تازہ ترین

لاک ڈاؤن کی مہربانی | دودھ سپلائی کرنیوالوں کو بھی روک دیا گیا

کرفیو پاس حاصل کر کے چلیں :ایس ایس پی

30 مارچ 2020 (12 : 12 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //کورونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے انتظامیہ نے شہر بھر میں سخت بندشیں عائد کر دی ہیں اور عوام کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاہم اس بیچ شہر کے متعدد علاقوں میں گھروں میں محصور لوگوں کو دودھ سپلائی نہیں ہو سکا ہے کیونکہ متعدد علاقوں میں دودھ سپلائی کرنے والوں کو بھی روک دیا گیا۔ اس دوران پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری ہدایات کے مطابق کرفیو پاس کے بغیر کسی کو بھی چلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ شہر میں جو دودھ گھر گھر  سپلائی کیا جاتا ہے اس کی قلت پیدا کا امکان ہے ۔شہر سرینگر میں اس وقت جو دودھ پہنچ رہا ہے وہ  چاڈورہ ، پلوامہ ، بڈگا م اور دیگر علاقوں سے آتا ہے اور دودھ سپلائی کرنے والوں کو روکنے سے شہر میں دودھ کی کمی ہونے کا امکان ہے۔حیدپورہ ، صنعت نگر ، چھان پورہ ، باغات ، برزلہ ، بمنہ ، ایچ ایم ٹی سمیت کئی علاقوں سے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ کئی دودھ والے ان کے گھروں تک موٹر سا ئیکلوں  اور سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں پر دودھ لاکر گھروں میں سپلائی کرتے ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے سیکورٹی حکام نے دودھ سپلائی کرنے والوں کو روک دیا ہے اور انہیں آگے نہیں جانے دیا گیا۔کرفیو کے دوران دودھ سپلائی کرنے والوں کو روکنے کے بعد سے ایسے لگتا ہے کہ شہرمیں دودھ کی کمی ہو جائے گی کیونکہ جب سپلائی نہیں آئے گی تو شہریوں کو دودھ کہاں سے ملے گا۔امتیاز احمد نامی ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ حکومت کا کہنا تھا کہ ضروری دکانیں کھلی رہیں گی ان میں دودھ کی دکانیں بھی شامل ہیں تا ہم دودھ سپلائی کرنے والوں کو روکنے سے نہ صرف دودھ والے بلکہ وہ گھر والے بھی پریشان ہیں جن کے گھر سپلائی پہنچتی تھی۔حیدپورہ کے ایک شہری فاروق احمد نے بتایا کہ ہم حکام اور پولیس کے شکر گزار ہیں کہ وہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں ،تاہم عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی کارگر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔کئی ایک دود ھ فروشوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ شہر آنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں نوگام اور دیگر علاقوں سے شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے جب ایس ایس پی سرینگر حسیب مغل سے بات کی ،تو انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دودھ فروخت کرنے والوں کو یا تو محکمہ خوراک یا پھر ضلع ترقیاتی کمشنر سے کرفیو پاس حاصل کرنا چاہئے پھر وہ گھروں سے نکل کر دود ھ فروخت کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ باہر کرفیو ہے اور قواعد کے تحت ان کیلئے پاس حاصل کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس تب تک پاس ہونا چاہئے جب تک کرفیو رہے گا ۔