تازہ ترین

کورونا وائرس ۔۔۔۔ کشمیر میں مزید4کیس مثبت

سی ڈی اسپتال میں 23اور سکمز میں 31 افراد داخل،16کے رپورٹ کا انتظار

تاریخ    26 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر // بانڈی پورہ کے حاجن علاقے سے تعلق رکھنے والے مزید4افراد کے کورنا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد جموں و کشمیر میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11ہوگئی ہے جن میں 8کا تعلق کشمیر سے جبکہ 3کا تعلق جموں صوبے سے ہے۔ ریاستی سرکار کے ترجمان روہت کنسل نے بدھ کو سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پرلکھا’’ بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے مزید 4افرد کی رپورٹ مثبت آئی ہے، ابتدائی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ وہ سرینگر کے اُس مریض کے ساتھ نزدیکی رابطے میں رہے ہیں جسکی رپورٹ بدھ کومثبت آئی تھی‘‘۔کنسل کے مطابق ان پانچوںافراد نے حالیہ دنوں میں ایک ہی مذہبی تقریب میں حصہ لیا ہے۔ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ (سکمز) میں منگل دیر شام گئے داخل کئے گئے 5افرادمشتبہ مریضوں میں سے 4کی رپورٹ مثبت آئی ہے جبکہ ایک کی رپوٹ کا ابھی انتظار ہے۔ بانڈی پورہ کے یہ چاروں شخص ، حیدر پورہ سے تعلق رکھنے والے 65سالہ متاثرشخص کے ساتھ 2ماہ تک بھارت کی مختلف ریاستوں میں سفر کرتے رہے ہیں اور مختلف تقاریب میں حصہ لیتے رہے، جن میں انڈونیشیا اور ملیشیا سے آئے لوگ بھی شامل تھے۔چار افراد کی رپورٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 8ہوگئی ہے۔ ان میں 5سکمز صورہ ، 2سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ اور ایک جی ایم سی بارہمولہ میں داخل ہیں ،جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس دوران سی ڈی اسپتال سرینگر میں بدھ کو مزید 5 مشتبہ فریضوں کو داخل کیا گیا ، اس طرح مذکورہ اسپتال میں داخل کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 23ہوگئی ہے۔ سی ڈی اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’منگل شام دیر گئے 5مشتبہ مریضوں کو داخل کیا گیا جبکہ آج 5مشتبہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ سی ڈی اسپتال کے آئیسولیشن اور قرنطینہ وارڈ میں داخل مشتبہ مریضوں کی کل تعداد 23ہوگئی ہے‘‘۔  23مشتبہ مریضوں میں سے 10کی رپورٹ پہلے ہی منفی آئی ہے جبکہ 8کی رپورٹ کا ابھی انتظار ہے۔  ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ سکمز کے آئیسولیشن اور قرنطینہ وارڈ میں کل 31مشتبہ مریض داخل ہیں ،جن میں 18نگرانی وارڈ میں ہیں جبکہ 8 آئیسولیشن وارڈ میں ہیں۔کورونا وائرس سے متاثرہ 5مریضوں کو علیحدہ آئیسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ فارق جان نے کہا کہ آئیسولیشن وارڈ میں داخل 8افراد کی رپورٹ کا ابھی انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان 8افراد میں بدھ کی شام بانڈی پورہ سے منتقل کئے گئے 2مشتبہ مریض بھی شامل ہیں۔ ادھر حکومت نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں 5124 مسافروں اور مشتبہ افرادکے رابطے میں آئے لوگوں کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے اور اب تک 11 معاملات مثبت پائے گئے ہیں ۔ کورونا وائیرس سے متعلق روزانہ بلٹین کے مطابق 3061  افراد کو گھروں میں کورنٹین میں رکھا گیا ہے جبکہ 80 افراد کو ہسپتالوں میں کورنٹین کیا گیا ہے ۔ 1477  افراد کو گھروں میں نگرانی پر رکھا گیا ہے جبکہ 506  افراد نے 18 روزہ نگرانی مدت پوری کر لی ہے ۔ بلٹین میں مزید کہا گیا ہے کہ 326 نمونوں کو ٹیسٹنگ کیلئے بھیج دیا گیا ہے جن میں سے 294 کو منفی پایا گیا ہے اور 25 مارچ 2020 تک 21  رپورٹ آنا باقی ہیں ۔
بڑی براہمناں جموںکی تالی بستی کے 8مشتبہ افراد کو ضلع ہسپتال سانبہ منتقل کیاگیاہے جو سرینگر کے اس مذہبی مبلغ کے رابطے میں آئے تھے جسے سعودی عرب سے لوٹنے پر گزشتہ روز کورونا وائرس میں مبتلاء پایاگیاتھا۔ان 8افراد کو اب ہسپتال کے آئیسو لیشن وارڈ میں رکھاگیاہے ۔انتظامیہ نے مبلغ کے کورونا وائرس میں مبتلا پائے جانے کے بعد اس کے ساتھ رابطہ میں آنے والے افراد کی شناخت کا عمل شروع کیا ہے اور اس دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ بڑی براہمناں کے 8افراد بھی اس کے رابطے میں آئے جن کو ہسپتال منتقل کرکے ان کے ٹیسٹ کے نمونے جانچ کیلئے روانہ کئے گئے ہیں ۔سرکاری بلٹین کے مطابق کورونا وائرس کے خوف کے بیچ حوصلہ افزابات یہ ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموںمیں زیر علاج دوسرا مریض بھی صحت یاب ہوگیاہے جسے ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے ڈسچارج کردیاگیاہے ۔ اس سے قبل گزشتہ روز کرگل سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکی کو صحت یاب ہونے کے بعد گھر واپس بھیج دیاگیاتھا اور اب دوسرے مریض کو بھی مکمل صحت یابی کے بعد گھر روانہ کیاگیاہے ۔ 
 

