تازہ ترین

وادی ، خطہ چناب اور پیرپنچال میں شدید برفباری، برفانی تودوں کا قہر

کوکرناگ اور عشمقام میں 2لقمہ اجل ،ٹنل پر پولیس چوکی تودے کی زد میں،8اہلکار اور 2قیدی لاپتہ

تاریخ    8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید

 رفیع آباد میں رہائشی کوٹھے ڈھہ گئے، ہلاکتوں کا خدشہ،مہو منگت بانہال میں درجنوں رہائشی مکانات دب گئے

برفانی تودے

 
سرینگر //پیر پنچال کے آر پار بھاری برف باری کے سبب برفانی تودوں اور چھتوں کے دب جانے کے سبب 2افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک خاتون لاپتہ ہے۔ بانہال ٹنل پر برفانی تودے کی زد میں 2پولیس چوکیاں آگئیں ہیں اور8 پولیس اہلکار وں اور 2قیدیوں کے دب جانے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ادھر رفیع آباد میںبرفانی تودے کی زد میں آکر کئی رہائشی کوٹھے دب گئے ہیں جن میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔برفانی تودوں کے پیش نظر انتظامیہ نے قریب 300افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ 

جنوبی کشمیر

اننت ناگ سے عارف بلوچ نے اطلاع دی ہے کہ جواہر ٹنل پر بھاری برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں تنل کا ایک ٹیوب بند ہوگیا اور تودے نے ایک پولیس چوکی کو بھی اپنی ساتھ لیا جس کے نتیجے میں تودے کے نیچے 8پولیس اہلکار اور 2قیدی دب گئے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان میں 4 پولیس اہلکار، سونگنے والے کتوں کے سکارڈ پر مامور 2پولیس اہلکار،2فائر سروس اہلکار اور 2قیدی شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹنل پر پہلے ہی قریب 4فٹ برف پڑی ہے اور لگاتار برفباری کے سبب جائے حادثہ تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، اس لئے بچائو ٹیمیں ابھی تک یہاں نہیں پہنچ سکی ہیں۔ادھردنگنار سونہ براری کوکر ناگ علاقے میں بشیر احمد قریشی نامی ایک شہری کا مکان برفانی تودے کی زد میں آگیا جس کے دوران مکان کے اندر 4افراد موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دو اسکے بچوں منظور اور فاطمہ کو بچا لیا گیا لیکن مکان مالک بشیر احمد کی لاش برآمد کی گئی اور اسکی اہلیہ روشن جان لاپتہ ہے۔پولیس اور انتظامیہ نے علاقے میں ریسکیو آپریشن بھی شروع کر دیا ہے ۔ادھر ہاپت ناڑ خیار عشمقام علاقے میں گل بٹ ولد ممہ بٹ نامی ایک شہری کی موت اُس وقت واقعہ ہو گئی جب وہ عارضی طور تعمیر کی گئی مسجد میں اذان دے رہا تھا اور چھت گر گئی جس کے نتیجے میں اسکی موت واقع ہوئی۔کنڈ قاضی گنڈ کے اوپری علاقوں (واسک ناگ)میں رہائش پذیر 58کنبوں کے 100سے زیادہ افردکو پولیس و سیول انتظامیہ نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ڈورو بن برگام میں عبدالرحمان ملک نامی ایک شہری کا مکان بھاری برف باری کے سبب تباہ ہو گیا ہے اور گھر میں موجود افراد کو انتظامیہ نے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا ہے ۔اننت ناگ انتظامیہ نے اس دوران مزمو ڈوروکے 6کنبوں کے قریب 20افراد کو برفانی تودوں کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا ہے ۔ چلہ واگن ڈورو میں عطا اللہ خان کا رہائشی مکان برف میں دب کر تباہ ہو گیا ہے ۔

