تازہ ترین

انصاف کا انتظار ہے

چراغِ عدل سے اندھیرا ہٹاؤ

تاریخ    8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   


ایس احمد پیرزادہ
جسٹس   رنجن گوگوئی نے بھارت کے سپریم کورٹ کے چھیالیسویں (46)چیف جسٹس کی حیثیت سے حال ہی حلف اُٹھا لیا ہے۔ جسٹس گوگوئی رواں سال میں اُس وقت عوامی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے جب اُنہوں نے۱۲؍جنوری کو دیگر تین سینئر ججوں کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس میں اپنے پیش رو چیف جسٹس دیپک مشراپر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے عہدے اور طاقت کا غلط استعمال کرکے سپریم کورٹ آف انڈیا جیسے ادارے کی بنیادوںکو کمزور کررہے ہیں۔الزامات میں اہم ترین الزام یہ تھا کہ چیف جسٹس نہایت ہی حساس کیسز کو ادارتی ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ججوں کے مخصوص بینچ کے سپرد کرتے ہیں۔چار سینئر ججوں نے ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں براہ راست ہندوستانی عدلیہ کے سب سے بڑے منصب پر فائز فاضل جج پر نہ صرف تنقید کی گئی بلکہ اُن پر الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ بہر حال ۳؍اکتوبر سے اپنا عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالنے والے جسٹس گوگوئی ۱۳؍ماہ اور ۱۵؍ دن کے لیے چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کریں گے ،پھر ۱۷؍ نومبر۲۰۱۹ء کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔جسٹس گوگوئی عدلیہ کا حکومت ِ وقت کے سامنے کئی معاملات میں کمزور پڑجانے پر بھی سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کو آڑے ہاتھوں لے چکے تھے، اُنہوں نے ججوں کی تقرری کے معاملے میں حکومت ہند کی جانب سے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے اور براہ راست معاملات میں مداخلت کرنے کو بھارتی عدلیہ کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔اُن کی صاف گوئی اور عدلیہ کے وقار کی بحالی کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی عادلانہ پالیسی سے  ذی حس لوگوں اور انصاف سے محروم مظلوم اقلیتوںں میں اُمید کی شمع روشن ہوئی ہے۔
یکم اکتوبر کو سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں جسٹس گوگوئی نے کہا کہ’’ ہندوستانی عوام پہلے سے زیادہ ذات پات، مذہب ، جنس اور فکر کی بنیاد پر تقسیم ہوچکے ہیں، ہم کیا کھاتے ہیں، ہم کیا پہنتے ہیں ، ہمیں کیا کہنا چاہیے ، کیا پڑھنا چاہیے اور کیا سوچنا چاہیے یہ سب اب انسان کے ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جو چیلنج ہمیں درپیش ہے ،وہ یہ ہے کہ کس طرح ہم عالمی سطح پر قائم کیے جانے والے اُس مشترکہ سوچ کی حفاظت کرسکتے ہیں جس کی بنیاد پرعام انسان معاشرے کے طور پر یک جٹ ہوسکیں گے۔بقول جسٹس گو گوئی کے کہ سماج میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو نفرت اور دشمنی کا سبب بنائی جارہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ایک معاشرے کے طور پر یک جٹ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نجی عقائد اور ذاتی شوق ترک کردیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عدلیہ کو جو مسائل درپیش ہیں اور جن کی بنیاد پر انصاف کے اس ادارے پر تنقید کی جاتی ہے ،اُس کو سدھارنے کا میرے پاس منصوبہ ہے۔