تازہ ترین

! دلی کی آغوش علی گڑھ کی بانہیں

ہم سفر شہر تھےہم قدم بستیاں

تاریخ    8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   


امتیاز عبد القادر بارہمولہ
 جامعہ ملیہ اسلامیہ اوکھلا کے جامعہ نگرعلاقے میںواقع ہے۔کیمپس زیادہ وسیع ویض تونہیں،البتہ عوام کے عبور و مرور کے لیے بنی سڑک کے اطراف میںمذکورہ یونیورسٹی کا احاطہ پڑتاہے۔ایک طرف ’’ایوانِ غالبؔ‘‘ اورسڑک کی دوسری جانب ’’باب ابولکلام آزاد‘‘ واقع ہے۔ شعبہ جات بکھرے پڑے ہیں۔’’ایوانِ غالب‘‘کے صدردروازے پرچچاغالبؔ کاپُتلا نصب شدہ ہے۔ حدتِ موسم ہو،بادِتندہویاموسلادھاربارشیں ،غالبؔ کاپتلاہاتھ میں’’کتاب‘‘ لئے علم کی پیاس بجھانے کی ترغیب دیتارہتاہے۔’’ایوانِ غالب ‘‘کے صحن میں طلباء و طالبات کا جم ِغفیررات دیر گئے تک کینٹین کا محاصرہ کئے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ کشمیر میں اگر ایسا منظر ہو تو انتظامیہ بھیڑ کی روح قبض کرنے کے لئے دفعہ۱۴۴؍ لگالیتی۔ یہاں چائے ، کافی، گرین ٹی کا غیرمختتم دور چلتا رہتا ہے۔ محمد شاہد صاحب نے ناچیز کوکافی کا عادی بنانا چاہا لیکن طبیعت نے اس سے اِبا کیا۔۲۸؍ جنوری کوجامع مسجداور لال قلعہ دیکھنے کا پروگرام بنا۔ شاہد لون صاحب اوراُن کے گلے کا’ہار‘ڈی۔ایس۔ایل۔آر کی رفاقت بھی تھی ۔میٹرو کا سفر دلچسپ رہا۔ نمازظہر پر ہم مسجد جہاں نما، جو جامع مسجد دہلی کے نام سے مشہور ہے، پہنچ گئے۔ جامع مسجد کو مغل بادشاہ شاہجہاں ؔنے تعمیر کیا ، ۱۶۵۶ء میں یہ قابل دید خانہ ٔ خدا مکمل ہوا۔ یہ پرانی دلی کے معروف ترین تجارتی مرکز چاندنی چوک کے قرب میں واقع ہے۔ مسجد کی تعمیر میں اُس زمانے کے ۱۰؍ لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی۔ شاہجہاںنے اپنے دور میں دہلی، آگرہ، اجمیر اور لاہور میں بڑی بڑی مساجد تعمیر کرائیں۔  جامع مسجددلی کے صحن تک مشرقی، شمالی اور جنوبی تین راستوں سے بذریعہ سیٹرھیاں رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مسجد کے شمالی دروازے میں ۳۹، جنوب میں ۳۳ اور مشرقی دروازے میں ۳۵ سیڑھیاں ہیں۔ مشرقی دروازہ شاہی گزرگاہ تھی، جہاں سے بادشاہِ وقت مسجد میں داخل ہواکرتا تھا۔ مسجد ۲۶۱ فٹ طویل اور ۹۰ فٹ عریض ہے۔ اس کی چھت پر تین گنبد نصب ہیں۔ ۱۳۰ ؍فٹ طویل دو مینار بھی مسجد کے رُخ پر واقع ہے۔ مسجد کے عقبی جانب چار چھوٹے مینار بھی چاندنی چوک کا نظارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نمازِ ظہر ادا ہو چکی تھی، اس لئے ہم نے دوگانہ نماز کسر انفرادی طور ادا کی۔ مسجد کے صحن میں ہر نسل، رنگ، ذات پات اور مذہب کے ماننے والے،ہنداوربیرونِ ہندسے آئے ہوئے سیاح سیلفیاں کھینچتے دکھائی دئے۔ مرد و زن کا اختلاط، سیلفی اسٹکس کی بھرمار، شور و غوغا، حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرنے والے کیمرے… ان سب چیزوں نے مسجد کا تقدس پامال کیا ہوا ہے۔ جامع مسجد دہلی اب معبد خانہ ہی نہیں بلکہ سیاحتی مقام کاروپ دھارن کرچکی ہے۔ مسجد کی موجودہ حالت کسمپرسی کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ شاہجہاں کی رُوح مسلمانانِ ہند کی اس بے حسی( یابے بسی ) پر ماتم کناں ہو گی۔ نذ و نیاز کے لیے چندہ جمع کیا جا تاہے لیکن مسجد کے ظاہری آثار مفلسی، قلاشی اور مفلوک الحالی کا تاثر دیتے ہیں۔ اس مسجد کے قرب و جوار میں آپ کو تقریباً سب کچھ ملے گاسوائے روحا نی طمانیت کے۔۔۔!