بڈگام، کنگن

بڈگام پولیس نے کہا کہ انہوں نے کھاگ بڈگام علاقے میں 7گھرانوں کو بچاکر محفوظ مقام پر پہنچایا۔ اْن کے مکان پسیاں گر آنے والے علاقے میں آتے ہیں۔پولیس نے کہا کہ 7 گھرانوں کے28ارکان ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو کھاگ پولیس سٹیشن میں ٹھہرایا گیا ہے۔گنڈ کنگن کے خان محلہ رامواری میں پولیس ،سیول انتظامیہ اور سی آر پی ایف 118بٹالین گنڈ نے 22گھرانوں پر مشتمل 124افراد جن میں بچے مرد اور خواتین شامل ہیں کو گورنمنٹ میڈل سکول رامواری میں منتقل کیا ۔

 بارہمولہ 

 فیاض بخاری کے مطابق رفیع آباد ،حاجی بل اور کنڈی میں بھاری برف باری کے سبب کئی رہائشی مکانات کو نقصان ہوا ہے۔اُدھر گلبل رفیع آباد علاقے میںکئی رہاشی کوٹھے برفانی تودوں کے نیچے دب گئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں ہلاکتوں کا امکان ہے۔ٹنگمرگ سے اطلاع ہے کہ و ہاں گوگلڈارہ میں 2 جبکہ دارہ کشی میں3رہاشی مکانات کے چھت دب گئے ہیں۔ادھر بابا ریشی کے چونٹی پتھری میں بشیر احمد وانی ولد محمد اسداللہ وانی کا رہائشی مکان بھاری برفباری سے زمین بوس ہوگیا جبکہ مکان میں موجود کنبہ کے افراد معجزاتی طور بچ گئے ہیں۔

بانہال 

 محمد تسکین کے مطابق جمعرات کی صبح مہو اور منگت کی کئی بستیوں میں برفانی تودے گر آئے۔کرالپورہ ، دنگاڑی ، بڑ درمن ، کڑھ ناڑن ، چھاپرن ، کڑجی، ارم ڈکہ ، ترگام ، بزلہ ، کملہ ، گونز تاپ ، چیرواڑی ، باوا ، اکھرن اور گول سنگلدان کے علاقوں میں کئی درجن کنبوں کو خطرے والی بستیوں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا۔ جبکہ تازہ برفباری کی وجہ سے مہومنگت میں 2 سرکاری سکول اور 1پنچایت گھرسمیت کم از کم 2درجن مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ مہو منگت میں برفانی تودے کی زد میں آئے تین مکانوں کے مال مویشی ابھی بھی برف میں دبے بتائے جا رہے ہیں ۔ کھڑی مہو منگت ، ترگام ، چیر واڑی ، نیل پوگل پرستان ، سینابتی اور گول کے بھیم داسہ ، گوئی ، داچھن اور ڈیڈہ کے بیشتر علاقوں میں رہائشی مکانوں کی پہلی منزلیں مکمل طور سے بھاری برف کے نیچے دبی ہیں۔کھڑی کے منگت میں مصرہ بیگم بیوہ جمال لدین شیخ ، بشیر احمد ولد عبداللہ شیخ ، محمد اقبال ولد جمال الدین شیخ جبکہ ترگام میں محمد عبداللہ ولد عبدالرزاق گونز ٹاپ ترگام ، قادر ولد غفار پاچھو ، عبداالہ ولد حبیب اللہ پاچھو اوڈہالہ ، غلام قادر ولد اسداللہ ڑند ، عبالغنی ولد محمدو ڑوند ، عبدالرحمان ولد عزیز ڑوند ، مشتاق احمد ولد محمد سلطان ڑوند ، عبدالرشید ولد سبحان ڑوند ساکنہ کملہ ترگام تحصیل کھڑی کے رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ڈپٹی کمشنر رام بن شوکت اعجاز بٹ نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ مہو منگت اور گول کے علاقوں سے تین درجن سے زائید رہائشی مکانوں کو خالی کرایا گیا ہے جبکہ برفانی تودوں کی وجہ سے کئی درجن مکانوں کو نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
 
 

برفباری

اشفاق سعید 
 
سرینگر //وادی میں ابتک کی شدید برفباری نے زندگی کی پوری رفتار منجمند کردی ہے۔وادی کشمیر کے سبھی علاقوں ، بشمول پیر پنچال میں شدید برفباری ہورہی ہے۔برف باری کی وجہ سے سینکڑوں دیہات کا رابطہ تحصیل وصدر ضلع مقامات سے کٹ کر رہ گیا ہے جبکہ کئی مکانوں کی چھتوں کو بھی نقصان ہوا ہے ۔

