کل کرونا وائرس سے متاثر افراد کے علاج و معالجہ کے سلسلہ میں سپرد کی ہوئی ڈیوٹی انجام دیتا ہوں۔ ہم جب متاثرہ افراد کے علاج اور نگہداشت کے لئے قرنطینہ (Isolation)میں پہنچتے ہیں تو ہمیں ایک مخصوص قسم کا حفاظتی لباس پہننا لازم ہے۔ اس لباس کو نجی تحفظاتی آلات (Personal Protective Equipment) کہتے ہیں اس لباس کا مقصد دوسرے کے وائرس سے طبی عملے یعنی خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہ لباس بہت کم یاب ،بہت مہنگا اور ایک مرتبہ استعمال کے بعد عموماً دوسری مرتبہ استعمال کے لائق نہیں رہتا ۔ ہم جب صبح یہ لباس پہن کر متاثرہ افراد کے وارڈ ( Isolation) میں پہنچتے ہیں تو یہ ڈیوٹی عموماً چھ گھنٹے سے آٹھ گھنٹے اور بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس دوران ہمارا پورا جسم ڈھکا ہوا ہوتا ہے ہاتھوں میں مخصوص دستانے ۔ آنکھوںمیں خاص قسم کا چشمہ، منہ پر ماسک اور جسم پر وائرس پروف اپرن(PPE) ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم نمازیں کیسے پڑھیں۔ ہم اس صورتحال میں وضو بھی نہیں کر سکتے ہیں تیمم بھی نہیں کر سکتے۔ اس لباس کو کھول کر وضو کرنا پھر نماز پڑھنا اور پھر دوبارہ اس لباس کو پہننا کئی مشکلات کاسبب ہے۔ ایک ڈاکٹر کو ایک دن میں ایک مرتبہ یہ لباس ملتا ہے۔ دوسرا مہیا ہونا عموما مشکل ہے۔ دستانے (Gloves)کا بھی یہی حال ہے۔اتنے لمبے وقت تک وضو بچانا بھی عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ اب ہمارے لئے نمازوں کا کیا حکم ہے۔ وضو کریں تو کیسے؟ تیمم کریں تو کیوں کر ؟ جب کہ یہ دونوں کر ہی نہیں سکتے ۔ ڈریس کھول کر وضو کریں تو دوبارہ حاصل ہونا مشکل ۔ اسی حال میں نماز پڑھیں تو بے وضو ہو کر کیسے پڑھیں اور نماز چھوڑ دیںتو اس کا بھی ڈر ہے کہ کہیں آخرت میں نماز چھوڑنے والوں میں شامل نہ ہوجائیں۔ اب ہمیں حل بتائیں ۔یہ سوال میری طرح بیشمار ان ڈاکروں کا ہیں جو ایک طرف سے طب اور علاج کے میدان میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سے اپنے دین پر قائم نمازوں کی پابندی کا اہتمام اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گذارنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ آپ کے جواب کا انتظار بھی ہے اور اس پر ہم سب شکر گذار ہیں۔
ڈاکٹر زرق لعل بازار سرینگر
نمازِکی ادائیگی

قرنطینہ مراکز میں طبی عملہ کی پریشانیاں اور انکا ممکنہ حل

جواب: وہ شخص جو کسی بھی طرح وضو کرنے پر بھی قادر نہ ہو اور تیمم کرنے پر بھی قادر نہ ہو اس شخص کو فقہ و فتاویٰ اور شروحات حدیث کی کتابوںمیں  فاقد الطھور ین کہتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص ایسی صورتحال میں ہو کہ وہ نہ وضو کر سکے نہ تیمم۔ جیسے کوئی شخص جہاز میں ہو۔ اور وہاں وضو کرنے کی بھی اجازت نہ ہو اور تیمم کرنے کے لئے بھی کوئی چیز نہ ہویا کوئی شخص ایسی حالت میں کہ اس کے دنوں ہاتھ کٹے ہوئے ہوں اور کوئی دوسرا شخص اس کا وضو یا تیمم کرانے والا نہ ہو تو یہ شخص فاقد الطھورین  کہلاتا ہے اس سے ملتی جلتی صورتحال وہ ہے جو موجودہ وبائی بیماری کا علاج کرنے والے میڈیکل یا پیرا میڈیکل سٹاف کی طرف سے سامنے آئی ہے کہ وہ نماز کے وقت میں بے وضو ہوں تو نہ وضو کر سکتے ہیں نہ تیمم کر سکتے ہیں ان کے لئے کیا حل ہے؟ اس کیلئے درج ذیل تین حل ہیں:
پہلی بات ایسے افراد کوشش کریں کہ اس پورے وقت میں اپنے آپ کو باوضو رکھیں اگر اس کی سعی جائے اور اس شوق اور جذبہ کی بنا پر کھانے پینے میں بھی وہ احتیاط برتی جائے۔ جس سے وضو بچانے میں مدد مل سکے تو سب سے بہتر حل یہی ہے۔ چنانچہ جو شخص اس میںکامیاب ہو جائے وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران مختصر سے مختصرانداز میںوقت پر اپنی نماز ادا کر سکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ PPEاستعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح قضائے حاجت کر کے وضو کریں پھرPPEاستعمال کریں پھر ڈیوٹی کے دوران کھانے پینے کو مؤخر کریں تاکہ Toiletجانے کی کم سے کم ضروت پڑے اس طرح اگر وضو جو محفوظ رہ گیا تو نماز ادا کر لی جائے یہ پہلا اور اصل حل ہے۔ اگر اس میںکامیابی نہ ہوتو دوسرا حل یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آگیا ہو اور کوئی شخص بے وضو ہو تو یہ سارا مخصوص ڈریس اس احتیاط کے ساتھ اتاریں جو خود میڈیکل کے اصولوں نے مقرر کر رکھا ہے۔ اس میں نہ ترتیب میں کوئی بے احتیاطی کریں اور نہ کسی طرح کی وہ غلطی کریں جو اس PPEکو بے فائدہ بنادے۔ وضو کے بعد پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی ترتیب کے ساتھ استعمال کر لیں جو خود میڈیکل کے ماہرین نے طے کر رکھا ہے۔ تاکہ آپ خود اور دوسرے لوگ وائرس سے محفوظ رہیں اس طرح وضو کر کے نماز ادا کی جائے اور پھر اس وضو کر بچا کر اور کئی نمازیں بھی اس سے پڑھ سکتے ہیں۔  اگر یہ بھی ممکن ہوا تو PPEاتار کر ایسے وقت میں یہ وضو کیا جائے کہ اگلی کئی نمازوں تک یہ وضو باقی رہ سکے مثلاً آج کل اگر چار بجے یہ وضو کر لیا جائے تو اس وضو سے ظہر کی نماز عصر کی نماز اور مغرب کی نماز آسانی کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے اور اندازہ یہ ہے کہ جو شخص صبح سے ڈیوٹی دے رہا ہوگا عشاء کی نماز ڈیوٹی سے نکلنے کے بعد وہ اطمینان کے ساتھ آدھی رات تک اپنی قیام گاہ یا گھر آکر ادا کر سکتا ہے۔ اگر یہ PPE اور گلوز وضو کیلئے اتارنے کے بعد قابل استعمال نہ رہے تو پھر کوشش کی جائے کہ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دوسراPPE اور گلوز مہیا ہو، اگر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے نہ ملے تو پھر اپنا خرید کر مہیا کیا جائے اگر نماز جیسا لازمی فریضہ بچانے کے لئے ایک صاحب ایمان کو یہ قربانی دینے پڑے کہ اپنی رقم سے یہ دونوں تینوں چیزیں خرید لیں تاکہ نماز بھی ادا ہو خود بھی محفوظ رہیں تویہ کوئی مشکل نہیں، اس کا تعلق جذبہ ایمانی کے ساتھ ہے۔ اگر یہ بھی نہ ہو سکے اور نماز کے وقت میں انسان بے وضو ہے تو اس شخص کے لئے آخری اور تیسرا حل یہ ہے کہ نماز کے وقت میں نماز کی جگہ کھڑا ہوجائے اور قیام کی حالت میں نماز کی نیت باندھے بغیر یا التحیات کی حالت میں  بغیر نیت کے بیٹھ جائے پھر کچھ تلاوت کچھ تسبیحات، کچھ تہلیلات  کچھ استغفار اور پھر کچھ دعا پڑھیں۔ شریعت کی اصطلاح میں اس عمل کو تشبہ بالمصلیین کہتے ہیں۔اس میں جسم کی ظاہری حالت نمازیوں کے مشابہ اور قلب کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ اس بات کا احساس ہو کہ یا اللہ میں اگر میں اس مخصوص صورتحال میں نہ ہوتا تو باوضو ہو کر ضرور آپ کے سامنے کھڑا ہوتا، آپ کو سجدہ کرتا، نماز کا فریضہ پوری طہارت کے ساتھ  انجام دیتا اور اس فرض کی ادائیگی پر میرا دل و دماغ اطمینان محسوس کرتا اور کندھوں پر آپ کے حکم کا بوجھ اُترتا محسوس ہوتا مگر میں چونکہ بے وضو ہوں اس لئے آپ کے سامنے مکمل نماز کی حالت میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہوں اس لئے میں نے نمازیوں کی مشابہت اختیار کی۔ بلا شبہ اس صورتحال میں یہ احساسات اور جذبات ایمان کی نشانی ہے، چند منٹ یہ عمل کرنے کے بعد یہ سمجھا جائے کہ میں نے نمازیوں کی مشابہت اختیار کر لی اور اس صورت حال میں میرا دین مجھے جو حکم دیتا ہے وہ میں نے انجام دے دیا پھر استغفار کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اپنی ڈیوٹی میں لگ جائے۔اس کے بعد جب ڈیوٹی سے فارغ ہو جائیں تو اپنی اپنی قیام گاہ یا اپنے گھر پہنچ کر  باقاعدہ وضو کر کے ان نمازوں کو فرائض و سنن  کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ادا کیا جائے۔