ہنگری سے لوٹی دوشیزہ

اسپتال سے فرار، سکمز میں سرنڈرCD

 پرویز احمد 
 
سرینگر //سی ڈی اسپتال سرینگر سے فرار ہونے والی بٹہ مالو کی ایک 25سالہ دوشیزہ اب شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ لڑکی کو ابتدائی علامات کی موجودگی کے بعد منگل کوسی دی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔مذکورہ لڑکی حال ہی میں ہنگری سے واپس آئی ہے۔ سی ڈی اسپتال میں شعبہ امراض چھاتی کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ’’ لڑکی کے خون کے نمونے تشخیص کیلئے حاصل کئے گئے اور ابھی اسکی رپورٹ نہیں آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ لڑکی ازخود سی ڈی اسپتال سے فرار ہوکر سکمز پہنچ گئی لیکن یہ طرز عمل کئی لوگوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ لڑکی راستے میں کئی افراد کے رابطے میں آئی ہوگی؟ ۔ انہوں نے کہا ’’مشتبہ مریضوں کی منتقلی کیلئے پہلے سے ہی قوائد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں اور ان قوائد پر عمل کرنے کے بعد ہی مریضوں  کومنتقل کیاجاتا ہے۔صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کہا ’’بغیر کسی کو بتائے ہوئے فرار ہوگئی ہے اور اب سننے میں آیا ہے کہ وہ سکمز چلی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں بولتی تو ہم قوائد و ضوابط کے تحت تمام احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اسکو صورہ منتقل کرتے لیکن وہ خود بھاگ گئی اور کئی لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ آج ہم میٹینگوں میں مصروف تھے لیکن کل ہم اس لڑکی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کریں گے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جمعرات کو ہم اسکے خلاف آیف آئی آر درج کریں گے کیونکہ اس نے پوری قوم کو خطرے میں ڈال دیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس لڑکی کی رپورٹ سرولنس ٹیم کو بھی دی ہے اور وہ بھی اسکے خلاف کارروائی کریں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے ہفتے بھی بمنہ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سی ڈی اسپتال سے فرار ہوئی تھی مگر اسپتال انتظامیہ نے اس کو ایک گھنٹہ میں ہی واپس لایا۔ 
 

تازہ ترین