رواں سال کے ماہ جنوری میں جسٹس گوگوئی نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ ہر ایک فرد کو انصاف تک رسائی ہونی چاہیے۔‘‘جسٹس گوگوئی کی جانب سے دو ٹوک بات کرنے اور سیاسی حلقوں کی جانب سے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے خلاف رویہ اختیار کرنے کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں بالخصوص حکمران جماعت بی جے پی اُن کے چیف جسٹس بننے پر خوش دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اسی لیے اُنہیںچیف جسٹس نہ بننے دینے کے لیے ماہ ستمبر میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی بالکل اُسی انداز سے داخل کرائی گئی تھی جس انداز سے مختلف افراد اور این جی اوز کا سہارا لے کر دفعہ 370 اور35A کے خلاف دھڑا دھڑ عرضیاں داخل کرائی گئیں۔ البتہ کورٹ نے دفعہ 370 اور35A کے بجائے جسٹس رنجن گوگوئی کے چیف جسٹس نہ بننے دینے والی عرضی کو خارج کر دیا ۔اس لیے مانا یہ جارہا ہے کہ اربابِ اقتدار جسٹس رنجن گوگوئی کے چیف جسٹس آف انڈیا بننے پر غالباً خوش نہ ہو۔
انسانی سماج پر جب مظالم بڑھ جاتے ہیں تو موجود دور کے اقوام و ممالک میںمظلوم عوام کی داد رسی کے لیے عدلیہ ہی واحد سہارا ہوتی ہے، جہاں ستم زدہ لوگوں کے لیے انصاف کی اُمید کی شمع روشن ہوتی ہے۔ اگر بالفرض یہی ادارہ انصاف کی فراہمی میں سست پڑ جائے، یا یہاں انصاف فراہم کرنے کے لیے انسانی سماج میں تفریق کی جارہی ہو تو پھر سماج میں افراتفری اور انتشاری کیفیت کا پیدا ہوجانا لازمی بن جاتا ہے۔ اس وقت ہندوستانی سماج میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے جہاں اقلیت بالخصوص مسلمان خوف و دہشت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مسلسل مجبور کیے جارہے ہیں۔ براہ راست مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، اُن پر حملے کیے جاتے ہیں۔ گھرواپسی، لو جہاد، بیف ، فقہ ، پردہ ، عائلی قوانین اور دیگر حیلہ بہانوں کے ذریعے اُن کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ دادری کے اخلاق احمد کے ہجومی قتل سے لے کر اُن کے کیس میں عینی شاہد اُن کے بیٹے کو گولی مار دینے کے واقعات ہوں ، راجستھان کے پہلو خان کو ابدی نیند سلانے کا سانحہ ہو یا پھریوپی کے جواں سال حافظ قرآن جنیدخان کا چلتی ٹرین میں تڑپا تڑپا کر وحشیانہ اور بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کا معاملہ ہو،یا پھر جہارکھنڈ کے علیم الدین انصاری کا پولیس کی موجودگی میں بڑی ہی درندگی کے ساتھ قتل کا مسئلہ وغیرہ ہو… ہر دلدوز سانحہ میں غریب مسلمانوں کو جان بوجھ کر شکار بنایا گیا، او ریہ سلسلہ ہندوستان بھر میں پھیلتا جارہا ہے۔ دوسری بڑی اقلیت ہونے کے باوجود ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ایسی بھی جگہیں موجود ہیں جہاں مسلمان بود باش اختیار نہیں کرسکتے ہیں، مختلف کالونیوں اور اَپارٹمنٹوں میں مسلمانوں کو نہ ہی پلاٹ خریدنے دئے جاتے ہیں اور ہی فلیٹ حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ پولیس اسٹیشنوں سے لے کر سرکاری دفاتر میں اسلام کے نام لیواؤں کا حال یہ ہے کہ اُنہیں دوسرے درجے کی شہری کی حیثیت حاصل ہے، اُن کے لیے قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا رویہ بلا روک ٹوک تیکھے کرتے جارہے ہیں، اُن کے لیے ایوان عدل میں انصاف کے معیار ہی بدل جاتے ہیں، ایسے میں یہ بے چارے مسلمان جائیں تو کدھر جائیں؟؟؟ ریاست جموں وکشمیر میں جب نہتے عوام اپنے سیاسی حقوق کی بازیابی کے لئے نعرہ بازی کرتے ہیں تو اُن کا استقبال پیلٹ گن اور گولیوں سے کیا جاتا ہے۔ نہتے احتجاجیوں پر طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کرکے احتجاج کو’’دہشت گردی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں نہتے نوجوانوں کے سینے چھلنی کرنے کے بعد ملوث وردی پوشوں کو ’’مقدس افسپا‘‘ کے ذریعے عدالتی مواخذے سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قدرتی طور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں بام عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔
معاملہ مرنے مارنے پر ہی ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ مسلمانوں کے عقائد اور اُن کے مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے قانون کا سہارا بلا تکلف لیا جاتا ہے۔ ایسے بے تُکی باتوں کو بنیاد بناکر مسلمانوںکے پرسنل لاء سے لے کر عقائد تک ہر چیزپر تیکھا وار کیا جاتا ہے۔ جان بوجھ کر مسلمانوں کو تنگ طلببب کرنے اور اُن کے مذہبی شعائر پر حملہ آور ہونے کے لیے عدالیہ اور قانون تک کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تین طلاق کے معاملے میں مسلم پرنسل لاء کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور ایوان عدل و قانون کا سہارا لے کر مسلمانوں کے مذہبی معاملے میں اس انداز سے مداخلت کی جارہی ہیں کہ ہندوستانی مسلمان تذبذب اور غیر یقینیت میں گھر چکے ہیں، کوئی مسلمان عدالتی حکم کا پالن کرے تو ربّ کے دربار میں گناہ گار ہوجائے گا اور اگر اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہوجائے تو پھر ملکی قانون کے شکنجے میں پھنس جا ناطے ہے۔ حالانکہ اسلام کے نام لیواؤں کے لیے اللہ کے حکم پابندی اور عقیدے پر قائم رہنے کو ہر ودسری چیز پر اولیت حاصل ہے۔ ایوان ِعدل سے مسجد کو اسلام کا حصہ قرار نہ دینے کا فیصلہ بھی ہندی مسلمانوں پر بم کی طرح گر گیا ہے، کیونکہ مسجد دینی شعائر میں اہم ترین حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلم سماج کی پہچان ہوتی ہے اور مسجد کے بارے میں قرآن و سنت کے بے شمار احکامات موجود ہیں۔ تین طلاق کے نتیجے میں مسلم خاتون کی مظلومیت کا رونا رونے والوں کو اپنے ہی اداروں کی جانب سے کئے گئے وہ تحقیقی وتفتیشی جائزے نظر نہیں آتے ہیں جن کے مطابق طلاق کی سب سے کم شرح مسلمانوں میں پائی جاتی ہے، نیز جس طرح دیگر اقوام کی خواتین مظلومیت کی شکار ہیں ، ہزار ہا بگاڑ پیدا ہونے کے باوجود بھی مسلم خاتون کی ایسی حالت ِغیر کبھی نہ ہوگی۔ ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینے اور Adultry کو قانونی جواز فراہم کرنے کے نتیجے میں مسلم سوسائٹی کے ساتھ ساتھ ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی متاثر ہوجائیں گے،لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کو بھی اس ملک کے اکثریتی طبقے نے شاید اس وجہ سے قبول کیا ہے کیونکہ ان قوانین کی مار مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر پڑ جاتی ہے۔
