نفرت

افسانہ

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر نذیر مشتاق
چاند اپنے جوبن پر تھا، ستارے جھلملا رہے تھے، جنگل میں درختوں کے پتے ہلکی ہلکی ہوا سے ہل رہے تھے۔ جنگل کے بادشاہ شیر ببر نے آج رات جنگل میں بسنے والے تمام پرندوں ، درندوں اور چرندوں کا اجلاس بلایا تھا۔ جنگل میں رہنے والے تمام جاندار حاضر تھے۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ آج شیر دوٹانگوں پر چلنے والے آدم کے متعلق کچھ خاص باتیں سنانے والا تھا۔ وہ سب بے صبری سے انتظار کررہے تھے کہ اچانک شیر آگیا۔ ہر کوئی اُس کے احترام میں کھڑا ہوا۔ شیر ایک بہت بڑے درخت کی ایک موٹی شاخ پر چڑھا اور جنگل کے باسیوں سے مخاطب ہوا۔ میرے پیارے ساتھیو! آج میں آپ سبھوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بستیوں سے دور دو ٹانگوں پر چلنے والے عجیب و غریب جانور رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں۔ وہ بہت ہی خطرناک اور خونخوار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو لوٹتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خون چوستے ہیں۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔یعنی وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ہم نہیں کرتے۔ کئی روز قبل میں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ سُن کر تم سب حیران ہوجائو گے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اُن آدم زادوں کا عبرتناک قصہ کیسے سنائوں لیکن تم سب کو خبردار کرنا میرا فرض بنتاہے۔ اپنے آپ کو انسانوں سے بچائو اُن کو اس بستی میں داخل مت ہونے دو کیونکہ اُن کے یہاں آنے سے ہماری بستی گندی ہوجائے گی۔ یہ جنگل آلودہ ہوگا۔ بہرحال اب میں وہ منظر بیان کروں گا،جو میں نے دیکھا۔ کچھ روز قبل میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ میں اپنے خاندانی بزرگوں کی طرح آدم خورشیر بن جائوں اور اس طرح اپنے آباء و اجداد کا نام روشن کروں۔ اس لئے میں ایک ایسی جگہ چلا گیا جہاں میں آدم زاد کا شکار کرکے یعنی اس کا پورا خون چوس کر آدم خور کے نام سے مشہور ہوجائوں۔ میں ایک جھاڑی میں چھپ کر آدم زاد کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک عورت اور چار نوجوان ایک کمسن اور معصوم لڑکی کو گھسیٹ رہے تھے۔ انہوں نے لڑکی کے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ اُسے مکمل ننگا کیا اور پھر چاروں نوجوانوں نے ایک ایک کرکے اُس کے پاک جسم کے ساتھ ناپاک کھیل کھیلا۔ وہ چلاتی مگر کیسے، اُس کا تو منہ بند کیا گیا تھا۔ وہ درد سے تڑپ کر ہاتھ پیر ہلاتی مگر اُن ظالموں نے اُس کے ہاتھ پیر رسیوں سے باندھ رکھے تھے۔ جنگل کے باسیوں میںایک عجیب سی خاموشی چھاگئی۔ پھر اچانک انہوں نے یک زبان ہوکر آوازیں نکالیںہُر، ہُر، ہُر۔۔۔ہُر (شرم، شرم، شرم، شرم)۔۔۔ 
خاموش۔۔۔ خاموش رہئے۔ شیر گرجا۔
ابھی اور سُنو۔۔۔ جب وہ لڑکی نیم بے ہوشی کی حالت میں کراہ رہی تھی تو ایک نوجوان نے گرم گرم لوہے کی سلاخ سے اُسکی دونوں آنکھیں نکال دیں۔ وہ چلاتی رہی اتنی دیر میں ایک اور نوجوان نے کچھ پانی جیسامحلول اُس کی ٹانگوں پر چھڑکا، جس سے اُس کی ٹانگوں کا سارا گوشت جل گیا اور ہڈیاں صاف نظر آنے لگیں۔ پھر اُس بدذات اور کمینی عورت نے ایک تیز دھار والی کلہاڑی سے اُس کا سر تن سے الگ کردیا۔ شیر کی سانس پھولنے لگی۔ مجموعے سے ہُر، ہُر، ہُر۔۔۔ہُر کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ شیر نے ایک لمبی سانس لی اور چند لمحے خموشی کے بعد کہا۔ 