وسطع کشمیر 

بڈگام ضلع کے بالائی علاقوں میں 2سے 3 فٹ برف جمع  ہو گئی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں 7سے10انچ تازہ برف نے معمولات زندگی متاثر کر رکھی ہے۔ضلع کی مین رابطہ سڑکوں سے اگرچہ برف ہٹانے کیلئے مشینری کو کام پر لگایا گیا ہے تاہم دور دراز علاقوں کی سڑکیں مکمل طور پر بند پڑھی ہیں، یوس مرگ توسہ میدان میں قریب 3فٹ برف جمع ہے جبکہ ضلع کے خانصاب ، کھاگ ، بیروہ ، ماگام ، چرارچریف میں بھی بھاری برف باری ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ ضلع کے حلقہ چلیاں چونٹی نار یوس مرگ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہاں بھاری برف باری ہونے سے عبور ومرور کے تمام رابطے مسدود ہو کر رہ گئے ہیں  ۔گاندربل سے نمائندے ارشاد احمد کے مطابق ضلع میں 6انچ تازہ برف جمع ہوئی ہے ۔غلام نبی رینہ کے مطابق ۔ سونہ مرگ ، زوجیلا ،گگن گیر، کلن ،گنڈ اور کنگن میں دوسرے روز بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری رہا ۔ کا ونی ،آرم، وانگت، کنگن ،شودہ گنڈ، گوجر پتی ،پرنگ ،کنگن اور ہائن علاقے میں شدید برفباری کی وجہ سے کئی ٹین شیڈوں کو نقصان پہنچاہے ۔

شمالی کشمیر 

بارہمولہ سے فیاض بخاری نے ا طلاع دی ہے کہ ضلع کے میدانی علاقوں میں1سے ڈیڑھ فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں 2سے 3 فٹ تازہ برف ریکارڑ کی گئی  ۔ضلع کے ناروا و ،رفیع آباد بونیار ،کنڈی ،ٹنگمرگ اور پٹن کے سینکڑوں دیہات تازہ بھاری برف باری کے بعد ضلع و تحصیل مقامات سے منقطع ہوگئے ہیں ۔نارواو کے نملن ،گلستان بالا ،گلستان پائین ،گوری وان ،پالہ دجی ،تل دھجی ،سچلیورن ،بگدجی،کاوہار ،وانسرن اور دیگر کئی دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر 2 سے 3 فٹ برف جمع ہے ۔حاجی بل بارہمولہ میں6 فٹ برف جمع ہو گئی ہے ۔ گلمرگ ،بابا ریشی ،افر وٹ اور کنگڈوری میں 2 فٹ سے زیادہ تازہ برف باری رریکاڑ کی گئی ہے۔ رفیع آباد ،حاجی بل اور کنڈی میں بھاری برف باری کے سبب کئی رہائشی مکانات کو نقصان ہوا ہے ۔ ٹنگمرگ سے اطلاع ہے کہ و ہاں گوگلڈارہ میں 2 جبکہ دارہ کشی میں3رہائشی مکانات کے چھت دب گئے ہیں۔ بابا ریشی کے چونٹی پتھری میں بشیر احمد وانی ولد محمد اسداللہ وانی کا رہائشی مکان بھاری برفباری سے زمین بوس ہوگیا ہے جبکہ مکان میں موجود کنبہ کے افراد معجزاتی طور بچ گئے ہیں۔ ۔ سوپور سے غلام محمد کے مطابق زینہ گیر اور رفیع آباد کے لوگوں نے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ ان علاقوں کے بیشتر سڑکیں برف کی وجہ سے بند پڑی ہیں اور سڑکوں سے برف ہٹانے کے کام میں لیت لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔بانڈی پورہ کے بھی متعدد دیہات برف باری کی وجہ سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔کپوارہ سے اشرف چراغ نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے ایک درجن سے زائد دیہات جن میں لولاب،کرالہ پورہ ،راجواڑ،چوکی بل، رامحال کے اوپری علاقوں کی سڑکیں بھاری برف باری کی وجہ سے 2 روز سے بند پڑی ہیں ۔ کرناہ، کیرن، بڈنمل، مڑھل اور جمہ گنڈ کو جانے والی سڑکیں مسلسل بند ہیں۔کپوارہ قصبہ میں 7،ہندوارہ میں 6،ترہگام اور کرالہ پورہ میں 8انچ برف جمع ہوئی ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں 1 سے ڈیڑھ فٹ برف ریکارڈ کی گئی ہے۔کرالہ پورہ کے درد پورہ ،راشن پورہ ،کاچہامہ ،آوتھ کل ،فرکن ،تمنہ ،ٹھنڈی پورہ ،سونتی پورہ ,بٹہ پورہ ،رامحال کے ہنگنی کو ٹ ،ہفرڈہ ،ملک پورہ ،ہچ مرگ ،فل مرگ ،سوچلیاری ،راجواڑ کے ستہ کوچی ،بہنی پورہ ،لچھم پورہ ،لولاب کے ورنو ،ڈوبن ،کلی گام اور دیگر علاقوں میں بھاری برف باری کی وجہ سے سڑک رابطہ بند ہوگئے ہیں۔ ہندوارہ کے مقام شنو علاقے میں رحیمہ بیگم نامی ایک خاتون کا رہائشی مکان بھاری برف باری کے سبب تباہ ہو گیا ہے ۔ادھر کرناہ میں  2سے 3فٹ برف جمع ہے اور قریب 40دیہات کا رابطہ منقطع ہوا ہے ۔ ٹنگڈار میں بشیر احمد بابا نامی ایک شہری کا مکان درخت کی زد میں آگیا جس کے سبب مکان کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ چنار کا درخت گرنے سے کنڈی بالا گائوں میں ایک سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے ۔

