غــزلیـــــات

تاریخ    8 مئی 2022 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
اس زبانِ تلخ کا تلوار ہونا
ہائے نرگس کا چمن میں خار ہونا
تم نے پانی سے کِھلائے ہونگے باغ
ہم نے دیکھا آب کا ہے نار ہونا
رُخ بدلنے میں تیرا فنکار ہونا
میرے دل کا صاحبِ افکار ہونا
ہے ضروری رات بھر اذکار ہونا
میری غزلوں میں تیرا کردار ہونا
ہے مؤحد میرا دل مشرک نہیں
عشق کا  آساں نہیں سو بار ہونا
دل میں ہو  ایمان  یا  ہو کفر
ہے ضروری سر  پہ اب دستار  ہونا
تم گئے لیکن  یہ عادت نا گئی
 بے سبب بے ساختہ بے زار ہونا
ہجر کا ہے یہ خلشؔ عالی مقام 
آنسوؤں میں جام کا خمار ہونا
 
خلشؔ
لارم اننت ناگ،کشمیر
Khalish25x@gmail.com
محوِ خواب هوں نیند سے جگانا مت
کھل جائے گی حقیقت تو چُھپانا مت
یهاں کب کون بھرم رکھتا هے
حالِ دل کسی کو بتانا مت
میراث اَسلاف کی هے گر پیاری
جو هو سکے تو گنوانا مت
عاشقی میں صابر بن بیٹھا هوں
زهر جدائی کا کبھی پِلانا مت
بارِ احسان تیری عنایتوں کا
کرکے احسان کبھی جتانا مت
زندگانی  چار دن کی  چاندنی
گو جوانی په کبھی اِترانا مت
تیری رهگُذر کا مُسافر مشتاقؔ
خار رستوں په کبھی بچھانا مت
 
خوشنویس میر مشتاق
ایسو (اننت ناگ)
mirmushtaq649@gmail.com
 
مسجد میں آذاں یہ سدا ہے کہ غزل ہے
جلتا ہوا مندر میں دیا ہے کہ غزل ہے
پھولوں میں چھپی ہوش ربا ہے کہ غزل ہے
اوڑھے ہوئے خوشبو کی قبا ہے کہ غزل ہے
دیکھیں یہ قیامت ہے ادا ہے کہ غزل ہے
دلبر کا سراپا ہے قضا ہے کہ غزل ہے
معشوق کہ قاتل ہے مسیحا کہ غزل ہے
خسروؔ کہ اسدؔ ، میرؔ نوا ہے کہ غزل ہے
اچھا یا برا وقت گزرجاتا ہےآخر
حالات کے ماروں کی صدا ہے کہ غزل ہے
ایوان میں یہ دھوم مچی ہے نئی کیسی ؟
رقاصہ پہ شہزادہ فدا ہے کہ غزل ہے
کلیاں یہ امیدوں کی ابھی پھول بنی ہیں
گزری جو چمن سے یہ صبا ہے کہ غزل ہے
تنہائی کی یلغار سے مایوس نہ ہونا
بیمارِ محبت کی شفا ہے کہ غزل ہے
مومن کی اصالت ہے  یہ معراجِ محبت
سجدہ میں جبیںؔ اس کی سدا ہے کہ غزل ہے  
 
جبیں نازاں
لکشمی نگر، نئی دہلی
jabeennazan2015@gmail.com
 
 
تب یاد ہماری آئے گی
 
سب راز دلوں کے پھوٹیں گے
آزاد فضا کو کوٹیں گے
جب اپنے پرائے چھوٹیں گے
تب یاد ہماری آئے گی
 
جو روپ کے بھولے بھالے ہوں
 کیوں زلف فہم کے متوالے ہوں
جب جان کے پڑتے لالے ہوں
تب یاد ہماری آئے گی
 
 کیا راز دلوں کے واریں گے
جب لوگ انہیں دُھتکاریں گے
اور چلتے قدم پہ ڈھاریں گے
تب یاد ہماری آئے گی
 
جب پختہ ارادہ کر لو گے
پھر نیم شبی سے ڈر لو گے
احساسِ زیاں دم بھر لو گے
تب یاد ہماری آئے گی
 
جب باغِ اِرم کو کھوئے گا
فردوسِ گماں میں روئے گا
پھر چشمہ رواں سا ہوئے گا
تب یاد ہماری آئے گی
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ
 
 
انتظارِ گلِ رعنا نے کیا ہے مجھے سنگ
اس سفر میں مجھے لگتا رہا ہر شخص نہنگ
 
کر چکا خود کو ہواؤں کے حوالہ ترے بعد
اُڑ رہا ہوں میں فضاؤں میں یوں ہی مثلِ پتنگ
 
دل کی فریاد سناتے ہیں ترے ہاتھ بھی دیکھ
دل نہ چہتا ہو تو مہندی کا بھی چڑھتا نہیں رنگ
 
مجھ میں رہ رہ کے یہ اُٹھتا رہا مدت سے سوال
کس تمنا پہ یہ کہیے کہ ہے کیا دل کی اُمنگ
 
جب بھی پڑھتا ہوں اَتَجْعَلْ تو ستاتی ہے یہ سوچ
ایسا کیا کر دیا انساں کہ فرشتے ہوئے دنگ
 
شیخ سیف اللہ راہی
 پنگنور،
موبائل نمبر؛9491432393
ہر گھڑی پیارو محبت میں گزرے بھی
بات ہر اک شخص کے دل میں اُترے بھی
 
نفرتوں کی د نیا  سے آگے ہم چلیں
اب تو انساں نفرتوں سے تو اُبھرے بھی
 
عشق کو کم تر نہ  ہونے دو کبھی
عاشقی تو عشق میں ہر دم نکھرے بھی
 
چاند کو میں روک لوں گا  چھت پر ابھی
چاندنی میرے بھی آنگن تو بکھرے بھی
 
ساری بستی پھر چکا ہے آزاد ؔ وہ
اب تو ممکن ہے کہ میرے گھر ٹھہرے بھی
 
ایف آزاد دلنوی
دلنہ بارہمولہ،کشمیر
موبائل نمبر؛6005196878
 
کچھ نہیں وہ چشم تر کے سامنے
جو بھی منظر ہے نظر کے سامنے
 
مُدتّوں سے پھر بھی مِل پائے نہیں
اُس کا گھر ہے میرے گھر کے سامنے
 
دے نہیں پایا مجھے اُس کا پیام
جب میں آیا نامہ برکے سامنے
 
آدمی کا کوئی بس چلتا نہیں
گردشِ شام و سحر کے سامنے
 
کر نہیں پایا کوئی شِکوہ گِلہ
چُپ رہا اُس کی نظر کے سامنے
 
اجنبی سمجھا مُجھے اُس نے وہاں
مِل گیا اِک دن وہ گھر کے سامنے
 
ڈھونڈ لیتا ہوں میں حل اُنکا ہتاشؔ
مشکلیں ہُوں جو سفر کے سامنے
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین، جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 

تازہ ترین