تازہ ترین

کشمیر ڈائیلاگ کے بغیر چارہ نہیں

ممکن نہیںکہ سرد ہو یہ خاکِ ارجمند

تاریخ    8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   


سجاد احمد لاوئے
   ۱۹۴۸ء میںوزیراعظم ہندجواہرلال نہرو نے اقوامِ متحدہ میں کشمیر مسئلہ حل کرنے کا جو تاریخی وعدہ دیا تھا، اسی وعدے کے پس منظر میں 27 ؍دسمبر 1962ء کو راولپنڈی میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ ذولفقار علی بھٹو اور سردار سورن سنگھ کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔یہ پہلا موقع تھا جب 1948ء میں کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی اور کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے استصواب رائے کے بارے میں قرارداد کی منظوری کے بعد دونوں ملک روبرو بات چیت کی میز پر تھے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان کئی بار ملاقاتیں ہوچکی تھیںلیکن ان میں کشمیر مسئلے پر کبھی گفت وشنید نہ ہوئی تھی۔بہرحال مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لئے بٹھو۔ سورن مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو 27دسمبر 1962ء سے لے کر 16مئی1963ء تک جاری رہا۔ان مذاکرات کے چھ ادوار راولپنڈی، دلی، کراچی، کلکتہ، کراچی اور دلی میں ہوئے مگر یہ سب یکسر ناکام رہے۔بٹھو اور سورن سنگھ کے درمیان طویل مذاکراتی سلسلے کی ناکامی نے اتنے کشیدہ حالات اور تلخیاں دونوں ملکوں میںپیدا کیں کہ مسئلہ کشمیر کو بزورِ بازو طے کرنے کے لئے آخرکار دلی اور پنڈی کو اپنی تلواریں نیام سے نکالنی پڑیں۔اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے ہند و پاک میں جنگ بندی ہوئی اور پھر سوویت رہنماؤں کی مصالحت سے تاشقند میں ایوب خان اور لال بہادرشاستری کے درمیان مکالمہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں تاشقند معاہدہ طے پایا۔تاشقند معاہدہ کشمیر کے تعلق سے بے حد اہم مانا جاتا ہے کیوںکہ پہلی بار کشمیر میں جنگ بندی لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ طور تسلیم کیا گیا اور پھر شملہ سمجھوتہ میں اسے لائن آف کنٹرول کا نام د لایا ۔ اسی کے ساتھ پہلی بار شملہ سمجھوتہ میں یہ طے کیا گیا کہ یہ مسئلہ بین الاقوامی اداروں میں لے جانے کے بجائے دونوں ملک باہمی مذاکرات سے حل کریں گے۔ یوں کشمیر مسئلہ اقوامِ متحدہ کے دائرہ اختیار سے نکال کر اسے  پاکستان اور ہندوستان کے مابین باہمی نزاع بنا نے کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ اسی بنیاد پر 1999ء میں لاہور میں اٹل بہاری واجپئی اور میاں نواز شریف کے درمیان مذاکرات ہوئے جو کرگل کی پہاڑیوں کے نیچے دفن ہوگئے ، پھر 2001ء میں آگرہ میں پرویزمشرف اور اٹل بہاری واجپئی کے درمیان گفتگو ہوئی لیکن وہ بھی ناکامی کی گہری کھائی میں دفن ہو کر رہ گئی۔ یہ کشمیر کے تعلق سے تاریخ کے اوراقِ پریشاں میں ایک ایسی لمبی حزنیہ کہانی ہے جس کے کردار امانت و صداقت اور صدق ووفا کے نرم ونازک رشتوں سے ناآشنا بلکہ ان کے مخالف ہیں ۔   
