تازہ ترین

آخر کب تک؟

تعلیم و تدریس کی اَن کہی داستان

تاریخ    8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ فتح کدل
 تعلیم سرکاری اداروں میں دی جارہی ہو یا نجی اداروں میں، تعلیم ایک نور ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینے کے لئے زمین آسمان ایک کردیتے ہیں۔وہ اس کے لئے صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، اپنی جمع پونجی لُٹا دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے تعلیمی اداروں میں یہ تعلیم کون دے رہا ہے؟ ظاہر ہے اساتذہ۔ دینی اور دنیوی تعلیم کے لئے ادارے بھی الگ الگ ہیں اور اساتذہ بھی الگ الگ ہیں۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے۔ غالباً مغرب کی یہ سوچ کہ مذہب کو دنیوی امور سے الگ رکھنا چاہیے، ہمارے مذہبی شعور کا بھی حصہ بن گئی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک الگ موضوع ہے۔ دوسرا مسلہ سردست یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ  اپنے فرائض منصبی سے جی چُراتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کو بھی غیرسرکاری یا مشنری سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ ایک بیمار معاشرے کی زندہ مثال بھی۔ ایک استاد جس ادارے سے رزق پاتا ہے، اس ادارے کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے غیرموزون سمجھتا ہے۔ یہ واقعی ایک اخلاقی مسلٔہ ہے اور اس پر سب کو مل بیٹھ کر سوچنا  چاہیے اور یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ آخر کب تک؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ یا تو غیر سرکاری سکولوں کو اپنی تحویل میں لے لے یا سبھی سکولوں کے لئے یونیفارم بجٹ اور نصاب تشکیل دے۔ اس سے سال ہاسال سے نجی سکولوں کے اساتذہ کے ساتھ ہورہے استحصال کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اگر والدین کو بھی نظام تعلیم میں سٹیک ہولڈر بنا یا جائے توحکومت کے ساتھ ساتھ والدین بھی معیار تعلیم کی بہتری کے لئے سرگرم رہیں گے۔ اصل میں سرکاری اور غیرسرکاری سکولوں کی تفریق غریب اور امیر کے درمیان تفاوت کو بڑھاوا دیتی ہے۔ بھلا وہ وزیریا افسر تعلیمی نظام کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں جب وہ اپنے بچوں کے لئے مشنری اور ہائی کلاس پرایئویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں؟ جب تک پرائیویٹ اور پبلک سکول کی تفریق رہے گی، معیار تعلیم کے لئے کوئی کتنی بھی کوشش کرے یہ محض ایک بحث رہے گی، زمینی سطح پر کچھ نہیں ہوگا۔ 
ہم لوگ تعلیم سے غفلت کا وعظ کہتے ہیں، لیکن اصل مسلٔہ اداروں کی تفریق کا ہے۔ حضور  ﷺ  کے قولِ مبارک ہے جو شخص بچوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا ، وہ آپ  ﷺ کے متعلقین میں سے نہیں۔۔۔ بدقسمتی سے یہاں کا تعلیمی نظام خوف اور دہشت سے عبارت ہے اور بچے ذہنی دباو کا شکار ہیں۔ حقیقت میں ہماری عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے، اور وہ سوال جو دہائیوں سے ہمیں تک رہا ہے، ہمیں نظر نہیں آرہا۔ ہم اپنے اس متضاد نظام تعلیم کو کیوں برداشت کررہے ہیں، اور معصوم لاڈلوں پر کیونکہ ظلم ڈھا رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ 
 رابطہ:9469679449 
Email: abdulqayoomshah57@gmail.com