تازہ ترین

سید قطب شہیدؒ

ایک مرد مسلمان کی سرگزشت

تاریخ    8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(نوا کدل،سرینگر )

حاجی بشیرا حمد وانی
سید قطب شہیدؒ کی دینی،سیاسی،ادبی،صحافتی وتحریکی پہلوئوں کو اُجاگر کرنے کے لئے انتہائی علمی وسعت اور نظر کی اَتھاہ گہرائی درکار ہے۔ایک اعلیٰ پایہ کے قلم کار، مفسر،بے باک صحافی،اخوان المسلمین کے بے خوف قائد ہونے کی حیثیت سے مسلمانانِ عالم کے تئیں سید قطب شہید ؒکی ناقابل فراموش خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی ۔ قارئین کرام واقف جانتے ہیںکہ گذشتہ تین سو برس میں مسلم دنیا پر باطل قوتیںپوری شدت کے ساتھ قابض ہیں۔اس کے باعث مسلم دنیا نے اپنی غیرت اور اعتماداس قدر کھو دیا کہ وہ خود بھی استعماری طاقتوںکی غلامی میںزندگی گزارنے پر آمادہ ہوگئی لیکن اس کے باوجود مسلم دنیا میں وہ قدسی نفوس بھی پیدا ہوتے رہیںجنہوں نے طاغوتی نظام اور استعماری قوتوںکے ناپاک عزائم کو خاک میںملانے کے لئے اپنی حتی المقدورکوششیں جاری رکھیںاور اسلامی تحریکوں کے تحت مسلم دنیا کو بیرونی مداخلت اور قبضوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں اپنا سب کچھ لٹا دیا۔آج بھی مسلم دنیاکا اکثریتی حصہ انہی باطل اور استعماری قوتوں کے ہتھکنڈوں کا شکار ہے اور عیاش و نااہل مسلم حکمران بیرونی قوتوں کے اشاروں پر اسلامی تحریکوںکو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ان اسلامی تحریکوںمیںعالم عرب کی ایک عظیم تحریک مصرؔ کی اخوان المسلمون بھی ہے جس کی قربانیوں ،صبر و اسقامت اور استقلال کی جدید تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پچھلے 60؍سال سے اخوان سے وابستہ محبان،ارکان و قائدین کو مسلسل ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔برسراقتدار حکمران اس تحریک کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مصروف عمل ہوکرنام نہاد سیکولر ازم کو توانا کررہے ہیں۔ آج تک اخوان المسلمون سے وابستہ ہزاروں لوگوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا گیا اور ہزاروں کی تعدا د میں اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔جن قائدین کو شہید کیا گیا، اُن میں قائد کارواں سید قطب الدین بھی شامل ہیں جو اپنے زمانے میںتحریک اسلامی اخوان المسلمون کے روح رواں تھے۔
سید قطب الدین شہید1906ء میں مصر کے ایک دین دارزراعت پیشہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔اُن کے والدقرآن مجید سے گہرا شغف رکھتے تھے،لہٰذا سید قطب شہیدؒ نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کرلیا تھا،ابتدائی تعلیم مصر کے ایک پرائمری سکول سے حاصل کی اورسیکنڈری سطح کی تعلیم مشہور کالج دارلعلوم قاہرہ سے حاصل کی ۔ 1933ء میں گریجویشن کے بعدایجوکیشن میں ڈپلوما کی ڈگری حاصل کی ۔دین سے رغبت ، ظلم واستبداد سے نفرت اور حسا س طبیعت ہونے کے کارن دوران تعلیم ہی سے وہ ملک میںباطل حکمرانوں کی پالسیوں سے بدظن ہوگئے تھے اور عوام پر ہورہے ظلم و جبرکے خلاف اخوان المسلمون کی سرگرمیوں میںدلچسپی لینے لگے۔سید قطب کوتحریک سے دور رکھنے اور مزید تعلیم کے حصول کے لئے ملک کی وزارتِ تعلیم کی طرف سے ہائر ایجوکیشن کے لئے امریکہ بھیج دیاگیا ،جہاں مغرب کی مادی تہذیب کی تباہ کاریوں کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے خوب مشاہدہ کیا۔امریکہ سے واپس آنے کے بعد اُنہوں شاعر مشرق ڈاکٹرمحمد اقبالؒ کے اس شعر پر عمل کرناشروع کردیا    ؎
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیؐ
 امریکہ سے اپنے وطن مصر لوٹنے کے بعدانہوں نے پھر اخوان المسلمون کی طرف رُخ کیا ۔پہلے بحیثیت ہمدرد تنظیم سے وابستہ رہے، پھرباضابطہ طوراس میں شمولیت اختیارکرلی۔ 1953ء میں تنظیم کے باقاعدہ رُکن بن گئے۔ تحریک اخوان کے ہفتہ روزہ اخبار’’ خدمت الدعوۃ‘‘ میں اپنی پُر اثر تحریرات کے ذریعہ وہ اللہ کے بندوںکو اسلام کی طرف بلاتے رہے اور باطل کے ایوانوں کو بھی للکارتے رہے۔ وہ اپنے قلم کی تحریروں کے تاثیر کا ثمرہ پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ۔ بعد میں اُنہیں اخوان المسلمون کے شعبہ نشرواشاعت کا سیکریٹری بنادیا گیا ۔ایک جامع پروگرام کے تحت سید قطب کے اسلامی لٹریچر کو انگریزی،فرانسیسی،انڈونیشیائی اور دیگر کئی زبانوں میں ترجمہ کراکے عوام تک پہنچایا گیا،اس کے نتیجہ میںمصرمیں جمال ناصر کی دجالی حکومت نے اخوان کو غیر قانونی قرار دیا۔ کچھ مدت بعدجب اخوان پر سے پابندی ہٹائی گئی تو سید قطب شہید الاخوان المسلمون کے ایڈیٹر بنائے گئے جب کہ وہ اخوان کی مرکزی کمیٹی میں بطور سیکر ٹری رابطہ عامہ بھی فرائض انجام دیتے رہے ۔اسلامی تحریک کے ایک رُکن ہونے کے ساتھ ساتھ سید قطبؒ ایک ادبی شخصیت بھی تھے، اُن کے بے باک قلم سے نکلے بے لاگ تحریروں میں اللہ نے وہ تاثیر اور جاذبیت عطا کی تھی اس سے نہ صرف مصر بلکہ دنیا بھر کے باطل ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ سیدؒمذہب ، ادب ،صحافت ،سیاست ہر میدان میں جداگانہ تحریر اور منفرد انداز رکھتے تھے اور استعماری قوتوں کو للکار نے کی فکری اور نظریاتی قوت سے مالامال تھے۔اس کے نتیجہ میں اُن کی زندگی کا کافی حصہ پس د یوارِزندان گزرا۔
انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں ،جن میں: ’’اسلام میں عدل اجماعی ،مناظر قیامت ،امن عالم اور اسلام، اسلام کا روشن‘‘ نمایاں کتابیںہیں۔ان کی مشہور تصنیف’ معالم فی الطریق‘‘ ہے جس کا اُردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سبحانی نے’’ نقوش ِراہ‘‘ کے نام سے کیا ہے ۔یہی وہ تاریخی کتاب ہے جس کے لکھنے کی پاداش میں سید قطب شہید ؒکے خلاف پھانسی کی سزا دی گئی ۔اُن کی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ دورِحاضر میں قرآن مجید کی بہترین تفسیروں میں سے ایک ہے۔اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے ،دین حق کی دعوت دینے اور استبدادی طاقتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی بناء پر سید قطب شہید کو 1954میں گرفتار کرکے درد ناک سزائیں دی گئیں کہ اُن کی صحت بُری طرح متاثر ہوئی ۔جیل سے رہائی کے بعدمختلف عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجو اس مرد آہن کے پائے استقلال میںذرہ برابر بھی لرزش نہ آئی۔ اپریل 1965ء میں اُنہیں پھر سے گرفتار کیا گیااور فرعون ِزماں جمال ناصر نے سید قطبؒ پر مختلف نام نہادالزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی مگر اُنہیں اپنی صفائی پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔اس موقع پر سید قطب شہیدؒ نے کہا تھا :’’میں جانتا ہوں کہ اس بار حکومت میرا سر چاہتی ہے، مجھے سنائی گئی سزا پر عمل درآمد چاہتی ہے۔مجھے کوئی ندامت نہیںاورنہ اپنی موت پر افسو س ہے۔میری سعادت ہے کہ مجھے دعوت اسلام کی راہ میں موت نصیب ہونے والی ہے ۔اب اس بات کا فیصلہ مستقبل کا مورخ کرے گا کہ راہ راست پر کون تھا ،اخوان یا حکومت؟ ‘‘مصری حکومت نے اپنے اس فیصلے پر عوامی احتجاج اور عالم اسلام کے رہنمائوں کی جانب سے رحم کی اپیلوں کے باوجود اگست 1966ء کو طلوع فجر سے قبل سید قطب شہیدؒ کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ۔سید قطب شہیدؒ نے جام شہادت نوش کر کے یہ بات واضح کردی کہ مردانِ حق کبھی باطل کے آگے سرنگو ں نہیں ہوتے اورمرکر بھی زندہ جاوید رہتے ہیں ۔ 