جامع مسجد سے نکل کر ہم رکشا پر لال قلعہ ہولئے۔ آدھ پون گھنٹہ بعد ہم اس تاریخی عمارت کے پاس آکھڑے ہوئے ۔اس کی اینٹ اینٹ مسلمانوں کے تاب ناک ماضی کی داستان سناتی ہے۔ ۲۶جنوری کی تقریبات یہاں حال حال ہی منعقد ہوئی تھی ،اس لیے اندر جانے کی کسی بھی عام شہری کو اجازت نہ تھی۔ صرف منظور ِنظر لوگ اُس د ن لال قلعہ کی پر شکوہ فصیلوں کے اُس پار جا سکتے تھے۔ ہند اور بیرونِ ہند سے آئے ہوئے سیاح باہر ہی ایک میدان میں دشت نوردی کا لطف لے رہے تھے۔ ۲۶؍ جنوری کے موقع پر ہندوستانی ریاستوں کی تہذیب و ثقافت کو جھانکیوں کی صورت میںدنیاکے سامنے پیش کیاجاتا ہے۔یہ ساری جھانکیاں اس وقت وہیں میدان میں موجود تھیں۔ اکثر سیاح ان کے سامنے یادگاری تصاویر لے رہے تھے۔ میں بھی وادی بے اَماں کشمیر کی جھانکی کے پاس کھڑا خیالوں کی دنیا میںحال سے ماضی کا سفر طے کر تے ہوئے تاریک مستقبل کے اندیشوںمیںگھراہواتھا۔ کچھ لمحہ بعد ماضی کے خیالوں میں گم صم حال کی طرف لوٹ آیا تو شاہد لون صاحب کو DSLR سے عکس بندی کرتے ہوئے پایا۔ 
دریائے جمنا کے کنارے واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یاد گار ہے۔ حالانکہ جمناوقت کے گال پر بہتے بہتے اب نا پید ہو چکی ہے اور اصل ندی کا حلیہ اب وہاں موجود ہی نہیں۔لال قلعہ کو سترہویں صدی میں شاہِ جہاں نے تعمیر کرایا تھا۔ اس قلعے کے دیوان خاص میں ’’ تخت ِ طائوس‘‘ واقع ہے، جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۸۵۷ء تک جاری رہا ۔ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک لال قلعہ برطانوی فوج کے قبضے میں رہا اور اس میں انہوں نے اُس زمانے کے آزادی کی جدوجہد کرنے والے’’ باغیوں‘‘ کو قید رکھا تھا۔ قلعے کے دو دروازے ہیں، جن میں سے ایک ’’دلی دروازہ‘‘ دوسرا’’ لاہوری دروازہ‘‘ کہلاتا ہے۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کے عقب کے دیواروں کو چھو کر گزرتی تھی  لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر رُکا رُکا بہتا ہے۔ ۴۷ء کے بعد سے اب تک ہر سال ہندوستان کے حکمران قلعے کی فصیل سے ، جو کہ مسلمانوں کی تعمیر کردہ ہے، قوم کو خطاب کرتے ہیں اورترنگالہراتے ہیں۔ 
راقم السطور بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر دلی پہنچاتھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کشمیر کے کسی پُرانے شہر میں گھوم رہاہوں۔ گلیاں اسی طرح گندی پائیں، سڑکوں پر اسی طرح تجاوزات دیکھیں، ہر طرف تعفن اور گندگی کے ڈھیر سے بدبو آرہی تھی ۔ جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں، وہاں خاص کر گلی کوچوں، سڑکوں ، شاہراہوں اور محلوں کی حالت زیادہ ہی دل آزوردہ ہے۔ یہ بستیاںانتظامیہ کی دانستہ لا پرواہی، تعصب اورعدم توجہی کی عینی گواہ ہیں۔ ۲۶؍ جنوری کے موقع پر کشمیر کی طرح دہلی بھی ایک محاصرہ زدہ شہر کی مانند دکھاء دیتا ہے۔ روایت یہ بنی ہے کہ پاکستانی شہریوںاور کبھی کبھی کشمیریوں سے ہوٹل اور گیسٹ ہائوس خالی کرالئے جاتے ہیں ۔ یہ بڑاہی نرالااندازہے جمہوریت کا ! شاہدلون صاحب کی معیت میں دلی میں مشہورعلماء و مصنفین مولانارضی الاسلام ندوی اورمولانا فاروق خان صاحب کا شرف دیدار حاصل کر نے گئے۔ معلوم ہوا کہ ندوی صاحب علی گڑھ گئے ہوئے تھے، البتہ صوفی منش بزرگ فاروق خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ موصوف بہت ہی پرسکون،مطمئن اورشوخ طبیعت کی حامل شخصیت ہیں۔عالم ِپیری میںہیںلیکن اپنی پوری زندگی تبلیغ و دعوت کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔اس عمرکے بزرگ گھروںمیں عموماًچین اورسکون کی زندگی بسرکرتے ہیں،سہارالے کراٹھتے بیٹھتے ہیںمگرموصوف کااوڑھنابچھونا وقت ِپیری میں بھی دعوت اسلامی،تحقیق وتصنیف اورقرآن واحادیث کے بحربیکراں کی غوطہ زنی بنا ہوا ہے۔انہوںنے ہندوستان کی اکثریت تک قرآن کاپیغام ہندی زبان میںترجمہ کرکے پہنچانے کی سعادت حاصل کی ہے۔احادیث پربھی ان کاغیرمعمولی علمی کام ہے۔ان کی تشریح و تفسیر متنوع خوبیوںکی حامل ہے۔داعیانہ،ادیبانہ وفلسفیانہ مزاج ان کے قلم سے نکلے ہر حرف سے مترشح ہوتا ہے۔شعرو شاعری کے میدان کے بھی شہسوارہے اورجوکوئی ان سے ملنے جائے اُسے اپناکلام مترنم آوازمیںسناتے ہیں۔ہماری خاطرتواضع رس گلوںسے کی، بعدازاںاپناکلام ِبلاغت نظام بھی سنایا۔رخصت ہوئے تواپنی تازہ کتاب تحفہ میںدے دی۔
دہلی میں چند روز قیام کے بعد واپسی کا رخت ِسفر باندھا۔ وادی کی ٹھنڈی ہوائیں، برف پوش پہاڑ، نسیم جاں کو معطر کرنے والی فضا پکار رہے تھے۔ شاہد لون صاحب سے بادل ناخواستہ رخصت لی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ تک وہ رکشا میں ساتھ تھے اور وہاں سے میں اپنے سفر دلی وعلی گڑھ کی یادیں حافظے کی پوٹلی میں سمیٹ کر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی طرف چل پڑا۔ ۲؍ بجے کی فلائٹ تھی۔ کچھ ساعتیں طیران گاہ میں گزارنے کے بعد طیار ہ بادلوں کو چیرتا ہوا سری نگر کی اور محو سفر تھا ۔ جہاز میں سفر کی یادیں قلب و ذہن کے دریچے میںاُترکر وسیم مکائی صاحب، عبد الحسیب صاحب، شفاعت مقبول صاحب،مزمل احمدصاحب ، شیخ منصور صاحب، محمد شاہد لون صاحب، ڈاکٹرعبد الرؤف صاحب او رسمیع اللہ بٹ کے مسکراتے چہرے کو آنکھوں کے سامنے منعکس کرتی رہیں۔ اُن سب کی رفاقت کا بہت شکریہ۔خیالات کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا تو خود کو سرز مین ِوطن کی آغوش میں پایا۔ 
(ختم شد)
رابطہ :  ریسرچ اسکالرکشمیریونیورسٹی،سرینگر
imtiyazabdulqadir@gmail.com