یہ کیسی عید؟

تاریخ    8 مئی 2022 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
ماہ رمضان کے متبرک مہینے کو الوداع کہتے ہوئے جہاں تو (بے روزہ) روزہ داروں کی آنکھیں پر نم ہوتی ہیں، وہیں کئی عقیدت مند تو اس کی جدائی کے غم سے نڈھال ہوتے ہیں اور کچھ تو اسکے جانے  سے بے دم ہوجاتے ہیں اور ’’دہلی کھاؤ ‘‘(بے روزہ)چین کی سانس لیتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک قانون قدرت ہے، ہر چیز کا اپنا اپنا وقت مقرر ہوتاہے۔ انسان اپنے مقررہ وقت پر اس دنیا میں آتا ہے اور وقت مقررہ پر ہی یہ دنیا چھوڑ کر چلا جاتاہے۔ صبح کا چمکتا ہوا  سورج شام ہوتے ہی غروب ہوتاہے،  بہار کے موسم میں کھلے ہوئے پھول خزان میں مرجھا جاتے ہیں۔جو سر سبز چنار ہمیں چلچلاتی دھوپ میں چھایا دیتے ہیں وہی چنار پت جھڑ کے موسم میں الف ننگے ہوجاتے ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے  جس میں آجتک کوئی ترمیم نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔
بہر حال ماہ رمضان کی آخری شب کو شوال کے چاند کا دیدار ہوتے ہی بچوں، بزرگوں، نوجوانوں، مہہ جبینوں، الغرض سب کے دلوں کو قرار آجاتاہے کیونکہ آنے والے کل کو عید ہوتی ہے۔عید یعنی خوشیوں، مسرتوں، شادمانیوں کا دن۔غم کو بُھلا کر خوشیاں اور خر مستیاں منانے کا‌دن۔
اب کی بار بھی عید آئی،پورے عالم اسلام نے عید منائی۔ کسی نے جھومتے ہوئے منائی، کسی نے ایسے مانی تو کسی نے ویسے منائی مگر منائی تو سبھی نے۔کشمیر کے مسلمانوں نے بھی منائی، روکھی سوکھی ہی سہی، پھیکی پھیکی ہی سہی مگر منائی۔ بٹ، لیکن، کنتو، پرنتو میرے ذہن میں بہت سارے سوال گردش کر رہے ہیں جنکا جواب اگر کسی کے پاس ہوگا تو براہ کرم مجھے بھی آگاہ کرلیجیے۔
نو ڈاوٹ(No Doubt)، بیانڈ ڈاوٹ (Beyond doubt)،عید تھی مگر وہ گہما گہمی کہاںتھی،سڑکوں پر لوگوں کا وہ شوروغل کہاں تھا،وہ نوجوانوں کی خر مستیاں کہاںتھیں، بچوں کی وہ شوخ کلکاریاں کہاں تھیں،نازنینوں کے ہاتھوں میں وہ مہندی کہاں تھے، باغوں،پارکوں، میدانوں، گلستانوں،صحت افزا مقامات پر وہ چہل پہل کہاں تھے۔عید گاہوں، خانقاہوں، مسجدوں، آستانوں میں نمازیوں کے وہ ہجوم کہاں تھے، عید نماز کے بعد ایک دوسرے سے بڑے پر تپاک سے گلے ملنے کی روایت کہاں گئی، وہ بریانی کہاں،وہ شوخیاں کہاں ،وہ سیوویاں کہاں تھیں،وہ شرارے کہاں تھے، وہ غبارے کہاں تھے، وہ نظارے کہاں تھے، بزرگوں کی وہ دعائیں کہاں تھیں،وہ پیار سے عیدی دینا کہاں تھا،وہ بھائیوں بہنوں کا پیار کہاں تھا، وہ نانی کا دلار کہاں تھا،وہ سبزار کہاں تھا،وہ شیہجار کہاں تھا، وہ دلدار، دلقرار، غمخوار، وہ غمگسار کہاں تھے،وہ گل و گلزار کہاں تھے۔ وہ عید رؤف (عید کے رقص نغمے)کہاں۔ وہ رشتے داروں کا‌عید کے روز ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا کہاں تھا۔وہ دلوں میں پیار، محبت، شفقت، صداقت کہاں تھی۔ یہ سب کہاں ہے، کہاں ہے کہاں ہے۔