’’آج کے بعد آدم زاد نظر آئے ، تو اُس کو پکڑ کر اسکا گلا دبا دیا جائے اور پھر کسی دور دراز سڑک پر اُس کی لاش پھینک دی جائے۔ جنگل کے اندر آدم زاد کا گندا خون نہ بہایا جائے۔ آج سے ہم سب پر آدم زاد کا گوشت اور خون حرام ہے۔ میرا بس چلتا تو آدم زاد کو نیست و نابود کرتا مگر کیا کروں وہ ہم سے زیادہ طاقت ور ہیں۔۔۔ کیا کریں ہم۔۔۔۔‘‘
 اچانک سامعین میں ایک بوڑھی لومڑی کھڑی ہوگئی اور شیر سے مخاطب ہوکر بولی
’’ہم اُن کو نیست و نابود کرسکتے ہیں انہیں ایسا سبق سکھا سکتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک یاد کریںگے۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ شیر نے خوش ہوکر پوچھا۔
’’بادشاہ سلامت آدم زاد جتنے طاقت ور ہیں اتنے ہی وہ کمزور ہیں۔۔۔ ہم ایسا کریںگے کہ ہمارے جنگل کے شمالی ویران حصے میں چمگادڑوں کی بستی ہے وہاں سے چمگادڑوںوکو آدم زادوں کی بستی میں بھیجیں گے۔ ان چمگادڑوں میں ایک زہر ہوتا ہے، جب یہ آدم زادوں کی بستی میں پہنچ جائیں گے تو وہ زہر ہر طرف پھیل جائے گا اور آدم زاد متاثر ہوکر مرنے لگیں گے۔
شیر خوش ہوا۔۔۔ اُس نے چمگادڑوں کے سردار سے کہا کہ وہ کل ہی ہزاروں چمگاڈریں لے کر آدم زاد کی بستیوں میں جائے اور وہاں اپنا زہر پھیلائے تاکہ آدم زاد کی ہلاکت کا سب بنے۔ اس کام کی نگرانی بی لومڑی کریںگی۔ اسی کے ساتھ آج کی نشست برخواست ہوئی۔ دوسری نشست تب ہوگی جب چمگادڑوں کا سردار ہمیں خوف خبری سنائے گا۔
ایک ماہ بعد بی لومڑی نے شیر سے کہا کہ وہ دوبارہ اجلاس بلائے۔ اجلاس بلایا گیا تو بی لومڑی نے اپنی تقریر میں کہا ’’آدم زاد پریشان ہے، زار و قطار رو رہا ہے۔ ایک کثیر آبادی والے علاقے سے چمگادڑوں کے جسم سے نکلے ہوئے زہر نے ہر طرف تباہی مچادی ہے۔ آدم زاد بے بس ہے اور لاکھوں آدم زاد مررہے ہیں، ہر طرف افراتفری ہے۔ پوری دنیا میں سکوت اور بے چینی ہے۔ آدم زاد ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔۔۔ اب وہ پریشان ہیں کہ اس زہر کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
شیر خوش ہوا۔۔۔اور بی لومڑی کو انعام دینے کا وعدہ کیا۔ چمگادڑوں کا شکریہ ادا کیا گیا اور اُن چمگادڑوں کی یاد میں پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جو اس معرکے میں کام آئے تھے۔۔ شیر ببر نے سب کا شکریہ ادا کیا۔اسی وقت کسی طرف سے گولیاں چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ جنگل کے باسی گھبرا گئے اور اجلاس میں کھلبلی سی مچ گئی، وہ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اچانک شیر دھاڑنے لگا’’خبردار جو کوئی اپنی جگہ سے ہلا‘‘۔
گولیاں چل رہی تھیں، شیر نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ گولیاں وہ ہمارے لئے نہیں چلا رہے ہیں۔ وہ زمانہ گیا جب وہ ہمارا شکار کرتے تھے اب وہ ایک دوسرے کا شکار کرتے ہیں۔ یہ گولیوں کی آواز یںجو آرہی ہیں، آدم زاد کے دو دھڑوں کے درمیان جنگ ہورہی ہے، ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ تم سب بے فکر ہو کر اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر ان کا تماشہ دیکھو کیونکہ انکی بڑی طاقتیں چمگادڑوں کی اس چڑھائی، جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جوش ہے۔۔۔۔ہا۔۔ ہا۔۔ ہا۔۔۔ ہا۔۔۔۔
شیر ببر زور زور سے ہنسنے لگا اور اس کی ہنسی میں جنگل کے سبھی باسی شریک ہوئے۔ ایک طرف گولیوں کی گھن گرج سے جگل دھل رہا تھا اور دوسری جانب جنگل کے باسیوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر،موبائل نمبر; 9 419004094
 

تازہ ترین