تازہ ترین

مسلمان جاگ جائیں

شمشیر و سناں اول ، طاؤ س و رباب آخر

تاریخ    8 فروری 2019 (00 : 01 AM)   


طالب شاہین۔۔۔ سوپور کشمیر
 موجودہ  دور انسانی تہذیب کا سنہرا دور کہلاتا ہے کیونکہ انسان سمندر کی گہرائیوں اور چاند کی وسعتوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ نئی نئی ایجادات وجود میں آرہی ہیں۔ ان ایجادات سے لوگوں کا کافی فائدہ ہورہا ہے ۔ ہر خاص و عام ان کے حصول میں لگا ہے۔ خصوصاً آج کل لوگ سوشل میڈیا کے بغیر اپنے آپ کو نامکمل تصور کرتے ہیں اور سوشل میڈیا ہے کہ فوائدا ور نقصانات سمیت دن بہ دن مضبوط ہورہا ہے ۔ تصویر کا ودسر ارُخ یہ ہے کہ اتنی مادی ترقی کے باوجود آج قومیں آپس میں جنگ وجدل میں مصروف ہیں ، ایک ملک دوسرے ملک کو مٹانے کے درپے ہے ، بھائی بھائی سے ناراض ہے، شرم و حیاء نایاب شئے  ہورہی ہے،ایک ہی چھت کے نیچے بسنے کے باوجودآدم زاد ذہن میں نفاق اوردل میں نفرت پالتے ہیں ۔ یہ ہے دنیا کی بدنصیب تصویر اور ٹیکنالوجی کا کمال۔ہمیں چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک دوسرے کے قریب آجاتے،رشتوں اور دوستیوں کو فروغ دیتے ،،ایک دوسرے سے ہمدردی کر تے، مگر ایسا کچھ نہیں ہورہا بلکہ دوریاں روز بہ روز بڑھ رہی ہے،ایک دوسرے کا پاس و لحاظ،عزت اور محبت سب ختم ہوچکا ہے۔ مولاناابو الحسن علی ندویؒ اس بگڑتی صورت حال کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :’’انسانوں نے پرندوں کی طرح ہوا میں اُڑنا اور مچھلیوں کی طرح پانی میں تیرنا سیکھ لیا،مگر انسانوں کی طرح رہنا بھول گئے۔بے شعور عقل و علم نے ہر بدمست کو قفل شکنی کا آلہ اور ہر بد مست کو تلوار مہیا کی۔غرض کہ لوہے کو ہر طرح دھات حاصل ہوئی اور انسانیت کا ہر طرح زوال ہوا۔‘‘
 اس زوال کے حوالے سے زمانے کے کچھ نئے درد ہیں جو باضمیر لوگوںکو رُلاتے ہیں، بے چین رکھتے ہیں ، شرمندہ ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ بے حیائی زمانے کے ان پھوڑوں میں سر فہرست ہے جس کی شکلیں  اب’’ٹک  ٹاک‘‘ ،’’میوزیکلی‘‘،’’فیس بک‘‘ وغیرہ بن چکی ہیں۔ انapps سے سوشل میڈیا خاص کر نوجوانوں کو زہر آلودہ کر رہی ہیں۔ بے حیائی کے رنگین بازار یہ فحاشیت اور اباحت کے لاکھوں دروازے FUN کے نام پر کھولے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ کئی مسلمان بچے اور بچیاں بھی ایسی بے حیاویڈیو ز بناکر انہیں وائرل کرنے میں مشغول ہیں۔ ان کم عقلوں کو احساس ہی نہیں کہ اپنی تباہی کا کیا کیا سامان کر رہے ہیں۔ انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ،نہ عزت کا غم،نہ والدین کے بھروسے کا خیال ، نہ دین و اخلاق سے کوئی لینا دینا بلکہ شہرت کی شیطانی ہوس میں ملت کا یہ عظیم سرمایہ سستے داموں نیلام ر ہا ہے۔ان ایپس APPS سے صرف بے پردگی عام ہوتی ہے اور یہ بلا کسی جھجک یا شرم اپنے ویڈیو ز نشر کرکے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔یاد رکھیں کسی بھی لڑکے یا لڑکے کا یہ ابلیسی ویڈیوز بنانا قران کی اصطلاح میں’’تبرج ‘‘یعنی ناجائز اظہار ِزینت ہے۔ رب کا فرمان ہے :’’اور ( مسلمان عورتو! ) اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہارنہ کرو‘‘(سورہ الاحزاب : ۳۳(۔  