جنوبی کشمیر 

پلوامہ سے سید اعجاز نے اطلاع دی ہے کہ پلوامہ کے ترال ،اونتی پورہ، پانپور میںجمعرات کو شام دیر گئے تک برف باری ہوتی رہی ۔ ضلع کے میدان علاقوں میں نصف فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں ایک فٹ سے بھی زیادہ برف باری ریکاڑ کی گئی ہے۔۔شوپیاں سے شاہد ٹاک کے مطابق ضلع کے میدانی علاقوں میں 3فٹ اور بالائی علاقوں میں 4 سے 5 فٹ تازہ برف جمع ہو گئی ہے ۔ ضلع انتظامیہ نے اگرچہ مین قصبہ میں سڑکوں سے برف ہٹائی تاہم جاری برفباری کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت ممکن نہیں بن سکی اورشدید برفباری کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی مقید رہے۔ چوگام میمندر،راولپورہ،ویہل،چھودری گنڈ، کچھ ڈورہ،دانگام اور کاپرن کے علاقوں میں 3 فٹ برف جمع ہوگئی ہے ۔ادھر ہیرپورہ میں تازہ اور پُرانی کل آٹھ فٹ برف جمع ہو ئی ہے ۔اسکے علاوہ دبجن اور پیر کی گلی کے علاقوں میں قریب 10 فٹ برف جمع ہے۔ اننت ناگ سے نمائندے عارف بلوچ اور ملک عبدالسلام نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں بدھ کی نصف شب سے ہی تازہ برف باری کا سلسلہ شروع ہواجو جمعرات کی شام تک جاری تھا ضلع کے میدان علاقوںمیں قریباً 1فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں 2 فٹ سے بھی زیادہ برف باری ریکاڑ کی گئی ہے ۔ڈورہ بن برگام میں عبدالرحمان ملک نامی ایک شہری کا مکان بھاری برف باری کے سبب تباہ ہو گیا ہے ۔کولگام سے خالد جاوید نے اطلاع دی ہے کہ کھڈونی ،کیمو ، دیوسر ، پہلو ، یاری پورہ ، فرصل میں 1سے2فٹ اور دھمال ہانجی پورہ کے کنڈ ،دینو کنڈی مرگ ، وٹو، اہر بل احمد آباد میں اڑھائی سے تین فٹ برف جمع ہو گئی ہے۔بھاری برف باری کے سبب ضلع میں کئی ایک جگہوں پر مکانوں کو نقصان پہنچا ہے ۔