میں جواب کا کافی دیر تک انتظار کرتا رہا مگر کسی نے بھی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے خود ہی ان سارے سوالوں کا جواب ڈھونڈنکالا۔
بھائیو، بہنو، یہ سب روایات اسلئے نابود ہو چکی ہیں کیونکہ لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہیں، سر پر گراں بازاری کی تیز تلوار ہے،کوٹھدار بیزار ہیں، قصائی نادار ہیں،اداس دکاندار ہیں،خالی جیب لیکر خریدار ہیں،غریب لاچار ہیں،روتے زارو قطار ہیں،نوجوان بیروزگار ہیں، بڑی بڑی ڈگریاں لیکر در بہ در و خوار ہیں،نہ کار ہے، نہ بیوپار ہے نہ کاروبار ہے، منشیات کا گرم بازارہے، دل بیقرار ہے،زمانہ بے عار ہے، اداکار، قلمکار،موسیقار، پیش کار، ہدایت کار، فنکار، سب بیکار ہیں، بجلی رانی بیمار ہے، عوام بیزار ہے، سڑکوں، بازاروں پارکوں، گلیوں کوچوں میں بھکاریوں کے لشکر جرار ہیں، پاؤں سے گندے آٹے کی بیکری بسیار ہیں مگر ، خواب غفلت میں سرکار ہے، حاکم نشے میں سرشار ہے، خالی دربار ہے، پریشان عیال بار ہے، بے یارومددگار ہے، آگ سے متاثرہ لوگ بیشمار ہیں، انکا نہ کوئی غمخوار ہے نہ کوئی یارومددگار ہے، خالی وعدوں کی بھر مار ہے۔ آج یہاں کوئی مارتا تو کل وہاں کوئی مارتا ہے، نا‌معلوم بندوق بردار ہے، ہر گھر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انسانیت شرمسار ہے، کشمیر فائل کی ہا ہا کار ہے، بیٹا باپ سے بیزار ہے، باپ بیٹے سے بیزار ہے، نفرت کی دیوار ہے، نہ بجلی،نہ پانی نہ سڑک ہموار ہے۔ نہ سبزار(سبزہ زار) ہے، نہ شیہجار (سائے(ہے، ٹریفک جام کی ہا ہا کار ہے، پرائیویٹ سکولوں میں فیس پر تکرار ہے، گرتاہوا تعلیم کا‌معیار ہے، نقلی ڈگریوں کا باپار (بیوپار)ہے، ڈاییگنوزز سینٹرز پر مریضوں کی بھر مار ہے، غریب بھاری فیس دینے سے لاچار ہے۔ ڈیلی ویجرس پر نا مستقلی کی لٹکتی تلوار ہے، دائیں سے بھی وار ہے باییں سے بھی وار ہے، الغرض اِدھر سے بھی لار (پھٹکار)ہے 
ادھر سے بھی لار (پھٹکار)ہے۔‌بہ الفاظ دیگر یہاں بھی تلوار ہے اور وہاں بھی تلوار ہے۔ ایسے بازار میں عید کا وہ مزہ کہاں ہوتا۔
البتہ عید تو منانی تھی سو منائی۔ چکن بھی کھایا رستہ اور کباب کھایا، مشکہ بدجی کا بھات بھی کھایا، یخنی کھایی، چٹنی کھائی، سلاد کھائی، پلاؤ بھی کھایا، جوش میں آکر روغن جوش بھی کھایا، پنیر بھی کھایا، گوشتابہ بھی کھایا۔میرا ہمسایہ بھوکا رہا تو مجھے کیا؟
کسی کا‌ لخت جگر مارا گیا تو کیا ہوا،  میں تو زندہ ہوں نا ؟ کسی کا‌گھر اُجڈ گیا تو کیا ہوا، میرا گھر تو محفوظ ہے نا؟ 
���
آزادی بستی غوثیہ سیکٹر نٹی پورہ،موبائل نمبر؛9140484453
 

تازہ ترین