آج تک مسئلہ کشمیر پر سو سے زائد بار آر پار بات چیت  کے راونڈہوئے لیکن’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی‘‘ کے مصداق یہ مذاکراتی ادوار ہر بار ناکامی کی بھینٹ چڑھتے رہے ۔اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی  اور تناؤبڑھتاگیا جو تادمِ تحریر قائم  ودائم ہے۔ چند دن قبل  جب یہ خوش کن خبر گردش میں تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے  ایک بار پھر اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو خط لکھ کر مذاکرات کی بحالی کی جواپیل ، اس پر لبیک کہتے ہوئے  بالآخرمودی سرکار نے آمنا صدقنا کہا ہے ۔ دلی کی جانب سے  مثبت اعلان سے لگتا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری اور بے اعتنائی کی برف پگھلنے والی ہے ۔ دلی اور اسلام آبا دمیں باضابطہ طے پایا کہ نیویارک میں وزرائے خارجہ کی سطح پر دوطرفہ صلح جوئی کے حوالے سے مذاکرات شروع کئے جائیں گے۔اس خوش خبری پر دنیا بھر میں سُکھ کا سانس لیا گیا مگر ابھی مذاکرات کی تیاریاں شروع بھی نہ ہوئیں تھیں کہ ’’مذاکراتی غبارے‘‘ سے دلی نے ازخود ہوا نکل کر ساراجوش وخروش فضا میں تحلیل کر دیا۔  ابتدائی تجویز کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے درمیان وزارت ِخارجہ سطح  کے مذاکرات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونے کا پر وگرام بنایا جا چکاتھا کہ سر منڈاتے ہی  اولے پڑگئے ۔ پرو گرام کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کی ذمہ داری پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پر سونپی جانے کا اعلان ہو اتھا جب کہ بھارت کی نمائندگی وزیرخارجہ سشما سوراج کر رہی تھیں۔ افسوس کہ مجوزہ مذاکرات کی دھوم دو  ہی دن میں ٹائیں ٹائیں فش ہوئی ۔پاکستان نے  بھارت کے مذاکرات مسترد کر نے کے فیصلے پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کیا مگر انڈیا نے اس کا ردعمل آرمی چیف کے تیکھے بیانات سے پاکستان کو پہنچا دیا۔
  انڈو پاک  مذاکرات کی تاریخ کا اگر معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جتنے بھی مذاکرات ماضی میں ہوئے  ہیںوہ سب  بوجوہ  ناکام رہے ۔اس باب میں متواتر ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیوں بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی اس پر بے یقینی کے بادل منڈلاتے ہیں؟کیوں مذاکرات میز کے نیچے ہی دفن ہوتے ہیں ؟ کیوں عملی دنیا میں دلی اسلام آبادڈائیلاگ کا کوئی اثر عالم ِوجود میں کہیں دکھائی نہیں دیتا ؟ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ومحرکات ہیں جو آر پارمذاکرات آگے بڑھنے کی راہ میں ہمیشہ حائل  ہوتے رہتے ہیں ۔ جب تک  ان اسباب ومحرکات کو ایڈریس نہ کیا جائے  ہند پاک مذاکراتی عمل کا آئندہ بھی کامیاب ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔ بے شک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان  پیچیدہ مسائل میں سر فہرست  مسلٔہ کشمیر ہے اوراس حل طلب مسئلے کی موجودگی میں کسی بھی ڈائیلاگ پروسس کا آگے بڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکنات میں سے ہے 
تاریخ شاہد عادل ہے کہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کو خود اقوامِ متحدہ میں لے گیا، جہاں سلامتی کونسل کی بنیادی قرار داد میں یہ فیصلہ ہوا کہ کشمیر میں استصوابِ رائے کرایا جائے لیکن آج تک اہل کشمیرکو اس کا موقع ہی نہ دیا گیا کہ وہ آزادنہ استصواب سے خود  بتائیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔اس کے بجائے اُن
کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں ستر سال  سے جا  ری وساری ہیں۔ سنہ نوے سے تو یہاں ایسے ایسے کالے قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جو نظریہ ٔ  جمہوریت کو  ہی سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں ۔ لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوووٹ بنک سیاست کی ایک ایسی  لازوال پونجی بنا ڈالا گیاہے جس میں پٹ بھی نتیاؤں کے حق میں ہوتی ہے اور چت بھی انہی کی حمایت میں  ہوتی ہے۔  لہٰذا مبصین کا کہنا ہے کہ شایدقیامت تک مسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعے  یا یواین قراردادوں کی روشنی میں حل ہو نے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہی  نہ ہو گا۔ مذاکراتی عمل کی تجویز کی  حالیہ منسوخی سے بھی یہی بات دوبارہ ا ظہر من الشمس ہو تی ہے کہ ابھی کافی مدت تک کشمیریوں کو نحوستوں اور ماراماریوں کے سمندر پاٹنے ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر کے علاوہ کئی  دوسرے معاملات بھی پاک وہند کے بیچ میں دراڑ بنے ہوئے ہیں ، مثلاً سیاچن، آبی مسئلہ اور سرکریک کا مسئلہ ۔ ان سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان صرف کشیدگی  ہی کشیدگی  پائی جاتی ہے مگر فہم و فراست رکھنے والے ہر باشعور انسان کا پختہ یقین ہے کہ برصغیر میں امن کا راستہ کشمیر سے ہو کر ہی گذرتا ہے،  اس لئے جب تک کشمیر حل پر بات چیت آگے نہیں بڑھتی ، انڈو پاک تعلقات نہ معمول پر آسکتے ہیں اور نہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی نوید سنی جا سکتی ہے۔ کسی بھی امن پسند اور اعتدال انواز  انسان کواس حقیقت سے انکار کی مجال نہیں ہو سکتی کہ مذاکرات کو  ہر حال میںجاری رہنا چاہیے کیونکہ مسائل بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حتمی طور حل ہوتے ہیں ۔ بہر کیف دیر سویر جب بھی انڈو پاک ڈائیلاگ کا آغار کیاجائے ، ان میں یہ بات  ہند پاک کشیدگیوں کے پس منظر میں ضروری شرط  مانی جانی چاہیے کہ مذاکرات برائے مذاکرات کا تکرار اب نہیں چل سکتا کیونکہ وہ زمانہ گزر گیا،اب صرف بامعنی مذاکرات سے ہی کام  چل سکتا ہے ۔ مذاکرات کا ایک ٹھوس  ایجنڈا ہونا چاہیے اور فریقین کو ایسے تیر بہدف مذاکرات کرنے چاہیے جن سے مسئلے کا کوئی نہ کوئی امن پسندانہ اور آبرومندانہ حل نکل سکے ۔اس کے علی ا لرغم اگر آگے بھی روایتی مذاکرات ہوتے رہیں تو اچھے نتائج کی امید کرنا احمقانہ سوچ ہے ۔ بہر کیف کشمیر مسئلہ کے تمام سٹیک ہولڈروں کویہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہند پاک حکومتیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پیش رفت کریں نہ کریں، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو مانیں  نہ مانیں ، عالمی طاقتیں اس مسئلے کی طرف توجہ دیں یا نہ دیںکشمیر کامسئلہ تب تک زندہ رہے گا ، جب تک ایک غیر متزلزل سیاسی عزم وارادے کے سا تھ تینوں فر یق  مل بیٹھ کرکسی متفقہ تصفیہ فارمولے کو بخلوص نیت وضع نہیں کر تے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام تعصبات کو چھوڑ کر اس ابدی حقیقت کا کھلااعتراف ہو کہ جتنی جلدی ممکن  ہومسئلہ کشمیر کا کوئی مذاکراتی حل نکالا جائے تاکہ نیوکلیئر بر صغیر میں امن و آشتی، اخوت و مفاہمت اور نیک ہمسائیگی کے دیپ جل اُٹھیں، لیکن اگر خدانخواستہ  مذاکراتی محاذ پرجمو د وتعطل کی موجودہ حالت جوں کی توں قائم رہی تو برصغیر میں امن وامان  اور تعمیر وترقی کا سورج مستقلاًطلوع ہونا دیوانے کی بڑ ہی کہلائے گی۔
رابطہ :منزگام،اہرہ بل، کولگام
7006247958