انصاف کی عدم فراہمی یا دوہرے معیار کے لیے بھارتی مسلمان ایک نہیں دو نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں۔ گجرات فسادات کے دوران جن مسلمانوں کے گھر بار اُجڑ گئے اُن کو ہی مجرموں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ، شمال سے جنوب تک ہرریاست کی جیلیں مسلم نوجوانوں سے بھری پڑی ہوئی ہیں، دس دس ، بارہ بار سال جیل میں گزارنے کے بعد مسلمان نوجوان بے گناہ ثابت ہورہے ہیں، سلاخوں کے پیچھے سختیوں میں گزارے جانے والے یہ دس دس ، بارہ بارہ سال اُنہیں کون لوٹائے گا؟ درجنوں کشمیری نوجوان تہاڑ اور ہندوستان کی دوسری جیلوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، اُن کے کیسوں میں سینکڑوں گواہ لگا کر عدالتی کارروائی کو کیوں طول دیا جارہا ہے؟ صرف اس لئے تاکہ اُن کی قید و بندکا عرصہ طویل سے طویل تر ہوجائے۔مسلمانوں کے لیے انصاف کس قدر مشکل ہوگیا ہے اس کی مثال یوپی کے ایک واقعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں گزشتہ ہفتے ایک ہی مسلم کنبے کے۱۳؍ افراد نے مبینہ طور صرف اس لئے ہندومذہب اختیار کرلیا ہے تاکہ پولیس تھانے میں اُن کے ایک افراد خانہ کے قتل میں ملوث لوگوں کی سزا ہوجائے۔ کنبے کے سربراہ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ مودی دور میں مسلمان بن کر جینا کسی عذاب سے کم نہیں ہے، میرا بیٹے کا قتل ہوا ہے اور پولیس صرف اس لیے کیس کو دبا رہی ہے کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اس لیے ہم نے اجتماعی طور پر ہندو مذہب قبول کرلیا ہے تاکہ ہمیں انصاف مل جائے۔ایسے میں بھارت کے نئے فاضل چیف جسٹس کو عدالتی سسٹم اور قانونی اداروں کی ورکنگ کا بڑا گہراجائزہ لینا چاہیے۔ 
 آئے روز اخبارات میںخبریں اور مراسلے شائع ہوتے ہیں جن سے باور ہوتا ہے کہ جیلوں میں کشمیری قیدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے، اُنہیں قانونی امداد فراہم نہ کرنے اور انصاف کی بارگاہ میں اُن کی بات نہ سننے کے کئی معاملات وقوع پذیر ہو تے رہتے ہیں۔ کشمیری قیدیوں کے کیسوںکو طول دینا اور اُن کے چارج شیٹ میں سینکڑوں فرضی گواہوں کو شامل کرکے اُنہیں برسوں تک مقید رکھنے کی سوچ نے انصاف فراہم کرنے والے ایوانوں پر متاثرہ کشمیری کنبوں کا بھروسہ ہی ختم کردیا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے سلسلے میں آئین ہند میں موجود دفعات370 اور35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کارستانی اور اس کے لیے عدالت کا سہارا لینے کے پیچھے کارفرما اغراض و مقاصد کو بھی عدالتی غیر جانب داری اور مہر بان نگاہوں سے دیکھنے کی اشدضرورت ہے تاکہ کشمیر پھر ایک بار بد امنی کا اکھاڑہ بننے سے بچایا جاسکے۔ قابل صد احترام جسٹس رنجن گوگوئی صاحب سے توقع ہے کہ وہ صحیح خطوط پر عدل گستری کا نظام پٹری پر لاکر اُن سیاسی طاقتوں کی نکیل کسنے کے لیے اقدام کریں گے جو اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کی خاطر عدلیہ کا قار اور غیر جانب داری کی شبیہ مجروح کر نے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، جو عدالتوں کو وسیلہ بناکر ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور دینی شعائر پر حملہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے لیے ایک ایسے سماج میں جہاں فرقہ پرستی کی قابل نفرین لہر چل پڑی ہو، جہاں مسلم دشمنی کے نتیجے میں ووٹ حاصل کئے جانے کا رواج چل پڑا ہو، جہاں اسلام کے نام لیواؤں کا نام و نشان مٹانے تک کی کھلے عام دھمکیاں دی جارہی ہوں، اس میں آنکھوں پر پٹی باندھے انصاف کی دیوی کا وقار بحال کرنا بلاشبہ کاردارد والا معاملہ ہے، البتہ یہ کسی بھی صورت میں ناممکن نہیں ، اس کے لئے صدق دلی، انصاف پسندی اور ثابت قدمی بنیادی ضروریات ہیں۔ ہمیں امید یہ سارے اوصاف چیف جسٹس صاحب کی شخصیت میں مجتمع ہیں۔