 حیا باختہ’’ ٹک ٹاک ‘‘جیسے اَیپس کے نشے میں مست نوجوان اعلانیہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس سے آخرت کی بربادی تو یقینی ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ دوسروں کے اُخروی زوال کا بھی سبب بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق حدیث میں انتباہ ہے : ’’میری تمام اُمت کو معاف کیا جائے گا، سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے‘‘  ]صحیح بخاری: ۶۰۶۹[۔ افسوس کہ وہ عفت مآب بہنیں جو پردے میں رہ کر شہزادیاں تھیں،آج یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور دیگر موبائل اپلکیشن کے ذریعے اپنے حُسن کا بے ہودہ مظاہرہ کررہی ہیں، خودکو بدنام کررہی ہیں اور اس کو ’’فن اور کلچر ‘‘ کا نام دے کر شرافت کا مذاق بناتی ہیں۔ اس شیطانی فعل کی روک تھام کیسے کی جائے؟ یہ سوال باضمیر لوگوں اور بہن بیٹی کا خیال رکھنے و الوں کو ضرورٹرپاتا ہے۔ اس کا روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنی عزت وشرافت کو انمول سمجھتے ہوئے اپنے بچوں اور بچیوںکو بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں، اُن کے چال چلن ،عادات واطوار اور دلچسپیوں اور دوستوں سہیلیوں کے مزاج پر دھیان دیں۔اپنی اولاد کو سمجھائیں کہ وہ دنیا میں ہر کوئی کام کر نے میںآزادنہیں ، انہیں روزِقیامت کے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے ، وہاں ذرے ذرے کا حساب دینا ہوگا ،بچوں کوموبائل فون سے جتنا ممکن ہودور رکھیں،ان کے دوستوں سہیلیوںاور ساتھ میں پڑھنے والوں کو بھی بہت موثر انداز میں نصیحت کیا کریں، انہیں بھی بُری صحبت کے مضر اثرات بتائیں۔سماجی سطح پر بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ، علماء وخطبا ء کوایسی غلطیوں گناہوں پر بروقت تنبیہ کرنی چاہیے، مساجد کے زیر سایہ نونہالوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے جز وقتی اسلامی درس گاہیں قائم کی جائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب گناہوں ، بے حیائیوں ، بے دینیوں کی آندھیاں اچھے اچھے گھروں کو اپنی زد میں لے ڈوبیں گی ۔آج ہم سوچتے ہیںکہ ہم آزاد ہیں ، جیسا چاہیں کر گزریں، جوابدہی کا احساس ہمارے اندر سے ختم ہوگیا ہے ،اس لئے گناہ یہ گناہ کئے جاتے ہیں ،حالانکہ  مسلمان اللہ اور رسول ؐ کا غلام اور شیطان کا باغی ہوتا ہے ۔ اللہ نے ہمیں متنبہ فرمایا ہے:’’کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ ںگے( سورہ المومنون: ۱۱۵)۔
خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا۔ حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے۔(جامع ترمذی، جلد نمبر ۱، حدیث نمبر ۱۱۸۱) عورت کے پردہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ ماں حّوا کی تخلیق بھی آدمؑ اور فرشتوں کی نگاہ سے چھپا کر کی گئی ۔عورت کے لئے عبادت تک پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ ممنوع فرمایا گیا ہے۔ اسی ضمن میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا ،گھر (آنگن) میں نماز پڑھنا ،گھر (اندرونی( کوٹھری میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔(سنن ابو داؤد، جلد نمبر اول، حدیث نمبر ۵۶۷)۔ غرض عورت جس قدر بھی پردہ کرے گی ، اسی قدر اس کے لئے بہتر ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری موجودہ نسل یہ بات بھول چکی ہے اور بگڑتے بگڑتے’’ ٹک ٹاک‘‘ کی کھائی تک میں پھسل گئی ہے ۔ بڑا افسوس ہوتا ہے جب جوان نسل کو اپنے اخلاق ، اپنے اوقات اور جوانی کوبے دریغ لایعنی اور فضولیات میںضائع کرتے پایا جائے۔ حدیث مبارکہ میں واضح ہے : ’’کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑدے‘‘ ۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’وقت کا ضیاع موت سے زیادہ سخت ہے کیونکہ وقت کا ضیاع آپ کو اللہ اور آخرت سے کاٹ دیتی ہے جب کہ موت آپ کو صرف دنیا اور اہل ِدنیا سے کاٹتی ہے‘‘۔  
 اس گھمبیر مسئلہ کے تعلق سے ملّی اور مذہبی تنظیموں ، ائمہ مساجد اور ذمہ داران ِمدارس سبھی پر لازم آتا ہے کہ وہ کھلے طور ان شیطانی سازشوں کو بے پردہ کر کے جواں پود کو بچائیں۔ جہاں کہیں سے بھی لوگوں تک اصلاحی بات پہنچانے سمجھانے کے مواقع دستیاب ہوں، اُن کا بھر پور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ ہر چھوٹے بڑے پلیٹ فارم سے مسلم معاشرے کو ایسی ابلیسی سازشوں کے نتائج سے واقف کرایاجائے ۔ نیز ایسے مائنڈ ڈایورٹنگ ویڈیوز کا توڑ کرنے کے لئے اصلاحی اور تعمیری ویڈیوز بنائے جانے چاہئیں، اس کے لئے تمام میڈیائی وسائل کا موثر استعمال کیاجانا چاہیے۔ اسلامک چینلز اور میڈیا سے جڑے ہوئے باصلاحیت لوگوں کو مزید آگے آنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف وہ ایسے اخلاق ساز ویڈیو ز تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیںجن سے ہر اُس خسارے کی بھرپائی ہو جسے دشمنان اسلام منفعت کی صورت میں پیش کر ر ہے ہیں۔ہم ایک پرفتن دور میں جی ر ہے ہیں، آئے دن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپگنڈے ہورہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ہر ممکن شیطانی کوشش ہورہی ہے، باطل طاقتیں اور  اسلام دشمن قوتیں مسلسل اس فکر میں ہیں کہ کوئی موقع ہاتھ لگ جائے کہ اپنے شیطانی منصبوں کو مسلمان میں ماڈرن ازم ، ترقی ، لبرل ازم ، کلچرل ڈیولپمنٹ کے طور پیش کرسکیں۔ ا س کے لئے ان کے پاس مضبوط وموثرآلہ یعنی زہر افشاں میڈیا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ جیسا چاہیں دنیا کے سامنے اسلام پیش کرکے اپنے سیاسی ومعاشی استحصال کے عالمی پر وگرام بناتے ہیں۔ ا س زہر ناک اسکیم میں’’ٹک ٹاک ‘‘ جیسی شیطانی کارستانیاں چھوٹی چیزیں ہیں ۔ایسے میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دین وشریعت کے دفاع  میں ابلیس کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔ہمیں کسی بھی حال میں پیچھے نہ رہنا ہوگا۔اچھائی اور برائی کی اس جنگ میں ہماری تیاری کے ساتھ شمولیت از حد ضروری ہے۔اس کے لئے اللہ کے دین اسلام کی صداقتوں کی فرماں برداری کے ساتھ زندہ رہنا ہمارے لئے اس زمانہ ٔ اخیر کا اولین تقاضا ہے ۔ اقبال نے خوب کہا ہے    ؎  
آکہ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے  
شمشیر وسناں اول، طاؤس و رباب آخر
فون نمبر7006165030