محکمہ موسمیات 

محکمہ موسمیات کے صوبائی ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پیر پنچال کے آر پار پہلے ہی برف باری کی پیشگوئی کی گئی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ آج صبح یا پھر دوپہر سے وادی میں برف باری کا سلسلہ تھم جائے گا اور موسم میں تبدیلی آنا شروع ہوگی۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو برف باری کا سلسلہ جاری رہے گا ۔
 
 
 

محکمہ صحت کی ایڈوائزری

سرینگر //ڈائریکٹریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر نے مسلسل بارشوں اور برف باری کے سبب گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے خطرہ لاحق ہونے کا اندشیہ ظاہر کیا ہے ۔ ایک ایڈوائزی میںمیں کہا گیاہے کہ وادی میں   respiratory tract infectionsکے علاوہ پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ایڈوائزری میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے وہ صحت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو گرم رکھیں ، اسہال ،ٹائیفائڈ اور ہپٹاٹس اے کو روکنے کیلئے پانی کو ابال کر پینے کیلئے استعمال کریں۔ ایڈوائزی کے مطابق پانی کو قریب پانچ منٹوں تک ابھالتے رہیں اور پھر اُس کے بعد اُس کو استعمال کریں ۔کھانا کھانے یا پھر بیت الخلاء کا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھویں ۔کھلی جگہوں پر پاخانہ کرنے سے بچیں ۔اپنی غذا کو مناسب طریقے سے کھائیں اور کچی سبزیوں سے پرہیز کریں ۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ گندہ پانی استعمال کرنے سے کان ، ناک اور گلے کا انفکشن بڑھ جاتا ہے ۔ایڈوائزی میں کہا گیا ہے کہ گندے پانی سے بچنے کیلئے گھروں سے نکلتے وقت خفاظتی کپڑے اور جوتوں کا استعمال کریں تاکہ اُن کے جسم کے ساتھ کندہ پانی نہ لگے ۔

 

 

 

گورنر کے مشیر نے صورتحال کا جائیزہ لیا

صوبائی کمشنر کی ہدایات پر متعلقہ محکمے متحرک

جموں//گورنر کے مشیر کیول کمار شرما نے لوگوں کی راحت رسانی کے لئے موثر لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ خراب موسمی حالات کے نتیجہ میں لوگوں کو دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ جن علاقوں میں بارش اور برف کی وجہ سے پانی جمع ہوا ہے، کی نکاسی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ادھرصوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وادی میں شدید برفباری سے پیداشدہ صورتحال اوراہم خدمات کی بحالی کاجائزہ لیا۔ ترقیاتی کمشنر وں نے صوبائی کمشنر کو بتایا کہ مختلف ایجنسیوں کی طرف سے بین ضلعی سڑک رابطوں سے ترجیحی بنیادوں پر برف ہٹائی گئی ہے ۔جب کہ اُن علاقو ں میں بچائو ٹیموں کو تعینات کیا جاچکا ہے جہاں پسیاں گِر آنے کا اندیشہ رہتا ہے۔صوبائی کمشنر کو بتایا گیا کہ تمام صحت مراکز معمول کے مطابق کام کررہے ہیں ۔عوام کی راحت رسانی کے لئے ضلع اور محکمانہ کنٹرول روم دن رات کام کررہے ہیں۔تمام زونوں میں جوائنٹ کنٹرول رومز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،جن کی نگرانی ضلع ترقیاتی کمشنروں کے دفاتر میں کی جارہی ہے ۔ناسازگار موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لئے افرادی قوت اورمشینری کو بروئے کار لایاجارہا ہے۔صوبائی کمشنر نے ایس ایم سی کو سڑکوں پر سے برف ہٹانے کے لئے دن رات افرادی قوت اورمشینری کو بروئے کارلانے پر زوردیاجب کہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال کرنے کے لئے بھی مزید مشینری اورافرادی قوت کا استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ وادی کے ساتھ بیرونی رابطہ جلد از جلد بحال ہوسکے۔